چیف الیکشن کمشنر سے جماعت اسلامی وفد کی ملاقات ،90 روز میں انتخابات کرانے کا مطالبہ

اسلام آباد(آن لائن) جماعت اسلامی نے 90روز کی آئینی مدت میں انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن پر واضح کیا ہے کہ آئینی خلاف ورزی کسی صورت بھی قبول نہیں ہے ملک میں شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہیے اور کسی دوسری طاقت کی جانب نہیں دیکھنا چاہیے۔سوموار کے روز جماعت اسلامی کے وفد نے نائب امیر جماعت اسلامی امیر العظیم کی سربراہی میں چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کی وفد میں ان کے ہمراہ جماعت اسلامی الیکشن سیل کے انچارج ڈاکٹر فرید پراچہ ،نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان ،میاں اسلم ،راشد عمر اولکھ بھی موجود تھے چیف الیکشن کمشنر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے امیر العظیم نے کہاکہ ہم نے الیکشن کمیشن پر واضح کیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات 90روز کی آئینی مدت میں ہونے چاہیے اور یہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ حلقہ بندیوں کے ساتھ ساتھ عام انتخابات کی تاریخ کا بھی اعلان کردیتے اور ہم اس پر احتجاج کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے آئینی مدت کے اندر انتخابات کرانے کا ابھی تک اعلان نہیں کیا ہے انہوں نے کہاکہ ملاقات کے دوران انتخابی حلقہ بندیوں ،ووٹر لسٹوں اور متناسب نمائندگی کے حوالے سے تجاویز الیکشن کمیشن کے سامنے رکھی ہیں

انہوں نے کہاکہ ہم نے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں آئینی مدت کے اندر انتخابات نہ کرانے پر کا معاملہ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا ہے جس پر الیکشن کمیشن نے اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے تحریک انصاف کی حکومت اور اس کے بعد پی ڈی ایم کی حکومتوں کو بار بار نئی مردم شماری جلد از جلد کرانے کے حوالے سے خطوط لکھے تھے جس پر عمل نہیں کیا گی اور ایسے وقت میں مشترکہ مفادات کونسل کی جانب سے نئی مردم شماری کی توثیق کی گئی جب حکومت ختم ہونے کے قریب تھی جس کے بعد حلقہ بندیوں کے کام کا آغاز کردیا گیا اس موقع پر جماعت اسلامی الیکشن سیل کے انچارج ڈاکٹر فرید پراچہ نے کہاکہ ہم نے الیکشن کمیشن کو بااختیار اور خودمختار بنانے کیلئے ہمیشہ آواز اٹھائی ہے اور الیکشن کمیشن کو بھی بتا دیا ہے کہ اپنا اختیار استعمال کریں انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کو ملک میں شفاف انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے شکایات کی بجائے سوموٹو کا اختیار استعمال کرنا چاہیے

انہوں نے کہاکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے حوالے سے بھی الیکشن کمیشن کو تجاویز دی ہیں کہ جس طرح انتخابی امیدواروں کیلئے اخرجات کی حد مقرر ہے اسی طرح سیاسی جماعتوں کیلئے بھی اخراجات کی حد مقرر ہونی چاہیے تاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت پیسوں کے بل بوتے پر انتخابات کو ہائی جیک نہ کر سکے اسی طرح ہم نے یہ بھی تجویز پیش کی ہے کہ انتخابی نتائج متعلقہ فارم پر صرف ہندسوں میں لکھنے کے ساتھ ساتھ لفظوں میں بھی لازمی لکھنے چاہیے تاکہ اس میں ردوبدل کا امکان نہ ہوسکے جس پر الیکشن کمیشن نے تمام تجاویز پر غور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ایک سوال کے جواب میں امیر العظیم نے کہاکہ عام انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کو آزادنہ طریقے سے اپنی انتخابی مہم چلانے کے مواقع ملنے چاہیے اور کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے۔۔۔

Comments are closed.