دہشت گرد ہماری کمزوری سے آسان ہدف تلاش کرتے ہیں ، سرفراز بگٹی
کوئٹہ (آن لائن) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی نے کہا کہ آج بلوچستان کی فضاء اور لوگ غمزدہ ہے گزشتہ روز بربریت کے واقعہ میں متاثر ہونے والے 53 خاندانوں کے ساتھ ہیں دہشت گرد ہماری کمزوری سے آسان ہدف تلاش کرتے ہیں اور اپنا وار کرکے آبادی میں چھپ جاتے ہیں بلوچستان کے مسائل کے حل کیلئے وفاق اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کو جب بھی بلوچستان آنے کا کہا ہے وہ اسی وقت آئے ہیں ان کا بلوچستان آنا خوش آئند ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں منعقدہ امن وامان کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیرداخلہ کوئٹہ آئے ہیں امن وامان کے حوالے سے تبادلہ خیال ہواہے ہماری فورسز نے ڈٹ کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیاہے اور ہم گزشتہ روز دہشت گردی کانشانہ بننے والے 53 خاندانوں کے ساتھ ہیں انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہماری کمزروی سے دہشت گردی کے لئے آسان ہدف تلاش کرتے ہیں لیکن گزشتہ روز فوری رسپانس کرتے ہوئے کیپٹن اور دیگر جوانوں نے شہادت کا رتبہ پایا ہے اور شہید ہونے والا کیپٹن اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا جس کی 10 ماہ کی بیٹی ہے اور اس کا والد کینسر کا آخری اسٹیج پر مرض میں مبتلا ہے حکومت اور سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کوکیفر کردار تک پہنچائیں گے انہوں نے کہا کہ بلوچستان غم کی حالت میں ہے ہمیشہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان میں غم کی گھڑی میں ساتھ دیا ہے ایک فون کال پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بلوچستان تشریف لے آتے ہیں اس سے قبل ڈپٹی کمشنر پنجگور کے واقعہ کے بعد تربت ان کے گھر بھی گئے اور گزشتہ روز پیش آنے والے سانحہ کے بعد آج ایک بارپھر کوئٹہ آئے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں 4 ہزار کلو میٹر سے زائد طویل قومی شاہراہیں ہیں اور بلوچستان پاکستان کا سب سے صوبہ ہے اور دہشت گرد آسان ہدف تلاش کرکے اپنا وار کرکے چھپ جاتے ہیں ان پیچھا کیا جارہا ہے اور وہ اپنے منطقی انجام کو بہت جلد پہنچیں گے۔
Comments are closed.