قومی اسمبلی اجلاس، سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کا بل موٴخر
اسلام آباد (آن لائن) سپیکر قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے ججوں کی تعداد بڑھانے کا بل موٴخر کردیا۔سوموٹو نوٹس اورتوہین عدالت کا قانون ختم کرنے کا بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپردکر دیا،اس کے علاوہ فوجداری قوانین ترمیمی بل ،دستور ترمیمی بل ،دیوانی ملازمین ترمیمی بل ،یونیورسٹیوں میں مستحق افراد کیلئے خصوصی نشستوں کی تخصیص کا بل 2024 کے علاوہ د یگر بل پیش کئے گئے جنہیں سپیکر قومی اسمبلی نے متعلقہ کمیٹیوں کو بھجوا تے ہوئے اجلاس آج بدھ تک ملتوی کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد بڑھانے کا بل ایوان میں پیش کیا اور کہا کہ یہاں قانون و انصاف کی بات ہوتی ہے مگر زیر التوا کیسوں کی تعداد پہ بات نہیں ہوتی، ججوں کی تعداد کم ہونے کے باعث زیر التوا کیسوں کی تعداد بڑھ گئی ہے، مجوزہ ترمیم میں سپریم کورٹ ججز کی تعداد 17سے بڑھا کر 23 کرنے کی تجویز دی گئی ہے،
بل میں سپریم کورٹ چیف جسٹس پاکستان سمیت دیگر 22 ججز پر مشتمل ہونے کی تجویز ہے۔تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر گوہر نے اعتراض اٹھایا کہ ’یہ بل متعارف کروا رہے ہیں لیکن یہ پرائیویٹ بل کے طور پہ متعارف نہیں کروایا جا سکتا، آرٹیکل 74 کے تحت یہ بل نجی بل کے طور پہ نہیں متعارف نہیں ہوسکتا، ایسا کوئی بھی بل صرف وفاقی حکومت یعنی کابینہ منظور کر سکتی ہے،اس کے جواب میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بل کے محرک نے عمومی صورتحال پیش کی ہے، کل سینیٹ میں بھی اس پہ سیر حاصل بحث ہوئی، ہماری آبادی پچیس کروڑ ہے اور ججوں کی تعداد 17 ہے، کریمنل اور سول کیسز میں عبور بھی ایک معاملہ ہے، اگر ہم چھٹیوں پہ بات کرتے ہیں تو اسے چڑھائی سمجھا جائے گا، دو ماہ کی تعطیلات اس وقت ہوا کرتی تھیں جب ججوں کو یہاں سے بحری سفر کرنا پڑتا تھا، اب عدلیہ کو خود اس حوالے سے سوچنا ہوگا، جوڈیشل اصلاحات ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، ابھی اس پر حکومت کا کوئی فیصلہ نہیں کہ تعداد بڑھانی ہے یا نہیں، سینیٹ میں کل ایسا ہی کیس کمیٹی کو بھیجا گیا ہے، آج بے شک اس بل کو موٴخر کر دیا جائے تو کوئی اعتراض نہیں۔اس موقع پر رکن جمعیت علماء اسلام ف کی رکن عالیہ کامران نے کہا کہ ’انہیں اچانک عوامی مفاد کا کیسے خیال آ گیا کہ کل سینیٹ سے بل آیا آج یہاں آگیا‘، اسپیکر نے عالیہ کامران کو طنز کرتے ہوئے جواب دیا کہ ’یہ ایسے ہی ہے جیسے آج آپ کی جماعت کے رکن قومی اسمبلی نور عالم خان کو دوہری شہریت بل یاد آئے‘
، اعظم نذیر تارڑ نے اس سوال کے جواب میں جے یو آئی کی رکن کو مشورہ دیا کہ ’ہر چیز جو تعصب کی نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا‘، بعد ازاں سپیکر نے بل موٴخر کر دیا۔ جمعیت علماء اسلام ف کے رکن نور عالم خان نے توہینِ عدالت کا قانون ختم کرنے کا بل بھی ایوان میں پیش کیا، انہوں نے سپریم کورٹ کے سوموٹو نوٹس لینے کے اختیار سے متعلق بل بھی قومی اسمبلی میں پیش کردیا، اس مقصد کے لیے آرٹیکل 184 میں ترمیم کا آئینی ترمیمی بل ایوان میں پیش کرتے ہوئے نور عالم خان نے کہا کہ ماضی میں ازخود نوٹس کے ذریعے سیاسی لوگوں کو نشانہ بنایا گیا، 9 ججز بیٹھ کر ازخود نوٹس لینے کا فیصلہ کریں گے، ازخود نوٹس کے فیصلوں کی اپیل کا حق بھی دیا جائے گا، اس کے علاوہ آئین کے آرٹیکل 177, 193, 208 میں بھی ترمیم کی جائے کیوں کہ اگر کوئی دیتی شہریت رکھنے والا رکن پارلیمنٹ نہیں بن سکتا تو ایسے افراد ججز بھی نہیں ہونے چاہئیں،اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعطم نذیر تارڑ نے کہا کہ ’پریکٹس اینڈ پروسیجر بل منظور کیا گیا، اپوزیشن نے اس قانون کو چیلنج کیا، فل کورٹ نے تسلیم کیا کہ سپریم کورٹ کے رولز کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار ہے، پریکٹس اینڈ پراسیجر ایکٹ میں مزید ترمیم کی جا سکتی ہے‘، بعد ازاں سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی جانب سے آرٹیکل 184 میں مزید ترمیم کا آئینی ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔
Comments are closed.