کراچی میں دہشت گرد انہ حملہ پاک چین دیرینہ اور پائیدار دوستی کو سبوتاژ کرنے کی ایک اور نا کام کوشش، ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد (آن لائن) پاکستان نے چینی شہریوں پر کراچی میں ہونے والے دہشت گرد انہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوے کہا یہ دونوں ممالک کی دیرینہ اور پائیدار دوستی کو سبوتاژ کرنے کی ایک اور نا کام کوشش ہے ۔ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لاکر انکے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ افغان وزارت خارجہ کے غیر سنجیدہ بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہیں ۔ افغان عبوری حکومت کو ایک جمہوری ملک پر لیکچر دینے کے بجائے اپنے گھریلو مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ بھارتی وزیرخارجہ نے واضع کر دیا کہ وہ پاک بھارت تعلقات کے لئے نہیں صرف ایس او ایس کانفرنس میں شرکت کے لئے آ رہے ہیں ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا وزیراعظم شہباز کی دعوت پر ملائشیا کے وزیر اعظم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں ۔ ملاقاتوں کے دوران ٹریڈ کارپوریشن اور ٹیلی کمیونیکیشن کی یادداشتوں پر دستخط کئے گئے ۔
ماسکو فارمٹ ممالک نے سیکورٹی خدشات پر ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے ۔ ترجمان نے چینی شہریوں پر کراچی میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوے کہا حملے میں دو چینی انجینئرز کی جانیں گئیں اور ایک زخمی ہوا۔ متاثرہ چینی اور پاکستانی خاندانوں سے گہری تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہم زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہیں،۔ ترجمان نے دہشت گردی کی اس مذموم کارروائی کو نہ صرف پاکستان پر بلکہ پاکستان اور چین کی پائیدار دوستی پر بھی حملہ قرار دیتے ہوے کہا مجید بریگیڈ سمیت اس بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہیں۔ سیکورٹی فورسز دہشتگردوں اور سہولت کاروں کو پکڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ جو لوگ اس وحشیانہ حملے میں ملوث ہے ان کو ضرور سزا ملے گی۔ وزارت خارجہ تعاون اور سہولت کے لیے چینی سفارت خانے کے ساتھ رابطے میں ہے۔ ترجمان نے کہا پاکستان اور چین آہنی برادر ممالک ہیں۔ دونوں ممالک کا رشتہ باہمی احترام پر مبنی ہے۔ ترجمان نے کہا پاکستان چینی ادروں، شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت اور سلامتی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اپنے چینی بھائیوں کے ساتھ مل کر کام کرینگے۔ مشرق وسطی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوے کرتے ہوے ترجمان نے کہا اسرائیل کا جنگ غزہ پر جاری جنگ کو ایک سال ہوگیا۔ اسرائیل نے مقامی آبادیوں، سکولز اور ہسپتالوں کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل مسلسل جنگی جرائم کررہا ہے۔ ہم نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ امن کے لیے اقدامات کرے۔ ترجمان نے کہا سعودی اعلی سطح وفد 9 سے 11 اکتوبر تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔
وفد وزیر اعظم اور صدر سے ملاقاتیں کرینگے گے۔ افغان وزارت خارجہ کے بیان پر رد عمل دیتے ہوے ترجمان نے کہاپاکستان ، افغان وزارت خارجہ کے ترجمان کے غیر سنجیدہ بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ یہ بیان پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابل قبول اور قابل مذمت مداخلت ہے۔ ترجمان نے کہا افغان عبوری حکومت مذہب کی گمراہ کن تشریح کے ذریعے خواتین کے حقوق کم کرنے کے بجائے تعلیم سمیت اپنے لوگوں کی ضروریات پوری کرے۔ افغان عبوری حکوکت کو دہشت گرد گروپوں کو جگہ دینے سے انکار کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے کئے گئے وعدوں کو بھی پورا کرنا چاہئے۔ افغانستان میں موجود گرد گروہ پڑوسی ممالک میں امن اور سلامتی کو سنگین طور پر خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ عبوری حکومت، افغانستان کو ایک بار پھر عالمی دہشت گردی کا مرکز بننے سے روکے۔ ترجمان نے کہا پاکستان خطے میں امن، مذاکرات اور تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ توقع ہے افغانستان سمیت تمام ممالک ذمہ دارانہ بین الاقوامی طرز عمل اور بین الریاستی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کریں گے۔ افغان عبوری حکومت کو ایک جمہوری ملک پر لیکچر دینے کے بجائے اپنے گھریلو مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ترجمان نے کہا بھارتی وزیر خارجہ کی ایس سی او کے شرکت کے متعلق سنا۔ ہمیں ان کی جانب سے سرکاری طور پر بھی بھی بتایا گیاہم ایس سی او کے تمام ممبران کو خوش آمدید کہتے ہیں، بھارتی وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ وہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کے لیے آرہے ہیں۔ تاہم جے شنکر نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات کے لیے نہیں آرہا۔ ان کا یہ بیان خود ہی تفصیلات فراہم کررہا ہے۔
Comments are closed.