بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی نئے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیخلاف درخواست غیرموثر قرار

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی نئے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیخلاف درخواست غیرموثر قراردیتے ہوئے خارج کردی ہے اور درخواست کواحتساب عدالت میں ضمانت بعدازگرفتاری کے تحت درخواست دائرکرنے کاقانونی راستہ اختیار کرنے کامشورہ دیاہے ۔بدھ کو بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی نیا توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس بابرستار نے سماعت کی،بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر عدالت کے سامنے پیش ہوئے،نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ توشہ خانہ ریفرنس فائل ہو چکا ہے،اب ان کے پاس ضمانت بعدازگرفتاری دائر کرنے کا اختیار ہے۔سلمان صفدر نے کہاکہ عدالت پہلے ہی کہہ چکی ہے کال اپ نوٹسز مبہم تھے،توشہ خانہ تحائف کے کیس میں یہ دوسری کارروائی کررہے ہیں،جب عدالت کے سامنے بنیادی حقوق کے سوال موجود تھے پھر کیسے یہ ریفرنس دائر کرسکتے تھے،عدالت نے استفسار کیا آئی او صاحب آپ گئے تھے،تفتیشی افسر نے کہاکہ میں گیا تھا انہوں نے جواب جمع کرادیاتھا، سلمان صفدرنے کہاکہ اج ہمارے پاس چار کیسز ہیں ، عدالت نے پوچھاکہ کیا ریفرنس دائر ہو گیا ہے اس پر نیب پراسیکیوٹڑنے بتایاکہ جی بالکل ریفرنس دائر ہو چکا ہے

،سلمان صفدرنے کہاکہ نیب کال آپ نوٹس کی بات کریں تو وہ ایک فیک نوٹس تھا،سلمان صفدر کی جانب سے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے حوالے بھی دیے ،اور کہاکہ نیب کی جانے سے کال آپ نوٹس آرٹیکل 13 کی خلاف ورزی ہے، عدالت نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ نوٹس کس تاریخ کو بھیجا گیا، گزشتہ سماعت میں نیب کا مقصد تاخیر کرنا تھا جس میں وہ کامیاب ہوا، اعتراض کیا گیا کہ ہم تفتیش میں شامل نہیں ہوئے ،مگر اب ہم شامل تفتیش ہو گئے ، عدالت نے نیب افسرسے پوچھاکہ کیا آپ تفتیش کے لیے اڈیالہ جیل گئے تھے، نیب آفسر نے بتایاکہ جی بالکل ہم گئے تھا سوال نامے کا جواب مل گیا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہاکہ نیب نے جواب حاصل کرنے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ریفرنس دائر ہر دیا، سلمان صفدرنے کہاکہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں نئے کال آپ نوٹس سے متعلق 6 اٹیمٹ کیں، دو تاریخوں میں رجسٹرار آفس نے کیس کینسل کر دیا پھر جلد سماعت کی درخواست دائر کی، سلمان صفدر سے عدالت نے پوچھاکہ کال آپ نوٹس کب آیا ؟ اس پر سلمان صفدر نے بتایاکہ 9 اپریل کو نیب کی جانب سے کال آپ نوٹس آیا ، ایک ایشو مکمل ہو گیا 33 دن بعد ملزمان کو جوڈیشل کر دیا گیا، بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ، ضمانت قبل از گرفتاری اس عدالت کے پاس ہے اس لیے ضمانت بعد از گرفتاری دائر نہیں کی گئی ، عدالت نے کہاکہ آپ ضمانت بعد از گرفتاری کے لیے نیب کورٹ سے ریمیڈی کلیم کریں بعدازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشری بی بی کی نئے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کیخلاف درخواست غیرموثر قراردیتے ہوئے خارج کردی۔

Comments are closed.