وزیراعظم نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور کشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں اٹھا دیا

نیویارک(آن لائن) وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور کشمیر کا مسئلہ بھرپور انداز میں اٹھا دیا ،غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیاکہ معصوم بچوں ، عورتوں اور نہتے شہریوں کے قتل پر خاموش نہیں رہا جاسکتا ، اسرائیلی جارحیت کو طوالت دینے والوں کے ہاتھ بھی غزہ کے بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ،ان کا خون رائیگاں نہیں جائے گا ،عالمی برادری پائیدار امن اور دو ریاستی حل کے لئے کردارادا کرے ،مقبوضہ کشمیر میں بھارت آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کررہا ہے ، بھارتی جارحانہ عزائم سے خطے کے امن کو خطرات ہیں ،بھارت نے پاکستان کی مثبت تجاویز کا جواب نہیں دیا ، پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا ۔ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے قرآن کریم کی آیاد سے اپنے خطاب کاآغاز کیا اور کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس سے بطور وزیراعظم دوسری بار خطاب میرے لیے باعث اعزاز کی بات ہے میں جنرل اسمبلی کے صدر کو انتخاب پر مبارکباد پیش کرتا ہوں پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے موجودہ حالات میں دنیا کو بے پناہ چیلنجز درپیش ہیں موسمیاتی تبدیلیوں سے درپیش چیلنجز میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ غزہ پراسرائیل کی جاری ہے یوکرین جنگ نے بھی عالمی مسائل پیدا کئے ہیں غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں غزہ کے المناک سانحہ نے انسانیت کو ہلاک کر رکھ دیا ہے معصوم بچوں ، عورتوں اور نہتے شہریوں کے قتل پر خاموش نہیں رہا جاسکتا اسرائیلی جارحیت کوطوالت دینے والوں کے ہاتھ بھی غزہ کے بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں نہتے فلسطینیوں کا خون رائیگاں نیں جائے گا عالمی برادری کو پائیدار امن اور دو ریاستی حل کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا ۔ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے نسل کشی اور قتل عام سمیت دنیا کے نظام کو درپیش سنگین چیلنجز کو دیکھتے ہوئے ہمیں نئے ورلڈ آرڈر گونج سنائی دے رہی ہے۔ہمارے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے 1947 میں کہا تھا کہ ہم اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ کھڑے ہیں اور دنیا کی امن اور خوشحالی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور پاکستان اس عزم کے ساتھ کھڑا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ کیا ہم بحثیت انسانیب بچوں کو ملبے میں دفن ہوتا دیکھ کر خاموش رہ سکتے ہیں، یہ ایک سسٹم کے تحت معصوم افراد کا قتل ہے،ہمیں اسی وقت فیصلہ کرنا ہے۔معصوم فلسطینیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، الشریف القدس آزاد فلسطین کا دارلحکومت ہوگا۔ فلسطین کو فوری طور پر اقوام متحدہ کا مستقل رکن بنائیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ان چیلنجز کو دیکھتے ہوئے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے فیوچر سمٹ بلانے کا مطالبہ کیا جس کے نتیجے میں مستقبل کے معاہدوں کے ترقی، امن و سیکیورٹی، ٹیکنالوجی اور عالمی گورننس کے حوالے سے 54 اقدامات کو اپنانے کا معاہدہ طے پانا تھا۔۔۔

وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مذموم کوششیں ہورہی ہیں غیر مقامی آباد کو کشمیر میں آباد کیا جارہا ہے بھارتی جبر کے باوجود کشمیر کے عوام برہان وانی کے نظریئے کو آگے بڑھا رہے ہیں بھارت کے جارحانہ عزائم خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کی مثبت تجاویز کا ہمیشہ بھارت نے جواب نہیں دیا ہماری پرامن رہنے کی کوششوں کو کمزوری نہ سمجھا جائے پاکستان کسی بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا ۔ وزیراعظم نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیاں عالمی سطح پراہم چیلنج ہیں دو سال قبل تباہ کن سیلاب سے پاکستان میں تیس ارب ڈالر کا نقصان ہوا عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لئے پرعزم ہیں سو سے زائد ترقی پذیر ملک قرضوں کے چنگل میں ہیں عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں موثر پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے معاشی اشاریئے بہتر اور مہنگائی میں کمی ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحرانی صورتحال میں معیشت سنبھالی، آج ترقی کی راہ پر گامزن ہیں درپیش چیلنجز کو مواقع میں تبدیل کرنا ہماری ترجیح ہے اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے پر کام جاری ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بڑی قیمت چکائی ہے، 80 ہزار افراد اس جنگ میں شہید ہوئے ، 150 ارب ڈالرز کا معاشی نقصان ہوا، ہم نے اپنے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سبق سیکھا ہے، ہم نے معاشی ترقی کی بحالی شروع کردی ہے، میری قوم کی ترقی اور استحکام میرا فوکس ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں ٹی ٹی پی کی صورت میں دہشتگردی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے

، لیکن ہم اس تھریٹ کو بھی ختم کردیں گے، عزم استحکام کے ذریعے امن و استحکام لائیں گے، ہمیں افغان بہن بھائیوں کی تکلیف کا بھی احساس ہے، افغان حکومت بھی ہیومن رائٹس کا خیال رکھے،عبوری افغان حکومت افغانستان سے دہشتگرد گروپوں کو پڑوسی ممالک میں کارروائیوں سے روکے ۔وزیراعظم نے کہا کہ فتنہ الخوارج، مجید بریگیڈ، بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد افغان سرززمین پر پنپ رہے ہیں، مسلمانوں کیلئے ہندو سپرمیسی ایجنڈا سب سے بڑا خطرہ ہے۔ وزیراعظم کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ زراعت، ٹیکنالوجی، آئی ٹی، قابل تجدید توانائی، معدنیات کے شعبوں کی ترقی پر توجہ دے رہے ہیں سی پیک ٹو کو کامیابی سے لانچ کر دیا گیا ہے ، سی پیک منصوبہ پاکستان اور چین کے دوستانہ تعلقات کا اہم ثبوت ہے،سی پیک سے پاکستان کی معیشت آگے بڑھے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں اسلامو فوبیا کے بڑھتے واقعات بھی پریشان کن ہیں ، بھارت میں اقلیتیں بالخصوص مسلمان ، ہندوانتہا پسندوں کے نشانے پر ہیں ،عالمی امن کیلئے انتہا پسندانہ رویوں کا خاتمہ کرنا ہو گا۔افریقی خطے میں امن و امان کے قیام اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔

Comments are closed.