عمران خان و پی ٹی آئی پر پابندی کا کیس،سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا

کراچی(آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان و پی ٹی آئی پر پابندی کے کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے پیمرا کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا،سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ چیف جسٹس محمد شفیع صدیقی، جسٹس جواد اکبر نے پیمرا کی اپیل خارج کر دی،سندھ ہائی کورٹ میں پیمرا نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی تھی جس کی آج سماعت ہوئی، پی ٹی آئی کی طرف سے وکیل بیرسٹر علی طاہر نے دلائل پیش کئے۔بیرسٹر علی طاہرنے عدالت کو بتایا کہ 31 مئی کا نوٹیفکیشن معطل ہونے کے بعد پیمرا 11 نومبر 2023 کو دوبارہ یہی نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ عدالت نے پیمرا کے دونوں نوٹیفکیشن معطل کر دیئے ہیں۔بیرسٹر علی طاہرنے کہا کہ اس وقت بانی پی ٹی آئی اور پی ٹی آئی کی کوریج کوئی پابندی نہیں ہے۔پیمرا کی لگائی گئی پابندی پیمراو آئین کے قانون کے خلاف تھی، پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے کوریج پر پابندی آئین کے خلاف ہے۔ڈویڑنل بینچ نے سنگل بینچ کو چھ ہفتے میں فائنل فیصلہ کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ کے سنگل جج نے پیمرا کا نوٹی فکیشن معطل کیاتھا۔یاد رہے کہ اس سے قبل 8دسمبر2023ء کو سندھ ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف کیس میں پیمرا کا 4 دسمبر کا نوٹیفکیشن معطل کردیاتھا۔سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے بیانات نشر کرنے پر پابندی کے خلاف کیس کی سماعت کی تھی۔وکیل تحریک انصاف بیرسٹر علی طاہر نے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کے بیانات پر پابندی عائد کرنا قانون کی خلاف ورزی تھا۔ پیمرا نے غیر قانونی طور پر پابندی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔عمران خان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پیمرا کا 4 دسمبر کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے۔بیرسٹر علی طاہر کے دلائل مکمل ہونے کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے عمران خان کے بیانات پر پابندی کے خلاف درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پیمرا کا 4 دسمبر کا نوٹیفکیشن معطل کردیاتھا۔سندھ ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کی درخواست پر پیمرا اور وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے جواب طلب کیا تھا۔

Comments are closed.