بنچ نامکمل ججزکمیٹی نے بنایا‘ قانون اور ترمیم شدہ آرڈیننس کے تحت تین ججزکی میٹنگ میں موجودگی ضروری تھی‘علی ظفر

اسلام آباد (آن لائن)پی ٹی آئی کے سینئر رہنماء بیرسٹر علی ظفر نے کہاہے کہ بنایاگیابنچ نامکمل ججزکمیٹی نے بنایاجبکہ قانون اور ترمیم شدہ آرڈیننس کے تحت تین ججزکی میٹنگ میں موجودگی ضروری تھی اور جسٹس منصور علی شاہ کے نہ ہونے سے کمیٹی مکمل نہیں تھی اس لیے بنچوں کی تشکیل غیر قانونی ہے۔

انھوں نے ان خیالات کااظہار پیرکے روزآئین کے آرٹیکل 63اے کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست کی سماعت کے بعدسپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیاہے۔انھوں نے کہاکہ پاکستان کی سیاست میں ایک کینسر تھا۔ممبران پارلیمنٹ ووٹ بیچ کر حکومت بناتے گراتے تھے۔لوٹا ازم کو ختم کرنے کیلئے ایک صدر نے ریفرنس استعمال کیا تھا۔سپریم کورٹ نے ایک فیصلہ کیا تھا۔فیصلہ کے مطابق پارلیمانی پارٹی کی مرضی کے بغیر ووٹ گنا نہیں جائے گا اور ووٹ دینے والا نا اہل ہوگا۔ریوو یا کسی اور کیس کو سننے کے لئے کمیٹی بنی یو ں کمیٹی میں تین ججز کا بیٹھنا ضروری تھا۔جسٹس امین الدین کو چیف جسٹس نے نامزد کیا۔کمیٹی رویو میں بیٹھنے کے لیے جسٹس منصور نے اپنی عدم موجودگی کا بتایا۔تین لوگوں کے ہونے پر کمیٹی نہیں بیٹھ سکتی۔دو لوگ کمیٹی میں بیٹھے اور فیصلہ کیا۔

آج سماعت میں 5 کی جگہ 4 ججز بیٹھے۔ہم نے اس پر اعتراض کیا،جس پر چیف جسٹس نے اپنا ویو پیش کیا۔دو ممبران،تین ممبران کے فیصلے نہیں دے سکتے۔سپریم کورٹ کو دیکھنا ہے کہ اب آگے کیا کرنا ہے۔سپریم کورٹ کے رولز بہت واضح ہیں۔فیصلہ لکھنے والا جج ریٹائر ہو وفات ہوگئہوں تو رویو سنا جا سکتا ہے۔اگر فیصلہ لکھنے والا جج سپریم کورٹ میں ہو تو اس کا ہونا لازم ہے۔سب چیزوں کا فیصلہ کرنے کے لئے فل کورٹ کو بیٹھنا ہوگا۔

Comments are closed.