قومی اسمبلی اجلاس ،لوڈشیڈنگ کے معاملے پر حکومتی اتحادی اور اپوزیشن ایک ہوگئے،حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید
اسلام آباد(آن لائن )قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ پر اپنی اتحادی حکومت پر برس پڑے، وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ملکی گیس کے وسائل دن بدن کم ہورہے ہیں باہر سے مہنگی گیس لاکر سستی بیچ نہیں سکتے اگر باہر سے مہنگی گیس لے کر سستی عوام کو دیں تو خزانے پر بوجھ پڑتا ہے ملکی و غیر ملکی گیس کمپنیوں کو نئے لائسنس دیئے جارہے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت نے گیس کنواں کے اردگردپانچ کلومیٹر کے علاوہ کہیں گیس میٹر نہیں دیئے جائیں گیپی ٹی آئی کی پالیسی پر موجودہ حکومت عمل کررہی ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کیا اجلاس میں مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ آئی پی پیز کے چارجز کی وجہ سے عوام شدید متاثر ہے اگر دو سو یونٹس استعمال ہو گئے تو ایک۔ جی یونٹ بڑھنے سے سلیب چینج ہو جائے گابجلی کے بلوں میں مختلف ٹیکسز شامل ہیں نیپرا
،وزرات توانائی کی طرف سے چارجز کا میکنزم کے بارے میں بتا دیں وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایک سے دو سو یونٹ کی کیٹیگری کو پروٹیکٹڈ کٹیگری کہا گیا ہے اس میں کوئی چارجز شامل نہیں یہ غربت سے نیچے کی لکیر کے صارفین کی سہولت کے لیے ہے دو کروڑ افراد کے لیے یہ فکس ٹیرف ہے اب اگر ایک اوپر جاتا ہے تو اس کو نیشنلائز کرنا مشکل ہو جاتا ہے ایک خاص حد تک محدود نہیں رہے گا انہوں نے کہا کہ منسٹر پاور ایوان میں موجود ہوتے ہیں آج ان کی ایک میٹنگ تھی میں ان کی جگہ جوابات دے رہا ہوں،ونڈ انرجی کا ایک لاکھ 32 ہزار میگا واٹ کا ہے،36 کے قریب منصوبے سندھ میں انسٹال ہیں ان منصوبوں کی 2011-12 سے 2022 تک ان کی انسٹالیشن ہوئی ہے دیگر شعبوں پر پی ایس ڈی پی کا زیادہ دباوٴ ہے،اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ وزیر توانائی نہیں ہیں وزیر قانون ہیں اس پر سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اعظم نذیر تارڑ وزیر پارلیمانی امور بھی ہیں آپ بھی کسی اور کی جگہ جواب دیتے تھے عمر ایوب نے کہا کہ آپ ٹرانسفارمرز زیادہ لگائیں اس سے لاسز کم ہوں گے پیمنٹ نہ آنے کی وجہ سے ان کو لوڈ شیڈنگ کرنی پڑتی ہے یہ آئی پی پیز کو بجلی بنانے کیلئے پیسہ نہیں دیتے تھے مٹیاری لائن میں کیپسٹی چار ہزار سے زائد ہے یہ لوگ اس کو دو ہزار سے اوپر نہیں جارہیکینسر کا علاج یہ لوگ ڈسپرین سے کررہے ہیں ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جو بل دے رہے ہیں وہ بھی تکلیف میں ہیں جو نہیں دے رہے وہ بھی تکلیف میں ہیں اس حوالے سے حکومت کیا کررہی ہیوفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ اگر پری پیڈ میٹر لگائیں تو کنڈے کا مسئلہ پھر بھی حل نہیں ہوگاپری پیڈ اور سمارٹ میٹرنگ کیلئے خطیر رقم چاہیے ورلڈ بینک سے سافٹ لونز کیلئے بات چیت چل رہی ہے پی پی پی رکن قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے گھریلو گیس کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ اٹھا تو وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ ملکی گیس کے وسائل دن بدن کم ہورہے ہیں باہر سے مہنگی گیس لاکر سستی بیچ نہیں سکتیاگر باہر سے مہنگی گیس لے کر سستی عوام کو دیں تو خزانے پر بوجھ پڑتا ہے خزانہ اس قابل نہیں کہ بوجھ اٹھاسکیگیس کی تلاش کے سمندراور سمندر سے باہر منصوبے شروع کئے جارہے ہیں
ملکی و غیر ملکی گیس کمپنیوں کو نئے لائسنس دیئے جارہے ہیں اپوزیشن رکن علی محمد خان نے آئی پی پی پیز کی کارکردگی اور معاہدوں کا جائزہ لینے کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی پیز نے عوام کا خون نچوڑ لیا ہے آئی پی پیز بن بجلی بنائے اربوں روپے لئے جارہی ہیں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اس پر مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت گرمیوں میں ضرورت تیس ہزار میگا واٹ ہے سردیوں میں دس ہزار میگا واٹ بجلی کی ضرورت ہے آئی پی پیز کے ساتھ کیپسٹی پیمنٹس پر راستہ نکالنے پر کام ہورہا ہے اب سردیوں اور گرمیوں کے انیس ہزار میگا واٹ کا فرق کیسے ختم کریں عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ سمندر سے نکلنے والی گیس کیا پانچ کلومیٹر میں وہیل مچھلیوں کو ملے گی وہ پچھلی حکومت میں سمندر سے بڑی گیس کا ذخیرہ نکل آنے کے اعلان پر کیا انکوائری ہوئی ہے؟حکومتی رکن اسمبلی حنیف عباسی نے کہا کہ سپیکر صاحب دو وزرا ہی ایوان میں کیوں جواب دے رہے ہیں حنیف عباسی اپنی ہی حکومت کے وزرا کی عدم موجودگی پر برس پڑے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ لوگوں میں بہت ابہام ہے پورے ہاوس کو کمیٹی آف دی ہول قرار دے کر آئی پی پیز پر مکمل بحث کی جائے ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اس وقت ہم 3200ملین یونٹ گیس پیدا کرتے ہیں دوسویونٹ گیس نکالنے پر لگتی ہے بارہ تیرہ سو ملین کیوبک فٹ گیس کھاد فیکٹریوں کو دیئے جانے کے بعد پائپ لائنوں میں جاتی ہے سمندر سے نکلنے والی گیس کا رائلٹی ریٹ متعلقہ صوبے کو جاتا ہے
پانچ کلومیٹرکے اندر استعمال نہ ہونے والی گیس کو متعلقہ صوبے کی ترقی کے لئے استعمال کیا جاتا ہے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی میر منور تالپور نے کہا کہ حکومت لمبے لمبے بھاشن دے دیتی ہے عمل کچھ بھی نہیں پندرہ سولہ ماہ پہلے آپ کی حکومت رہی نہ اس وقت بجلی گیس کا کچھ ہوا نہ اب کیا جارہا ہے سید حسین طارق نے کہا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر آصف علی زرداری نے معاہدہ کیا ایران اٹھارہ ارب ڈالر جرمانے کی طرف جارہا ہے مصدق ملک نے کہا کہ اٹھارہ ارب ڈالر جرمانے کا کوئی تصور نہیں یہ عدد پتہ نہیں کہاں سے آرہا ہے ایران نے بھی اٹھارہ ارب ڈالر کی کوئی بات نہیں کی پاک ایران گیس پائپ لائن کے مسئلے پر عالمی پابندیوں کا معاملہ بھی ہے پاک ایران گیس پائپ کے معاملے پر قائمہ کمیٹی میں ان کیمرہ بریفنگ دینے کو تیار ہوں رکن اسمبلی شاہد خٹک نے کہا کہ کوہاٹ میں جاری منصوبوں پر چار پانچ ارب روپے نہ دینے کی وجہ سے پہلے کی طرح پھر بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ گیس جہاں سے نکلے گی اس کنواں کے اردگرد پانچ کلومیٹر تک گیس لازمی دی جائے گی پی ٹی آئی کی حکومت نے گیس کنواں کے اردگردپانچ کلومیٹر کے علاوہ کہیں گیس میٹر نہیں دیئے جائیں گیپی ٹی آئی کی پالیسی پر موجودہ حکومت عمل کررہی ہے پی ٹی آئی نے پرانے صارفین کو گیس پوری ہونے تک نئے گیس کنکشنز پر پابندی لگائی تھی وہ بھی درست ہے
Comments are closed.