سپریم کورت کا مبارک ثانی کیس کا فیصلہ آئین،قانون اور شریعت سے متصادم قرار‘مسترد

اسلام آباد(آن لائن) ختم نبوت آل پارٹیز کانفرنس کے شرکاء نے سپریم کورٹ کی جانب سے مبارک ثانی کیس کے فیصلے کو آئین،قانون اور شریعت سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے،مقررین نے سپریم کورٹ سے فوری اصلاح اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فیصلہ کرنے والے چیف جسٹس سمیت تین ججز کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے۔منگل کو اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ناظم اعلیٰ وفاق المدارس قاری حنیف جالندھری نے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے جاری ہونے والا فیصلہ اور شائع کی گئی تفسیر شریعت اور قانون کے خلاف ہے‘سپریم کورٹ میں صرف ضمانت کا کیس تھا مگر سپریم کورٹ نے کچھ دفعات بھی ختم کردی ہیں اگرسپریم کورٹ مطالعہ کرتی تو یہ دفعات ختم نہ کرتی۔ انہوں نے کہاکہ ان دفعات کو ختم کرنا سپریم کورٹ کا حق نہیں تھایہ فیصلہ ٹرائل کورٹ میں جانا تھاسپریم کورٹ نے اس مجرم کو بری کردیا اور کہا کہ یہ دفعات نہیں لگتیں۔ انہوں نے کہاکہ کئی اداروں نے سپریم کورٹ کے کہنے پر رائے دی سپریم کورٹ کے فیصلے میں علما کی رائے کا کوئی ذکر نہیں تھا

انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے دوسرا فیصلہ پہلے فیصلے سے زیادہ متنازع ہے یہ فیصلہ غیر آئینی،غیر قانونی، غیر شرعی اور غیر دانشمندانہ ہے سپریم کورٹ اپنے فیصلے کا اصلاح کرے اور درست کرے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ علما کے موقف کی روشنی میں فیصلے کو درست کرے انہوں نے کہاکہ دوسرا راستہ یہ ہے کہ حکومت عدالت میں جائے یہ ہمارے ایمان اور عقیدے کا مسئلہ ہے تیسرا راستہ یہ ہے کہ حکومت ان ججز کے خلاف ریفرنس دائر کرے اگر حکومت ریفرنس نہیں بھیجتی تو دینی جماعتوں کی جانب سے ریفرنس جانا چاہیے انہوں نے کہاکہ پرائیوٹ جگہوں کو نجی خلوت کہا گیا ہے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے جھوٹ پر مبنی پریس ریلیز جاری کی یہ فیصلہ ان کا نہیں یہ کسی اور نے لکھ کر ان کو دیا ہے انہوں نے کہاکہ اس مجلس سے بھرپور مظاہرے کا اعلان ہونا چاہیے۔راوعبدالرحیم ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سپریم کورٹ کے تین فیصلوں میں قادیانیوں کو تبلیغ کی اجازت دے دی گئی ہے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ میں قادیانیوں کو وہ کچھ بھی دے دیا گیا ہے جو مانگا بھی نہیں گیا تھا انہوں نے کہاکہ مبارک ثانی کیس میں قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ظہیر الدین کیس میں قادیانیوں کو جعل سازی سے مسلمان ظاہر کرنے سے روکا گیا ہے مبارک ثانی کے موجودہ کیس میں قادیانیوں کو جعل سازی سے مسلمان ظاہر کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے

انہوں نے کہاکہ آئین نے قادیانیوں کو اقلیت تسلیم نہیں کیا بلکہ اسے گروہ کہا گیا اگر گستاخوں کو اکٹھے ہوکر مذہب بنانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تو ایک گروہ کو مذہب یا اقلیت کیسے قرار دیا جاسکتا ہے انہوں نے کہاکہ آئین کی خلاف ورزی کرنے پر تینوں ججوں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ مقصود احمد کا خطاب چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور دیگر دوججوں کے فیصلے کے خلاف ایک ہزار مفتیان عظام کو فتوی دینا چاہئے موجودہ چیف جسٹس کے عہدے کو توسیع دینے کے لئے حکومت کے ارادے سامنے آچکے ہیں اگلے چیف جسٹس کے تقرر کو نوٹیفکیشن جاری کیا جائے اگر موجودہ چیف جسٹس کا تقرری نوٹیفکیشن 82 روز قبل جاری کیا جاسکتا ہے تو اگلے چیف جسٹس کا نوٹیفکیشن جاری کیوں نہیں ہوسکتا ۔ چیئرمین جوانان پاکستان عبداللہ حمید گل نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو ڈی نیوکلیئرائزڈ اور ڈی اسلامائز کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے فیصلے نے مسلمانوں کے دل دکھی کئے ہیں ملک بھر کے تمام جید علما کرام کو پرامن انداز میں سپریم کورٹ کے باہر علامتی دھرنا دینا چاہئے انہوں نے کہاکہ نوجوان پورے ملک میں تحفظ ختم نبوت کے لئے تیار کھڑے ہیں۔ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے کہاکہ یہ کانفرنس مبارک ثانی کیس میں سپریم کورٹ کے دونوں فیصلوں کو مسترد کرے‘سپریم کورٹ اپنے فیصلوں کی تصحیح کرے اور سپریم کورٹ کے ججز کے خلاف متفقہ ریفرنس دائر کیاجائے‘

سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے فیصلے کی بھی توہین کی ہے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہاکہ سپریم کورٹ کسی قانونی ابہام کا تشریح کرسکتی ہے لیکن سپریم کورٹ کو قرآن و سنت سے متصادم فیصلے کا حق نہیں قادیانی پہلے آئین کو تسلیم کریں اور اپنے آپ کو غیر مسلم تصور کریں اس کے بعد ریاست اتفاق رائے سے قادیانیوں کیلئے طریقہ کار طے کرے انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ فیصلہ قوم کیلئے قابل قبول نہیں ہے اگر سپریم کورٹ عوام کے سامنے کھڑی ہوگی تو یہ ان کیلئے بھی یہ نقصان دہ ہے انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس اپنی غلطی کو تسلیم کرکے فیصلے کو درست کریں انہوں نے کہاکہ موجودہ چیف جسٹس کے عہدے کو کسی بھی طرح توسیع اشتعال پیدا کردے گا سپریم کورٹ ججز اسلامیان پاکستان کے سامنے کھڑے نہ ہو ں اور سپریم کورٹ ججز اپنی غلطی درست کرلیں۔۔۔۔اعجاز خان

Comments are closed.