پاکستان کی سلامتی اور سکیورٹی اداروں پر وار ریڈ لائن ہے ، اسحاق ڈار

لاہور (آن لائن) نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی اور سیکیورٹی اداروں پر وار ریڈ لائن ہے ، ریڈ لائن کراس کرنے کوئی گنجائش نہیں ، قانون اپنا را ستہ بنا رہا ہے جو ہو گا وہ سب کے سامنے آ جائے گا ، ناراضگی کے نام پر کسی کو دہشتگردی کی ا جازت نہیں دی جا سکتی ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا داتا دربار پر مدینہ منورہ کی طرز پر آٹو میٹک چھتریاں لگانے کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے ۔ دربار کے دونوں اطراف تو سیع بھی کی جائے گی ۔ جلد منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستاں کی بہتری ،ترقی اور خوشحالی کے لئے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ ناراضگی کے نام پر کسی کو دہشتگردی کی ا جازت نہیں دے سکتے ۔ انہوں نے کہ ملک کے گلگت، آزادکشمیر سمیت ملک کے چاروں صوبے گلدستہ کی مانند ہیں ۔ یہ ملک کلمہ شریف کے نام پر حاصل کیا گیا جو روز قیامت تک قائم رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی تقدیر مسلم دنیا کے ستاون مما لک کی قیادت کرنا ہے ۔ اٹھائیس مئی انیس سو ننانوے کو میاں نواز شریف کی قیادت میں ملک ایٹمی طاقت بننے کے بعد اب میزائل قوت بھی بن چکا ۔ جس کے بعد آنے والے کل میں اس ملک نے معاشی قوت بھی بننا ہے

۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاسی عدم استحکام نہ آتا تو آج یہ ملک معاشی قوت بھی بن چکا ہوتا ۔ جب میاں نواز شریف کو نکالا گیا اس وقت یہ ملک معاشی ترقی کرنے والے ممالک میں چوبیسویں نمبر پر تھا ۔ گلوبل رپورٹ میں بھی پاستان کو تیز رفتار ترقی کرنے والے ممالک میں شامل کی جارہا تھا ۔ تاہم اب رونے کا کوئی کا فائدہ نہیں ہے ۔ آج مہنگائی کا طوفان ہے بجلی کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں لیکن انشاللہ وزیرا عظم شہبا ز شریف اور نواز شریف کی قیادت میں ایک بار پھر ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا ۔ حکومت دن رات ملک کو معشی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے کوشاں ہے ۔ اور یہ اسی کوشش کا نتیجہ ہے کہ گذشتہ سال مہنگائی کی جو شرح اڑتیس فیصد تھی وہ اب کم ہو کر گیارہ فیصد تک رہ گئی ہے ۔ انہوں نے کہا اس ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو چکا تھا ۔ نواز شریف کے دور میں لوڈ شیڈنگ بھی ختم ہوئی تاہم ایک بار پھر دہشتگردی نے اس ملک میں سر اٹھا لیا ہے ۔

تاہم ناراضگی کے نام پر اب کسی کو دہشتگردی کی اجازت نہیں دیں دہشتگردوں کا قلع قمع کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا پاکستان کی سلامتی اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف جنگ ریڈ لائن ہے اور یہ ریڈ لائن کراس کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ قانون اپنا راستہ بنا رہا ہے جلد اس کے نتائج سامنے آئیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ کہ سارے مل کر محنت کریں تو پاکستان وہ مقام حاصل کرے گا، جس کا خواب علامہ اقبال اور قائداعظم نے دیکھا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب نے 14 روپے فی یونٹ کم کیا ہے تو آپ دوسرے صوبوں پر ٹھو نس نہیں سکتے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کے ریلیف کے اقدامات پر تنقید سمجھ سے بالاتر ہے، پیپلزپارٹی کے ساتھ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو حل طلب نہ ہو، بلاول بھٹو نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 126 دن کا جو دھرنا میری وجہ سے مذاکرات پر ختم ہوا، پی ٹی آئی کے جلسے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے چیف کمشنر نے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا، آپ جان بوجھ کر ایسا دن منتخب نہ کریں کہ لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنے پڑے، مقام اور دن کا تعین ایسا کریں کہ سرکاری کام میں خرابی نہ ہو

Comments are closed.