اختلافات چلتے رہیں گے کبھی ختم نہیں ہونگے، اختلافات کو ذاتی دشمنی نہیں بنانا چاہیے، خواجہ آصف

اسلام آباد(آن لائن) قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس ایوان کے اندر ہماری بہت ذمہ داریاں ہیں اختلافات چلتے رہیں گے کبھی ختم نہیں ہونگے، اختلافات کو ذاتی دشمنی نہیں بنانا چاہیے، میثاق جمہوریت میں رخنے ڈالے گئے ،ہم نے نوے کی دہائی کی تلخیوں کو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، 2014 کا دھرنا ہوا تو ساری پارٹیاں متحد ہوگئیں، پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر قبضہ ہوا تو پچھلے دروازے سے آتے تھے۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہم میثاق جمہوریت کو وسعت بھی دے سکتے ہیں میاں نواز شریف آصف علی زرداری سمیت سب گرفتار اور قید ہوئے ہم نے ایوان کی قدر ومنزلت میں کمی نہیں آنے دی پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے بھی تو شام کو واپس جیل چلے گئے، پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں جو زبان وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے استعمال کی یہ واقعہ نہ ہوتا، جب آپ فیڈریشن اور آئین کو چیلنج کرتے ہیں جب آپ لشکر اور بارات کی بات کرتے ہیں تو یہ خود کشی کے مترادف ہے ۔اگر پرسوں لائن کراس ہوئی تو جلسے میں بھی لائن کراس ہوئی بانی پی ٹی آئی گرفتار ہے تو ہمارے قائدین بھی گرفتار رہے ۔ہم نے اڈیالہ جیل سے رہا کرانے کی بات نہیں یہ سلسلہ چلتا رہا تو یہ ملک اور ادارے مفلوج ہو جائیں گے

انہوں نے کہا کہ جو تلخی اس وقت نظر آرہی ہے اس کی مثال نہیں ملتی آصف علی زرداری نے گیارہ سال جیل میں گزارے یہاں پر فیصلے موجود ہیں ان کو اختلاف ہوگا آپ احتجاج کریں لیکن لائنز کراس نہ کریں جناب سپیکر آپ اپنا آئینی کردار ادا کریں اس ایوان کی بقاء کیلئے آپ ہم سے بھی اور ان سے بھی بات کریں یہ آپ کے ذمہ ہے کہ کوئی راستہ نکالیں ۔نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ بے شک احتجاج کریں لیکن غیر اخلاقی باتیں نہ کریں میثاق جمہوریت پر میاں نواز شریف نے مجھے اختیار دیابانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو بلایا گیا،اس پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کیا گیا۔اگر ماضی میں پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں ہوئے تو یہ آپ کا استحقاق ہے ہمیں کھلے دل سے دیکھنا چاہیے معیشت نیچے کیوں آئی؟ آئیں تجویز کرے کہ کون سا راستہ اپنانا ہے ، آپ ایک کمیٹی بنائیں اور تمام کمیٹیز کو شامل کریں کمیٹی تمام معاملات کا پوسٹ مارٹم کرے اور راستے کا تعین کرے حکومت بلاول بھٹو زرداری کی تجویز کو مکمل سپورٹ کرے گی۔ ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی بات سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتامسئلہ پاپولر بیانیہ بنانے کا ہے ،جب تک اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا نہیں کہیں گے ووٹ بنک نہیں بنے گایہاں پر جوڑنے کی بات ہورہی ہے تو یہ خبر نہیں بنے گی،ایوان کے باہر بھی ملک چلانے کیلئے بات ہونی چاہیے

،بات ہونی چاہئے کہ برا بھلا کہے بغیر بھی آگے بڑھ سکتے ہیں پی ٹی آئی کا لیڈر قید ہے ان کی باتوں کا برا نہ مانیں۔یہ تو بانی پی ٹی آئی سے جاکر بات کرتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ آپ لوگ مجھ پر الزام لگاتے ہیں آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بولیں کیا میں نے کوئی غلط کردار ادا کیا ؟سنی اتحاد کونسل کے رہنما عاطف خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمشیہ سے جمہوریت کی بات کرتی ہے اصل چیز یہ ہے کہ پرسوں کے واقعے کی انکوائری کی جائے سیاستدان کا جیل میں ہونا کوئی فخر کی بات نہیں ہے ،چارٹر آف ڈیموکریسی کا یہ بہت کریڈٹ لیتے ہیں چارٹر آف ڈیموکریسی میں یہ تھا دوسرے اداروں کو شامل نہیں کریں گے ۔کیا مسلم لیگ ن نے چارٹر آف ڈیموکریسی پہ عمل چھوڑ دیا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ علی امین گنڈا پور آٹھ گھنٹے یہاں تھا اس کو گرفتار کرتے اس کو بہانہ بنا کے پارلیمنٹ پہ حملہ ناقابل قبول ہے میں اپنی طرف سے وعدہ کرتا ہوں پارلیمنٹ کو طاقتور بنانے کیلئے آپ کے ساتھ ہیں۔ عاطف خان نے کہا کہ بات یہ ہونی چاہیے تھی پارلیمنٹ پہ حملہ ہوا یہ کہتے ہیں کہ یہ ڈر گئے ہیں اسی لیے ایوان میں نہیں آئے ۔ہمارے کچھ وزیر سمجھتے تھے کہ ہمیشہ کیلئے وزیر رہیں گے اب بھی کچھ وزیر ہیں جو یہی سمجھتے ہیں ،امید ہے آپ انکوائری کرکے ملوث افراد کو سزا دیں گے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ کل رات جو واقعہ ہوا کوئی اس کی تعریف نہیں کرتا اگر پولیس یہاں آئی تو یہ ہمارا مشترکہ نقصان ہے نقاب پوش لوگوں کا آنا ہم سب کا نقصان ہے ایک بندہ گالی دیتا ہے کوئی اس کی بھی تو مذمت کرے۔

Comments are closed.