چیف جسٹس اور سینئر ججزمیں اختلافات ختم کرانے کے لیے جج جسٹس یحییٰ آفریدی متحرک ہوگئے

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ میں چیف جسٹس قاضی فائزعیسی اور سینئر ججزمیں اختلافات ختم کرانے کے لیے جج جسٹس یحییٰ آفریدی متحرک ہوگئے ہیں ،جسٹس یحیی آفریدی نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سے تلخیوں کے معاملہ پر بات چیت کی ہے اور ان تلخیوں کودورکرنے کے لیے استدعاکی ہے جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس یحیی آفریدی کی بات پر حامی بھرلی ہے کہ وہ ان تلخیوں کوختم کرنے کی کوشش کریں گے ذرائع نے بتایاہے کہ جسٹس یحیی آفریدی کاکوشش ہے کہ وہ ججز تلخیوں کو دور کرنے میں کردار ادا کرسکیں اور چیف جسٹس نے معاملہ پر تعاون کی یقین دہانی کرادی۔ذرائع نے بتایاکہ جسٹس یحییٰ آفریدی سینئر ججزجسٹس منصورعلی شاہ ،جسٹس منیب اخترسمیت دیگرسے بھی ملاقات کرکے اس معاملے کوحل کرنے کے لیے کوشش کریں گے۔

چیف جسٹس پاکستان سے تنازعہ اس وقت شروع ہواجب وفاقی حکومت نے ایک آرڈیننس کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات میں اضافہ کردیااور انھیں اپنی مرضی کاکوئی بھی جج کمیٹی میں شامل کرنے کی اجازت دے دی جس کے بعدانھوں نے ججزکمیٹی سے پریکٹس اینڈپروسیجرکے معاملات میں سینئر جج جسٹس منیب اخترکوکمیٹی سے الگ کرتے ہوئے جسٹس منصورعلی شاہ کے ساتھ جسٹس امین الدین کوشامل کرلیااور پھر بنچزکی تشکیل اورکازلسٹ جاری کرنے کے لیے اجلاس بلایا۔سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے اجلاس میں جسٹس منصور علی شاہ نے شرکت سے انکار کردیا تھا، انہوں خط لکھ کر واضح کیا کہ وہ فل کورٹ کی جانب سے آرڈیننس کے جائزے یا سابقہ کمیٹی کی بحالی تک اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتے۔جسٹس منصور علی شاہ نے خط میں کہا تھا کہ آئین کے مطابق پارلیمنٹ قانون بنانے اور سپریم کورٹ اپنے رولز بنانے میں خود مختار ہے، آرڈیننس کے اجرا کے باوجود پہلے سے قائم کمیٹی کام جاری رکھ سکتی تھی۔سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج نے کہا کہ آرڈیننس کے اجرا کے چند گھنٹوں میں وجوہات بتائے بغیر نئی کمیٹی کی تشکیل کیسے ہوئی، چیف جسٹس نے دوسرے اور تیسرے نمبر کے سینئر ترین جج کو کمیٹی کیلئے کیوں نہیں چنا۔انہوں نے خط میں سوال کیا چیف جسٹس نے چوتھے نمبر کے سینئر ترین جج کو ہی کمیٹی کا حصہ کیوں بنانا چاہا، کیا چیف جسٹس چوتھے نمبر کے جج کو کمیٹی کا رکن بنانے کی وجوہات بتائیں گے؟جسٹس منصور کے خط کے مطابق آرڈیننس آئین و جمہوری اقدار کے برخلاف ہے

، اس سے سپریم کورٹ میں ون مین شو قائم ہوا جب کہ آرڈیننس آئین کے آرٹیکل 191 اور سپریم کورٹ کے فل کورٹ فیصلہ کے خلاف ہے۔جس پرچیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے جسٹس منصور علی شاہ کے خط کا جواب دیا۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے لکھے گئے خط کے مندرجات کے مطابق خط 4 صفحات پر مشتمل ہے۔ چیف جسٹس کے خط میں کہا گیا کہ جسٹس یحیی آفریدی کو کمیٹی میں شامل ہونے کا کہا گیا لیکن انہوں نے ججز کمیٹی میں شامل ہونے سے معذرت کی، جسٹس یحیی آفریدی کی معذرت پر جسٹس امین الدین خان کو کمیٹی میں شامل کیا گیا،جوابی خط کے مطابق قانون کے تحت آپ اس بات پرسوال نہیں اٹھاسکتیکہ چیف جسٹس کس جج کو کمیٹی میں شامل کرے، میں ہمیشہ احتساب اور شفافیت کا داعی رہا ہوں۔چیف جسٹس نے جسٹس منیب اخترکے حوالے سے بھی ذکرکیا۔یوں یہ تلخی بڑھتی گئی اور چیف جسٹس نے چار رکنی بنچ کے ساتھ کیس کی سماعت کی تواس پر جسٹس منیب اخترنے سوالات اٹھادیے اور اس بنچ کوسرے سے غیر قانونی قراردے دیا۔ججزکمیٹی کے اجلاس ہورہے ہیں مگران اجلاسوں میں جسٹس منصورعلی شاہ شامل نہیں رہے ہیں جس پر معاملا ت اورزیادہ خراب ہورہے ہیں جس پر جسٹس یحی آفریدی نے اپنی طرف سے قدم اٹھایاہے اور چیف جسٹس اور ججزمیں اختلاف کوختم کرنے کی کوشش کی ہے ۔

Comments are closed.