9 مئی مقدمات،عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ کو طلب کر لیا

لاہور (آن لائن) لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی مقدمات کی جے آئی ٹی کے سربراہ کو طلب کر لیا۔ 9 مئی کے مقدمات میں عبوری ضمانتوں کی درخواستوں پر سماعت انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں ہوئی، سابق وفاقی وزیر فواد چودھری، اعظم سواتی سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت انسداد دہشت گردی عدالت لاہور کے جج ارشد جاوید نے ریمارکس دیئے کہ ہم تمام ملزمان کی عبوری ضمانتوں پر اکھٹی سماعت کریں گے، اگر ان کیسز میں جی آئی ٹی تشکیل دی گئی ہے تو اس کا ہیڈ کیوں پیش نہیں ہوتا؟ فواد چودھری نے عدالت کو بتایا کہ مجھ پر 9 مئی کا کوئی الزام نہیں ہے، میرا 7 مئی کی مبینہ سازش والی میٹنگ سے کوئی تعلق نہیں، میں نے مئی میں ٹویٹ کیے تھے کہ اگر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو ملک کے لیے بہتر نہیں۔

لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی مقدمات کی جے آئی ٹی کے سربراہ کو طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔بعد ازاں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا سوچنا بھی نہیں چاہیے، اگر گورنر راج لگایا تو معاملہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پوری پارلیمنٹ جعلی ہے، 18 سیٹوں کے ساتھ وزیر اعظم بیٹھے ہیں، سب نے جانا ہوتا ہے، کتنا عرصہ بندہ اقتدار میں رہتا ہے؟ فواد چودھری نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ ہاوس سے لوگوں کو جا کر اٹھایا گیا، پاکستان کے عوام عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا ہے کہ علی امین گنڈا پور کی پوری بات سنیں کہ وہ کہہ رہے ہیں کوئی حل بتائیں، 90 لوگ صرف اس مہینے میں شہید ہوئے ہیں، حکومت نے دہشت گردی کے مسئلے کو غیر سنجیدہ انداز میں لیا، سیاسی درجہ حرارت کم کرنا سب کی ذمہ داری ہے۔

Comments are closed.