الیکشن کمیشن،تحریک انصاف کی انٹرا پارٹی انتخابات کیس میں سپریم کورٹ کی وضاحت آنے تک سماعت ملتوی

اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی انٹرا پارٹی انتخابات کیس میں سپریم کورٹ کی وضاحت آنے تک سماعت کو ملتوی کردیا ۔ منگل کو پی ٹی آئی کی جانب سے بیرسٹر گوہر اور ایڈووکیٹ عائشہ خالد اور عذیر بھنڈاری ایڈوکیٹ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت وکیل پی ٹی آئی عذیر بھنڈاری نے بتایا کہ ایف آئی اے نے چھاپا مار کر ہمارا تمام ریکارڈ ضبط کر لیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے چار درخواستیں دائر کروائی ہیں، ہمارے پاس اصل دستاویزات اور الیکٹرانک ریکارڈ بھی موجود نہیں ہے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آپ نے ویڈیو دیکھی ہے، یہ ہمارا واٹر ڈسپینسر بھی لے گئے، وکیل نے مزید بتایا کہ الیکشن کمیشن ہدایت دے تو ریکارڈ ایف آئی اے سے حاصل کیا جا سکتا ہے

۔پی ٹی آئی وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیئے کہ الیکشن کمیشن نے ایک سوالنامہ بھیجا تھا، پہلا سوال تھا کہ تحریک انصاف کی اب کیا حیثیت ہے، اس سوال کا جواب سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق شارٹ آرڈر میں آ گیا ہے، سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر لیا جائے تو اس بات کی وضاحت ہو جائے گی انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ سے وضاحت مانگی ہے۔ اس درخواست میں الیکشن کمیشن نے کہا کہ تحریک انصاف کا کوئی انتظامی ڈھانچہ نہیں ہے لیکن ہم الیکشن کمیشن کی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اس پر ممبر کمیشن خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ہم نے تحریک انصاف کے نئے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق سپریم کورٹ میں کوئی گزارش نہیں کی، ہم نے سپریم کورٹ سے پوچھا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات تسلیم ہونے تک پارٹی سرٹیفکیٹ کس کے تسلیم کیے جائیں جس پر بیرسٹر گوہر نے جواب دیا کہ آپ نے جن 39 ارکان کو پی ٹی آئی کا تسلیم کیا انہیں بھی سرٹیفکیٹ میں نے جاری کیے، ممبر خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم نے آپ کے دستخط کے باعث 39 ارکان کے سرٹیفکیٹ تسلیم نہیں کیے بلکہ سپریم کورٹ کے حکم پر کیے ہیں جس پر وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کافیصلہ الیکشن کمیشن کے سامنے ہے انہوں نے کہاکہ سیاسی پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن درست ہیں یا نہیں؟

اس کا فیصلہ الیکشن کمیشن نہیں کرسکتا ہے اس موقع پر ممبر کمیشن سندھ نے دریافت کیا کہ آپ اب چاہتے کیا ہیں جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کی وضاحت یا تفصیلی فیصلہ آنے تک الیکشن کمیشن اس کیس کی سماعت نہ کرے۔ وکیل عذیر بھنڈاری کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کی جانچ پڑتال الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ۔ الیکشن کمیشن صرف یہ دیکھ سکتا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے تھے یا نہیں‘ الیکشن کمیشن پہلے دائرہ اختیار کا فیصلہ کرے اس پر ڈی جی لاء نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اپنے شارٹ آرڈر میں کہا تھا کہ صرف 41 آزاد ارکان کے پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کروائے جائیں سپریم کورٹ نے کسی مخصوص جماعت کا ذکر نہیں کیا تھا اور آزاد رکن کسی بھی سیاسی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ سے یہ وضاحت مانگی ہے کہ41 ارکان کی پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے کس کا سرٹیفکیٹ تسلیم کیا جائے بعد ازاں الیکشن کمیشن نے دائرہ اختیار اور سپریم کورٹ کی وضاحت آنے تک کیس کو زیر التوا رکھنے کی تحریک انصاف کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کیس کی سماعت 18ستمبر تک ملتوی کردی۔۔۔۔۔

Comments are closed.