اسلام آباد (آن لائن) سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر اب لاشوں کے ڈھیر گرانے کی تیاری ہو رہی ہے ۔ معصوموں کو مروانے کے لئے ریڈ زون احتجاج کی کال دی جارہی ہے ۔ عدلیہ معصوموں کی جانیں بچانے کے لئے مداخلت کرنی چاہیے ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا تحریک انصاف کو اب لاشیں چاہیے ۔ وہ اس منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔ لوگوں کو ریڈ زون بلا کر لاشوں کے ڈھیر لگانا چاہتے ہیں ۔ معصوموں کو مروانے کے لئے احتجاج کی کال دی ہے انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی صرف اقتدار چاہتے ہیں ۔ عدلیہ کو چاہیے کہ وہ معاملے کا نوٹس لے اور معصوموں کی جانیں بچائے ۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ خدا راہ لاشوں کی سیاست نہ کریں ۔ اس سے پہلے بھی لاشیں گرتی رہی ہیں ارشد شریف اور ان کی بیٹی بھی شہید ہوے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان لوگوں کے بچوں کو ا حتجاج کے لئے اکسانے کے بجائے اپنے بچوں کو پاکستان بلا کر انھیں سڑکوں پر لائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہود کی غلامی نا منظور کہتا ہے خود اس کے بچے انکے ہی غلام ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پارٹی میں کوئی بھی اسکے ساتھ کھڑا نہیں ہے ۔ گنڈاپور صرف اس لئے آگ بر سا رہا ہے کہ اس کو وزیر اعلی کا منصب ملا ہوا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ گنڈا پور میرا دوست رہ چکا ہے۔ کے پی کے میں کرپشن ہورہی ہے۔ گنڈا پور قوم کو گمراہ کررہا ہے۔ بیرسٹر گوہر شریف انسان ہیں انکو یہ بزدل کہہ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پتہ ہے پاکستان درست سمت چل پڑا ہے ‘ ایس سی او کا اجلاس ہونے جا رہا ہے ۔ پٹرول سستا ہو چکا ،زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ رہے ہیں ۔ مہنگائی کی شرح میں کمی آئی ہے‘غیرملکی شخصیات پاکستان آ رہی ہیں ۔ یہ سب اس سے برداشت نہیں ہو رہا‘ ملک میں کھانے کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور یہ صرف احتجاج اور انتشار مین مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا بانی پی ٹی آئی مسلسل لوگوں کے اشتعال دلانے میں مصروف ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی کو پہلے بھی کہا آج بھی کہہ رہا ہوں ، ملک کو اطمینان سے چلنے دیں ۔ انہوں نے کہا کہ گنڈاپور صرف ایک پیادہ ہے بیک ڈور پر ایک بڑی کہانی چل رہی ہے ۔ خان صاحب کو اگر بد معاشی کی سیاست کرنی ہے تو کریں‘ دیکھتے ہیں ان کی بد معاشی کی فتح ہوتی ہے یا انکی سیاست ہی دفن ہو جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ راگ الاپ رہے ہیں کہ ان پر سیاسی کیس بنا ئے جارہے ہیں یہ بتائیں کیا توشہ خانہ کیس سیاسی ہے ، نومئی کا کیس سیاسی ہے ۔
کون سا کیس سیاسی ہے ۔ سینیٹر فیصل واوڈانے کہا کہ 26 اکتوبر 2022 کو ایک پریس کانفرنس کی تھی ‘آج دو سال بعد بھی اسی جگہ کھڑے ہیں ‘تحریک انصاف کو اب لاشیں چاہئیں ‘جو کچھ ہو رہا ہے اس سب کی ٹائمنگ بہت اہم ہے ‘ بانی پی ٹی آئی کو پریشانی یہ ہے کہ میرے اقتدار کے لیے لاشیں گرا دو ‘میری والدہ کا انتقال ہوا تو ان کا سوشل میڈیا پر تمسخر اڑایا گیا ‘ہم کوشش کریں گے کہ جس حد تک ہم سمجھا سکتے ہیں سمجھائیں ‘بانی پی ٹی آئی سب سے پہلے اپنے بیٹوں کو یہاں لائیں ‘اگر وہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ ایک بڑے کاز کے لیے کام کر رہے ہیں ‘سب سے پہلے وہ اپنی پارٹی میں غلامی ختم کریں ‘ان کو پریشانی ہے کہ ایس آئی ایف سی سے آئی پی پی ایز کے پلیٹ فام سے حل ہو رہا ہے ‘ان کو پریشانی ہے کہ ملک سیدھی پٹری پر چل رہا ہے، پٹرول سستا ہو رہا ہے‘پاکستان میں قانون ہے کہ آپ کسی کے اوپر تشدد نہیں ہے ‘وہ کہہ رہے ہیں کہ اگرچہ قانون کے مطابق ریڈ زون جانا منع ہے لیکن ہم جائیں گے ‘آپ کیوں ایسی راہ پر چل پڑے ہیں، اگر کسی کو گولی لگ گئی تو ایف آئی آر آپ کے خلاف ہو گی ‘آپ کے ذہن میں غلامی ہے، آپ یہود کی غلامی کر رہے ہیں ‘جو سی ایم ہے وہ بدمعاشی کر رہا ہے ‘آپ خیبر پختونخوا کے وسائل کو اپنے احتجاج کے لیے استعمال کر رہے ہیں ‘فوج پی ٹی آئی کے دور میں بھی اچھا کام کر رہی تھی ‘جب فیض حمید ڈی جی آئی ایس آئی تب بھی میں اس کے خلاف تھا، میں نے نقصان اٹھایا ‘عدلیہ کو اپنا رول پلے کرنا چاہئے، اگر آلو پیاز پر نوٹس ہو سکتا تو یہ تو رٹ کا مسلہ ہے ‘انہوں نے کہا کہ گنڈاپور کون ہے، وہ تو ایک پیادہ ہے‘پی ٹی آئی لاشوں کے ڈھیر کا انتظار کر رہی ‘کے پی کے کے لوگ بھی ہمارے بچے ہیں ‘آپ ہیں کون کہ آپ افغانستان سے بات کریں گے، کیا آپ اس ملک کے باپ ہیں۔
Comments are closed.