پی ٹی آئی والے دو صوبوں کے عوام کو آمنے سامنے لا کھڑا کر کے خون خرابہ چاہتے ہیں ، میاں نواز شریف

لاہور(آن لائن)مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نوازشریف نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ میرے گلے میں رسی ڈال کر وزیراعظم ہاؤس سے باہر نکالنے کا کہنے والا آج خود جیل میں ہے، عمران خان اتنے بڑے بول نہیں بولا کرو جیسا کرو گے ویسا بھرو گے عاجزی سیکھو اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگو۔تم کہتے ہو ہم پنجاب پر یلغار کرنے اور حملہ آور ہونے آ رہے ہیں، کیا تم پنجاب اور خیبر پختونخوا کی آپس میں لڑائی کرانا چاہتے ہو اور کیا یہاں خون خرابہ کرنا چاہتے ہو، آپ کے عزائم کیا ہیں‘ اگر اس ملک میں کام کیا جاتا اور کام کرنے دیا جاتا اور عوام کے نمائندوں کی حکومت کو کام کرنے دیا جاتا تو آج اس ملک میں کوئی شخص بے گھر نہ ہوتا،جو سلسلے کا آغاز ہم نے 1990 میں کیا تھا اگر وہ جاری رہتا تو آج پاکستان اتنا خوشحال ملک ہوتا کہ دنیا رشک سے اس ملک کی طرف دیکھ رہی ہوتی‘، ہم آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہتے ہیں لیکن ہمارے مخالفین آئی ایم ایف کو پھر پاکستان لے آتے ہیں اور وہ جو چاہتی ہے جو کرتی ہے۔لاہور میں حکومت پنجاب کے منصوبے ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کہا کہ کے پی کے کے عوام جیل میں بیٹھے شخص سے پوچھیں کہ وہ ان کی فلاح کے لئے کیا کر رہا ہے

، یہ لوگ دوصوبوں کے عوام کو لڑانا اور خون خرابہ چاہتے ہیں ، بڑے بڑے بول بولنے والے آج اللہ سے معافی مانگیں اور عاجزی اختیا ر کریں ، پچیس کروڑ لوگوں کے منتخب وز یر اعظم کو بار بار گھر بھیجنے والوں کا احتساب نہ کرنے والے بھی آج ملک کی موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں ‘حکومت پنجاب کے منصو بے اپنی چھت، اپنا گھر اسکیم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کہا کہ کارخیر میں حصہ ڈالنے والوں کو بھی مبارکباد پیش کرتا ہوں، اس پروگرام کے آغاز پر بہت خوشی ہورہی ہے، مریم نواز نے پنجاب میں اچھا پروگرام شروع کیا۔کتنی اچھی بات ہے کہ قرض بھی دیا جا رہا ہے اور ایک پیسے کا سود بھی وصول نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کا پیسہ عوام ہی پر خرچ ہونے کی یہ منصوبہ بہترین مثال ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس ملک کے اندر کام کیا جاتا اور عوامی نمائندوں کو کام کرنے دیا جاتا تو آج اس ملک میں ایک شخص بھی بے گھر نہ ہوتا ۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے پچھہتر سالوں میں ہماری ایک بہت بڑی جنریشن اپنے گھروں سے محروم ہے ۔ انیس سو چوہتر سے میں نے گھر بنانے کا منٓصوبہ شروع کیا ۔ لیکن ہمیں ہر ڈھائی تین سال بعد فارغ کر دیا جاتا اور ایسے تمام منصوبے ادھورے رہ گئے ایسا کیوں ہوا اگر ملک میں یہ سیاسی عدم استحکام نہ ہوتا تو دنیا رشک سے دیکھ رہی ہوتی ۔ دنیا آگے اور ہم پیچھے جاتے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ جتنا مسلم لیگ نے اس ملک کے لئے کام کیا بتائیں اور کونسی جماعت نے کیا ۔ ملک میں موٹر وے ن ن لیگ کے دورمیں بنی ۔ معاشی استحکام ، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ، ڈالر کی قیمت کم رہنا ، ملک کا ایٹمی قوت بننا یہ سب مسلم لیگ ن کے دور میں ہوا ۔ انہوں نے کہا جو بلین ٹری ، اور بڑے بڑے منصوبوں کی باتیں کرنے والوں کی کارکردگی کہاں ہے ۔ ہم نے آئی ایم ایف کو الوداع کہا یہ واپس لے آئے ۔ یہ پنجاب اور کے پی کے کی لڑائی چاہتے ہیں خون خرابہ کرانا چاہتے ہی کیا چاہتے ہیں ۔ اپنے صوبے میں ترقیاتی کام کے بجائے کے پی کے کے لوگ علاج معالجے کے لئے پنجاب آتے ہیں ۔ اپنے صوبے کی حکومت سے پوچھیں کہ وہ ان کے لئے کیا کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ وسط ایشیا کے لوگوں کی طرح پنجاب پر حملہ آور ہونا چاہتے ہیں ۔

لیکن ایسا کبھی نہیں کر سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تم اپنے صوبے کے لوگوں کو ہیلتھ کارڈ دو ، کسانوں کو ٹریکٹر دو ۔ انہوں نے کہا بجلی سستی کرنے کے لئے مریم اور شہباز شریف کو سولر سکیم کی طرف جانے کا مشورہ دیا ہے ۔ تاہم اس میں ابھی وقت لگے گا ۔ ان سے پوچھتا ہوں وہ پچاس لاکھ گھر کہاں گئے ۔ انہوں نے کون سا وعدہ پورا کیا ۔ انکا کام ما ر دھاڑ اور احتجاج ہے چاہے۔ انہوں نے کہا جیل میں بیٹھے شخص کے یہ الفاظ تھے نواز شریف کے گلے میں رسہ ڈال کر وزیر اعظم ہاوس سے نکالوں گا ۔ ان سے کہتا ہوں عاجزی سیکھو ، بڑے بڑے بڑے بول نہ بولو ، اللہ سے معافی مانگو جیسا کرو گے ویسا بھرو گے ۔ انہوں نے کہا پچیس کروڑ کے منتخب وزیر اعظم کو پانچ ججز نے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی بنا پر فارغ کر دیا ۔ ثاقب نثار کی آڈیو لیک اب بھی میرے پاس موجود ہے۔ لیکن ان سے کسی نے نہیں پوچھا ۔ انہوں نے کہا کہ میں بنی گالہ میں بانی پی ٹی آئی کے پاس گیا اور کہا کہ آو مل کر ملک کر عوام کی خدمت کرتے ہیں لیکن وہ اس میٹنگ کے بعد لندن گیا اور آکر دھرنا دے ڈالا ۔ یہی وہ دھرنے ہیں جنہوں نے پچھہتر سال میں ملک کا بیڑہ غرق کیا ملک کی موجودہ صورتحال کے عوام بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔ فیصلہ دینے والے ججز کہاں چلے گئے ان سے کسی نے یہ کیوں نہ پوچھا کہ ایک منتخب وزیر اعظم کو کیوں نکالا ۔ انہوں نے کہا ## ریاست ایک ماں کی طرح ہوتی ہے جسے اپنے عوام کی فکر کی ہوتی ہے

Comments are closed.