اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ اف پاکستان نے مبارک ثانی نظرثانی فیصلے میں درستگی سے متعلق وفاقی حکومت کی اپیل منظور کرتے ہوئے ہوئے نظرثانی فیصلے کے پیراگراف نمبر 7 کو خذف کردیا۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مبارک ثانی نظرثانی فیصلے کے خذف شدہ پیراگراف کو عدالتی نظیر کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے نظرثانی فیصلے کے پیراگراف 7، 42 اور 49 سی کو خذف کردیا۔عدالت میں علماء کی جانب سے تینوں پیراگرافس کو خذف کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ نظرثانی فیصلے کے خذف کردہ پیراگرافس میں قادیانیوں کی ممنوعہ کتاب، قادیانیوں کی تبلیغ سے متعلق ذکر کیا گیا تھا جبکہ دوران سماعت مولانا فضل الرحمان نے عدالت میں رائے دی تھی کہ سپریم کورٹ صرف خود کو ضمانت تک محدود رکھے۔نظرثانی فیصلے کے خذف کردہ پیراگرافس میں قادیانیوں کی ممنوعہ کتاب، قادیانیوں کی تبلیغ سے متعلق ذکر کیا گیا تھا۔یہ درخواست مفتی تقی عثمانی ،مولانا فضل الرحمان سمیت دیگر مفتیان اورعلماکرام نے کی تھی ۔دوران سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم سے کوئی غلطی ہوجائے تو اس کی اصلاح بھی ہونی چاہیے، پارلیمان کی بات سر آنکھوں پر ہے، آئین کی پچاسویں سالگرہ پر وہ خود پارلیمنٹ میں گئے ، آپ کا شکریہ آپ ہمیں موقع دے رہے ہیں،کبھی کوئی غلطی ہو تو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، جنہوں نے نظرثانی درخواست دائر کی ان کا شکریہ۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ نظرثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا توپارلیمنٹ اور علمائے کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا، کہا گیا حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے۔ اسپیکر قومی اسمبلی کا خط ملا تھا اور وزیراعظم نے بھی ہدایات دی تھیں، ظاہر ہے دوسری نظرثانی تو نہیں ہوسکتی، اس لیے ضابطہ دیوانی کے تحت آپ کے سامنے آئی ہیں، فریقین کو نوٹس جاری کردیے گئے تو فریقین عدالت میں اور ویڈیولنک کے ذریعے پیش ہوئے ہیں، معاملہ مذہبی ہے تو علماکرام کو سن لیا جائے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کون کون سے علما کرام عدالت میں موجود ہیں؟ ہم تعین کرناچاہتے ہیں کہ ہماری کون کون رہنمائی کریگا، چیف جسٹس نے مولانا فضل الرحمان سے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی یا اعتراض ہے توبتائیں، دیگر اکابرین کو بھی سنیں گے۔ سپریم کورٹ میں مبارک ثانی کیس کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی جانب سے دائر کردہ نظرثانی اپیل پر سماعت کی۔ ترکیہ میں موجود مفتی تقی عثمانی وڈیو لنک کے ذریعے آن لائن شریک ہوئے جب کہ مولانا فضل الرحمان، اٹارنی جنرل اور دیگر عدالت میں موجود تھے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت کی ۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ مبارک ثانی کیس کی نظرثانی میں جب آپ نے فیصلہ دیا تو پارلیمنٹ اور علما کرام نے وفاقی حکومت سے رابطہ کیا، کہا گیا کہ حکومت کے ذریعے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے، اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے خط ملا تھا اور وزیراعظم کی جانب سے بھی ہدایات کی گئیں تھی، ظاہر ہے دوسری نظرثانی تو نہیں ہوسکتی،اس لے ضابطہ دیوانی کے تحت آپ کے سامنے درخواست آئی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کی جانب سے فریقین کو نوٹسز جاری کردیے گئے تو فریقین عدالت میں اور ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے ہیں، کیونکہ معاملہ مذہبی ہے تو علمائے کرام کو سن لیا جائے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن مجبور ہوں، میں ہر نماز میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ مجھ سے کوئی غلط فیصلہ نہ کروائے، انسان اپنے قول فعل سے پہچانا جاتا ہے، پارلیمان کی بات سر آنکھوں پر ہے، آئین کی 50 ویں سالگرہ پر میں خود پارلیمنٹ گیا۔سپریم کورٹ نے عدالت میں موجود مولانا فضل الرحمان، مفتی شیر محمد اور دیگر موجود علماء سے معاونت لینے کا فیصلہ کیا، ابو الخیرمحمد زبیر جماعت اسلامی کے فرید پراچہ بھی عدالت کی معاونت کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے مفتی تقی عثمانی سے بھی معاونت کا کہا تھا وہ ترکیہ میں ہیں، ہم نے مفتی منیب الرحمان کو آنے کی زحمت دی وہ نہیں آئے۔
اس پر مفتی منیب کے نمائندے نے کہا کہ مجھے مفتی منیب الرحمان نے بھیجا ہے۔دوران سماعت مفتی تقی عثمانی ترکیہ سے بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش ہوگئئے اورانھوں نے سپریم کورٹ فیصلے کے دو پیراگراف حذف کرنے کی استدعا کر دی انھوں نے کہاکہ پیراگراف نمبر 7اور42 کو حذف کیا جائے، مفتی مفتی تقی عثمانی کا مقدمہ سے دفعات ختم کرنے کے حکم میں بھی ترمیم کی استدعا کی اور کہاکہ عدالت دفعات کا اطلاق ہونے یا نہ ہونے کا معاملہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑے، ۔اصلاح کھلے دل کیساتھ کرنی چاہیے، عدالت نے لکھا ہے کہ قادیانی مبارک ثانی نجی تعلیمی ادارے میں معلم تھا، گویا عدالت نے تسلیم کر لیا کہ قادیانی ادارے بنا سکتے ہیں، عدالت نے کہا قادیانی بند کمرے میں تبلیغ کر سکتے ہیں،قانون کے مطابق قادیانیوں کو تبلیغ کی کسی صورت اجازت نہیں ہے، عدالت نے سیکشن 298C کو مدنظر نہیں رکھا، اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اگر ہم وضاحت کردیں تو کیا یہ کافی ہوگا؟ اس پر مفتی تقی عثمانی نے کہاکہ عدالت وضاحت کے بجائے فیصلے کے متعلقہ حصہ حذف کرے، اس ووران جے یوآئی ف کے سربراہ مولانافضل الرحمان ییش ہوئے اور کہاکہ وہ: مفتی تقی عثمانی کی رائے سے مکمل اتفاق کرتے ہیں،چاہتے ہیں عدالت اپنا پورا فیصلہ واپس لے،یہ مقدمہ مبارک ثانی کی ضمانت کا تھا، عدالت اپنے فیصلے کو ضمانت تک محدود رکھے، مبارک ثانی کا ٹرائل متعلقہ عدالت میں چلتا رہنا چاہیے، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ کے والد مفتی محمود میرے والد کے انتقال پر تعزیت کیلئے آئے تھے،میرے والد پاکستان کیلئے جنگ لڑ رہے تھے،تاریخ یاد رکھنی چاہیے اگر پاکستان کا خواب پورا نہ ہوتا تو میرے والد کا کیا ہونا تھا یہ سوچیں، اس پر ،مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ آج آپ غلطی کی اصلاح کرکے بھی تاریخ ہی رقم کر رہے ہیں، : اپنی 72 سالہ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی عدالت میں پیش ہوا ہوں، عقیدہ ختم نبوت کیلئے پیش ہونا باعث نجات ہوگا، مرزا غلام احمد قادیانی کہتا تھا اس پر ایمان نہ لانے والے کافر ہیں، یہ تو کہا جاتا ہے کہ ہم انہیں غیر مسلم کہتے ہیں لیکن جو وہ کہتے ہیں اس پر بات نہیں ہوتی، قادیانی مرتد ہیں تو ہم نے انہیں غیر مسلم کا نام کیوں دیا یہ سوال بھی ہے؟ ہم پاکستان میں غیر مسلوں کے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرنا چاہتے۔اس موقع پر کمرہ عدالت میں چند علمائے کرام نے احتجاج شروع کردیا۔احتجاج کرنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ خاموش ہو جائیں، انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے مکالمہ کیا کہ مولانا صاحب ان کو سمجائیں، مولانا فضل الرحمن نے جواب دیا کہ آپ کی عدالت ہے آپ کا حکم چلے گا، آپ اس کیس کو کسی نتیجے تک پہنچائیں۔دوران سماعت تیمور ملک ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہاکہ میری نظرثانی درخواست کافی دن سے زیرالتواء ہے
، میرے درخوست چھوڑ کر حکومت کی درخواست لگا دی گئی ہے، سپریم کورٹ میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے، اس دوران سماعت میں ایک مرتبہ پھر عدالت میں ماحول تلخ ہوگیا ،مفتی شیر محمد کے عدالت میں دلائل جاری تھے کہ اس دوران چیف جسٹس نے کہاکہ نوجوان اور وکلا علما کو سنیں ہم بھی تحمل سے سن رہے ہیں، اس پر ریاض حنید راہی ایڈووکیٹ نے کہاکہ ہم علما کے ماتحت نہیں ہیں، میں نے قانونی نکتے پر درخواست دائر کی ہے، عدالت ہمیں درس دینے کے بجائے قانون کے مطابق فیصلہ کرے، مفتی شیر محمدنے دلائل میں کہاکہ میں سرزمین مقدس پر خصوصی دعا کر کے واپس آیا ہوں کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے۔ مسلمہ کذاب کو حضرت ابوبکر صدیق نے مکمل روک دیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے فیصلے میں لکھا ہے کہ قانون کے خلاف کچھ نہیں ہوسکتا،295c بھی قانون کے تابع ہے، مفتی شیرمحمدنے کہاکہ پیراگراف 27,28,29,33,39پر بھی غور کرنا ہوگا، قادیانیوں کو باقی اقلیتوں سے الگ کردیا جائے گا تو ان پیراگراف پر بھی غور کرنا ہوگا، قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ نجی مقامات پر قادیانی اپنی تعلیمات کا پرچار کریں گے، قانون کے تابع کرنے سے انہیں نجی مقامات پر بھی اجازت ختم ہوگی، عدالت واضح کرے کہ قانون کے مطابق قادیانی نجی مقامات پر بھی تبلیغ نہیں کرسکتے، پیراگراف 7اور42 کو مکمل حذف کرنا ہوگا،قرآن میں تحریف کرنا بھی توہینہے ،چیف جسٹس نے کہاکہ ایک شکوہ مجھے بھی ہے، بعدازاں مفتی طیب قریشی نے دلائل کاآغاز کیااورکہاکہ مجھ سے پہلے جن علما نے رائے دی ہے ان سے متفق ہوں، قادیانیوں نے اپنی تفسیر صغیر مسلمانوں کی طرز پر ترتیب دی ہے، کوئی عام مسلمان اپنی اور قادیانیوں کی تفسیر میں تفریق نہیں کر پاتا، عدالت سے ہاتھ باندھ کر استدعا کر رہا ہوں کہ مسلمان مضطرب ہیں انہیں تسلی دیں، جو تجاویز علما نے دی ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے، مفتی طیب قریشینے چیف جسٹس کو پشاور میں مسجد معابد خان کے دورے کی دعوت دی چیف جسٹس نے کہاکہ یہ مسجد شاید چوک یادگار میں ہے؟میرے والد نے تحریک پاکستان میں سب سے بہترین تقریری چوک یادگار میں کی تھی، میرے والد کہتے ہیں سارا مجمع مسلم لیگ مخالف تھا تقریر کے بعد سب نے قائداعظم کے نعرے لگائے، صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے دلائل کا آغاز کیااور کہاکہ سپریم کورٹ نظرثانی فیصلے کا پیراگراف 42 حذف کرے، چیف جسٹس نے کہاکہ فیصلے میں جو غلطیاں ہیں ان کی. نشاندہی کریں، اس میں ہماری کوئی انا نہیں بلاججک رہنمائی فرمائیں، صاحبزادہ ابو الخیر زبیرنے کہاکہ آپ نے بڑے پن کا مظاہرہ کر کے اپنی غلطی تسلیم کی اور علما سے رائے مانگی، آپ نے گزشتہ سماعت پر بھی وکلاکو نہیں سنا، قانون کا معاملہ وکلا ہی بہتر سمجھا سکتے ہیں، علمااور وکلاکو وقت دیں تاکہ مکمل تفصیلات سے رہنمائی دی جاسکے، چیف جسٹس نے کہاکہ آپ اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز سے متفق ہیں یا نہیں، اس پر صاحبزادہ ابو الخیر زبیرنے کہاکہ ہم اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز پر متفق ہیں، عدالتی فیصلے میں ختم نبوت کے معاملہ پر بحث کی گئی،معاملہ صرف مبارک ثانی کی ضمانت کی حد تک رکھیں
،سات ستمبر کو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے پچاس سالہ جشن منا رہے ہیں، سات سمتبر کو مینار پاکستان میں جشن منائیں گے، ختم نبوت کا معاملہ حساس ہے اس میں ہر عاشق رسول اپنا موقف رکھنا چاہتا ہے، پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتیں اس معاملے پر ایک پیج پہ ہیں، ہم حیدر آباد سے آئے ہیں آپ نے عدالت آنے والے تمام تمام راستے بند کرائے، چیف جسٹس نے کہاکہ یہ الزام مجھ پر مت لگائیں اس سے میرا تعلق نہیں، صاحبزادہ ابوالخیرزبیرنے کہاکہ یقین ہے آپ عاشق رسول کی طرح فیصلہ دیں گے، ماعت اسلامی کے فرید پراچہ نے دلائل میں کہاکہ قادیانی اپنے اپکو غیر مسلم نہیں مانتے اسی وجہ سے یہ مسلہ پیدا ہوتا ہے، قادیانیوں کا اپنے آپ کو مسلمان کہنا جرم ہے، قادیانی پانی تشہیر گھر کی چاردیواری میں کریں یا باہر وہ جرم ہے، قتل گھر کے اندر ہو یا باہر دونوں صورتوں میں جرم ہے، قادیانیوں کو اپنے عقائد کو مسلمانوں کی طرح کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتے، عدالتی فیصلے کے پیرا سات سے ہمیں اعتراض ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمن صاحب نے جو تفصیلات رکھی اس کے علاوہ کوئی نئی بات ہے تو بتائیں، اس پر فریدپراچہ نے کہاکہ یہ صرف مبارک ثانی کیس کا معاملہ نہیں بلکہ سو سالہ جہدوجہد اور تاریخ کامعاملہ ہے، عدالتی فیصلے کے پیرا 37،38،39،40،اور 49 سی میں کا بھی دوبارہ جائزہ لیں،ذہبی سکالر عطاالرحمن نے دلائل میں کہاکہ کچھ چیزیں قابل تعریف ہیں ان کا زکر ہونا چاہیے، آپ عدالتی فیصلوں پر قرآنی آیات کا حوالہ دیتے ہیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر کا معاملہ قابل تحسین اقدام تھا،شریعت اپیلیٹ بنچ کئی عرصے سے التوا تھا اسے آپ نے مکمل کیا،مبارک ثانی کیس میں ہمیں امید ہے یہ آخری موقعہ ہوگا اور مناسب فیصلہ آئے گا ،قادیانیوں کا مسلہ یہ ہے وہ تو آئین پاکستان کو ہی نہیں مانتے،قادیانی ابھی بھی تفسیر صغیر کی تشہیر کررہے ہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ اس پر تو پھر ایف آئی آر کاٹی جاسکتی ہیعطالراحمان نے کہاکہ اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز پر ہم دیگر علما کی طرح متفق ہیں، مسلمانوں کے جذبات اس معاملے سے جڑے ہوئے ہیں ، چیف جسٹس نے کہاکہ قادیانیوں کو آئین اور قانون کے مطابق حقوق دو صورتوں میں ملیں گے؟ قادیانی خود کو غیر مسلم تصور کریں یا پھر ختم نبوت کو مان لیں؟ عطاالرحمان نے کہاکہ آئین کہتا ہے قرآن اور سنت کے برعکس کوئی قوانین نہیں بن سکتے، لطیف کھوسہ نے کہاکہ میرا اور صاحبزادہ حامد رضا کا نام بھی فہرست میں شامل کریں، ہم پارلیمانی کمیٹی اور پارلیمنٹ کی نمائندگی کر رہے ہیں،چیف جسٹس نے کہاکہ کھوسہ صاحب پارلیمنٹ تو عدالتی فیصلے کالعدم بھی قرار دے سکتی ہے،پارلیمان میں جا کر اپنا اختیار استعمال کریں۔بعدازاں عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے درج بالا پیراگرام حذف کرا دیے۔
Comments are closed.