اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو غیر قانونی طور پر گرفتار کرلیا گیا جبکہ سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی نیوز نے رپورٹ کیا کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کردیا گیا۔ پی ٹی وی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ علی امین گنڈا پور کے ریاست کے خلاف حملہ آور ہونے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور پر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، سرکاری وسائل کا غلط استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔ذرائع نے دعویٰ کیا کہ علی امین کو خیبر پختونخوا کو حراست میں لے لیا گیا، انہیں خیبر پختونخوا ہاؤس سے حراست میں لیا گیا، تاہم سرکاری ذرائع نے کہا کہ علی امین گنڈا پور کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔
ادھرڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسین زیدی نے تھانہ بہارہ کہو میں درج مقدمہ کی سماعت کی۔متعدد مرتبہ عدالتی طلبی کے باوجود علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش نہیں ہوئے، عدالت نے حکم دیا کہ علی امین گنڈاپور کو گرفتار کرکے آئندہ سماعت پر عدالت پیش کیا جائے۔عدالت نے کیس کی سماعت 12 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی۔ دوسری جانب پولیس اور پی ٹی آئی کے درمیان اسلام آباد کے چائنہ چوک، جناح ایونیو اور دیگر مقامات پر تصادم ہوا۔ ڈی چوک پر احتجاج کے لیے قافلوں کی صورت میں پی ٹی آئی کارکنان اسلام آباد پہنچنے کے لیے کوشاں ہیں جس کے لیے ان کے اور پولیس کے درمیان جگہ جگہ احتجاج جاری رہا۔
ٹیکسلا ٹھٹہ خلیل کے مقام پر پولیس کی جانب سے شدید شیلنگ کی گئی۔ مظاہرین کی جانب سے پولیس پر جوابی پتھراؤ اور شیل اٹھا کر واپس پھینکنے کا سلسلہ کافی دیر جاری رہا۔ شدید مزاحمت کے بعد پی ٹی آئی مظاہرین نے پتھر گڑھ کٹی پہاڑی کے مقام پر رکاوٹوں کو عبور کرلیا۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور قافلے کے ساتھ اسلام آباد پہنچ ہوگئے وہ وہاں پر قائم کے پی ہاؤس میں داخل ہوگئے جب کہ جگہ جگہ سے چھوٹے اور بڑے قافلے اسلام آباد کے مختلف مقامات پر موجود رہے جن میں چائنہ چوک، جناح ایونیو اور دیگر مقامات شامل ہیں جہاں کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوتا رہا۔پولیس کے مطابق کارکنوں کی جانب سے ان پر پتھراؤ جاری ہے، کارکن غلیلوں کے ساتھ کنچے بھی ماررہے ہیں۔وزیراعلیٰ کے پی کی گرفتاری کے لیے پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری کے پی ہاؤس پہنچی جو ساتھ قیدی وین بھی لائی، پولیس اور رینجرز کے پی ہاؤس میں داخل ہوئی۔ علی امین گنڈاپور کو آئی جی اسلام آباد نے حراست میں لیا۔ قبل ازیں کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ بھی کی گئی۔
Comments are closed.