تجربہ کار سیاسی قیادت کو سائیڈ لائن کرنے سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہوسکتی ،مولانا فضل الرحمن

اسلام آباد(آن لائن ) قومی اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اس وقت امن و امان اور بیروزگاری کی صورتحال مخدوش ہے،بلوچستان اور کے پی کے میں بدامنی کی وجہ سے حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے مسلح راکٹ لانچرز والے ناکے لگائے ہوئے ہیں مسلح لوگ ٹیکس وصول کررہے ہیں بلوچستان میں فورسز پر حملے ہورہے ہیں، دونوں طرف سے ہوش کی بجائے جذبات سے کام لیا جاتا ہے ،حکومتی سطح پر ہر مسئلے کا حل طاقت ہی سمجھ لیا جاتا ہے

،آج سیاسی لوگوں کو سائیڈ لائن کیا جارہا ہے معاملہ فہم لوگوں کو سائیڈ لائن کیا جارہا ہے سنجیدہ اور پرانے سیاستدانوں کی جگہ جذباتی نوجوان لے رہے ہیں پاکستان کو گھنٹہ گھر بنایا جارہا ہے ،حکومت کو ان حالات کی پرواہ ہی نہیں ،ان حالات سے عالمی قوتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں انہوں نے کہا کہ سی پیک کو چلانے اور روکنے کے لئے قوتیں متحرک ہیں، سی پیک کے ساتھ ساتھ حالات مسلح لوگوں کے رحم و کرم پر ہیں بعض ایسے علاقے ہے، جہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا نہیں جاسکتا،ہم لڑیں گے اپوزیشن میں بیٹھ کر بھی ملک کے چپے چپے کے لئے خدمات دیں گے ،تجربہ کار سیاسی قیادت کو سائیڈ لائن کرنے سے بڑی کوئی حماقت نہیں ہوسکتی ،پارلیمنٹ آگے بڑھے بلوچستان اور کے پی کے میں لوگوں سے بات چیت کرکے مسئلے کا حل کریدوہزار چھ سے ہم جانتے ہیں ریاست کی ناکامی کے بعد پھر ہمیں حالات کنٹرول کرنا پڑتے ہیں افغانستان کا میں نے دورہ کیا حالات بہتر کئے وزارت خارجہ کو سب بتایا جہاں حملہ ہوتا ہے افغانستان پر الزام لگادیا جاتا ہے افغانستان سے اڑھائی سو چوکیوں سے گزرنے کس نے دیا ہے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ لاپتہ افراد بہت ہی اہم مسئلہ ہیلاپتہ افراد کے ورثا کو کچھ نہیں بتایا جارہا ہے

دس دس سال سے لوگ لاپتہ ہیں پشاور آرمی پبلک سکول واقعہ سے ایک سال پہلے گرفتار نوجوان کو پھانسی دے دی جاتی ہے کیا اس طرح فوج پر اعتماد قائم ہوگا یا کم ہوگا ؟ایک طرف بیروزگاری ہے تو دوسری پی ڈبلیو ڈی یوٹلیٹی سٹورز جیسے ادارے بند کئے جارہے ہیں پارلیمان اور ارکان کاکوئی کردار نہیں ،اختر جان مینگل جیسے لوگوں کو استعفی دینے پر مجبور کردیا گیا ہم فارم 45یا فارم 47جس کے بھی پھر بھی قوم کے مسائل یہی بحث سے حل ہوں گے میں مایوس ہوں کہ پارلیمان کے پاس مسائل حل نہیں ،اگر کل ریاست کو بھی کوئی ترمیم کرانا ہوگی تو بھی اسی ایوان سے ہی ہوگی یہ ایوان اور لوگ ہوں گے تو کچھ ہوگااپوزیشن رکن اقبال آفریدی نے نکتہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پشتون قوم نے گیارہ اکتوبر کو عوامی عدالت لگانے کا فیصلہ کیا ہیکل اگر پشتون نے کوئی فیصلہ کرلیا تو پھر غدار کون ہوگا حکومت ریاست یا پشتون؟آج پارلیمان کی کمیٹی بناکر پشتونوں سے رابطہ کیا جائے مولانا فضل الرحمن آج پشتونوں کی بات تو کررہے ہیں مگر چھ ماہ کے علاوہ ہمیشہ حکومت میں تھے تو اس وقت پشتونوں کی بات کرنا چاہئے تھی قومی اسمبلی اجلاس میں ایم کیو ایم کے رہنما مصطفی کمال نے کہا کہ کراچی کو پورے سندھ کے پانی کا ڈیڑھ فیصد پانی ملتا ہے اگر اس پانی کو تین چار فیصد کردیں تو سندھ کا پانی کم نہیں ہوگا

Comments are closed.