9 مئی کیسز میں نئی دفعات شامل، 68 پی ٹی آئی رہنماوں کا دوبارہ جسمانی ریمانڈ منظور
اسلام آباد(آن لائن)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کور کمانڈر ہاوس پر حملے سمیت 9 مئی کے واقعات سے متعلق ایف آئی آر میں نئے جرائم کے اضافے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے زیرِحراست رہنماوں و کارکنوں کو تازہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ جج اعجاز احمد بٹر نے شادمان پولیس کو تھانے پر حملہ اور جلانے کے مقدمے میں پی ٹی آئی پنجاب کی صدر ڈاکٹر یاسمین راشد، سابق سینیئر صوبائی وزیر میاں محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چوہدری کا 3 روزہ ریمانڈ منظور کر لیا۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ایف آئی آر میں شامل نئے جرائم کے تحت مقدمے میں تفتیش کے لیے ملزمان کا تازہ جسمانی ریمانڈ درکار ہے۔قبل ازیں پولیس نے ملزمان کو جیل سے لانے کے بعد عدالت میں پیش کیا، فاضل جج نے سرور روڈ پولیس کو کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر حملہ کیس میں پی ٹی آئی کے 68 رہنماوں اور کارکنوں کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی دے دیا،
ملزمان میں سابق رکن قومی اسمبلی عالیہ حمزہ، فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ، صنم جاوید اور طیبہ عنبرین شامل ہیں۔خواتین ملزمان کی جانب سے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کی، انہوں نے کہا کہ خواتین پہلے ہی گزشتہ 3 ماہ سے جوڈیشل ریمانڈ پر ہیں، پولیس جیل میں ان سے تفتیش کر سکتی ہے۔ڈپٹی ڈسٹرکٹ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایف آئی آر میں شامل کیے گئے نئے الزامات کے تحت نئی تفتیش کے لیے مشتبہ افراد کو تحویل میں لینا ضروری ہے۔فاضل جج نے پولیس کی استدعا منظور کرتے ہوئے ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا، تاہم انہوں نے عسکری ٹاور حملہ کیس میں سابق گورنر عمر سرفراز چیمہ اور فیشن ڈیزائنر خدیجہ شاہ کے جسمانی ریمانڈ کے لیے گلبرگ پولیس کی درخواست مسترد کر دی۔مقدمات میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 120، 120-اے، 120بی، 121-اے، 505، 153، 153-اے، 153-بی اور 107 کے تحت دیگر جرائم بھی شامل کیے گئے ہیں، ان میں عسکری ٹاور حملہ، شادمان تھانے حملہ اور ماڈل ٹاون میں مسلم لیگ (ن) کے پارٹی دفاتر کو نذر آتش کرنے کا مقدمہ بھی شامل ہے۔
Comments are closed.