پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی کا شکار، ۔ اقتدار میں آنے کے لئے این آر او مانگ رہے ہیں، طلا ل چوہدری

اسلام آ باد (آن لائن) رہنما مسلم لیگ ن طلا ل چوہدری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ اور دھڑے بندی کا شکار ہو چکی انکا رونا دھونا صرف بانی کی رہائی کے لئے ہے ۔ اقتدار میں آنے کے لئے این آر او مانگ رہے ہیں ، کے پی کے میں کرپشن کا نیب کو نوٹس لینا چاہیے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ انقلاب کی دعویدار جماعت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ۔ یہ بس اب قتدا ر کے لئے لڑ رہے ہیں ۔ اور اقتدار کے لئے پہلے کی طرح ایک بار پھر کندھا ڈھونڈ رہے ہیں ۔ کرپشن کے لئے این آر او مانگ ر ہے ہیں ۔ انہوں نے کہا سڑکیں بنانے کے پیسے وزیر اعلی کے پی کے کی جیب میں جا رہے ہیں ۔ ان کا انقلاب کا بیانیہ ہی بدل چکا ۔ انہوں نے کہا کہ ان پر صرف الزا مات نہیں ثبوت بھی موجود ہیں ۔ توشہ خانہ، سونامی ٹری منصوبہ ان کے کرپشن کے ثبوت ہیں ۔ یہ کیسز میں چھ چھ آٹھ آٹھ سال تک سٹے کی آڑ لینا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انکی جلسوں کی دھمکیاں ، اور تحریک این آر او لینے کے لئے ہے یہ این آر او مانگ رہے ۔

انہوں نے کہا کہ جماعت میں پیسوں کی بندر بانٹ جاری ہے جیسے ہی کے پی کے کا سکینڈل سامنے آیا علیمہ خان نے فوری ادھر کا دورہ کیا ۔ بانی پی ٹی آذئی سمجھتے ہیں وہ جس کو نامزد کریں پیسے اس کو ملیں علیمہ خود پیسے بٹورنے کے چکر میں ہے ان میں اس بارے میں بھی مقابلہ جاری ہے ۔ یہ اپنے گناہ معاف کرانے کے لئے این آر او مانگ رہے ہیں ۔ لوگ اب ان پر ہنس رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی بات کریں گے ۔ جلسے جلوسوں ، تحریک چلانے اور اقتدار کی بھیک مانگنے کی معاملات کی بات کریں گے ۔ قومی معاملات پر یہ کوئی بات نہیں کریں گے خواہ وہ بلوچستان میں دہشتگردی کا معاملہ ہو یا معیشت کی بہتری کے اقدامات ، یہ ایسے معملات پر بات کرنا گناہ سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا یہ جماعت ملک کو عدم استحکام سے دو چار کرنے میں لگی ہوئی ہے ۔ یہ جان بوجھ کر ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کے خواہاں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ جماعت دھڑے بندی کا شکار ہو چکی ۔ اب ان میں علیمہ ۔ بشری اور گنڈا پور گروپ ہیں جو اپنے اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اور اگر جماعت کا کوئی عہدیدار کرپشن یا دوسرے معاملات پر زبان کھولے تو اس کو عہدے سے ہی فارغ کر دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب کے پی کے میں ہونے والی کرپشن کا نوٹس لے ۔

Comments are closed.