پارلیمانی خصوصی کمیٹی کا اجلاس،پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مسودے شیئر کر دیئے ،آج ہفتہ کو پھر اجلاس ہوگا
اسلام آبا د(آن لائن)آئینی ترامیم پر اتفاق رائے کے لئے پارلیمانی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں جمعہ کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے اپنے مسودے شیئر کر دیئے جبکہ تحریک انصاف نے بانی چیئرمین سے ملاقات اور منظوری تک کسی بھی مسودے کی حمایت یا مخالفت کی معذوری ظاہر کردی،دوسری طرف مولانا فضل الرحمن نے اپنے موقف میں لچک دکھاتے ہوئے واضح کیا کہ وہ حکومتی مسودہ اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ شیئر کریں گے اور اس کے بعد اپنا موقف دیں گے تاہم ابھی آئینی مسودہ پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تاریخ حتمی تعین نہیں ہوا ،پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس آج ہفتہ کو بھی جاری رہے گا ،پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سید خورشید احمد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس ہوا جس میں بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن نے خصوصی طور پر شرکت کی جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور عامر ڈوگر نے شرکت کی ،دیگر سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنما بھی موجود تھے ۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی نے اپنا مسودہ تحریری مسودہ کمیٹی کے ساتھ شیئر کر دیا ہے جس میں انہوں نے آئینی عدالت کے قیام سے متعلق اپنی تجاویز دے دی ہیں جبکہ حکومت نے زبانی طور پر اپنی تجاویز کمیٹی کو آگاہ کیا
، اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وہ آج ہفتہ کے اجلاس میں تحریری طور پر مسودہ سامنے لے آئیں گے ،مولانا فضل الرحمن کی طرف سے موقف اختیار کیا گیا کہ ان کی جماعت نے بھی ایک مسودہ تیار کیا ہے وہ جلد کمیٹی کے ساتھ شیئر کیا جائے گا اور اس کے بعد اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی ۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم نے اپنی اور وکلا بار کی تجاویز سامنے رکھی ہیں یہی وہی ڈرافٹ ہے جس میں آئینی عدالت کی بات ہے ،جوڈیشل کمیشن ،ججز کے احتساب کا نظام اور جو ججز کام نہیں کرتے ان کے خلاف قانون بنانے کی تجویز دی ہے، پی ٹی آئی نے مسودہ دیکھنے کے لئے وقت مانگا ہے لیکن رائے نہیں دی
،مولانا فضل الرحمن نے اپنا مسودہ ابھی تک نہیں دیا ہم ان کے تحریری مسودے کے منتظر ہیں ،آج ہفتہ کو دوبارہ اجلاس ہوگا البتہ ہیجانی کیفیت ختم ہوگئی ہے ۔مولانا فضل الرحمن نے اس موقع پر کہا کہ ہم نے ایک دوسرے کا موقف سنا ہے اور حکومت نے پہلی دفعہ اپنا ڈرافٹ شیئر کیا ہے اب دیکھتے ہیں بات کہاں تک پہنچتی ہے ،پیپلز پارٹی کی تجاویز بھی سامنے آٰگئی ہیں ،جے یو آئی اور پیپلز پارٹی اس مسودے پر مشاورت کرے گی جبکہ ہم پی ٹی آئی کے ساتھ بھی مشاورت کریں گے ،ٹائم فریم نہیں دے سکتے کہ کب تک اتفاق رائے ہوگا لیکن کوشش ہے کہ اتفاق رائے ہو جائے جو تجاویز جے یو آئی (ف) کی تھیں وہ بھی زیر بحث آئی ہیں، چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نے کوئی ڈرافٹ پیش نہیں کیا کچھ تجاویز پیش کی ہیں ،دوسری طرف عامر ڈوگر نے کہا کہ حکومت نے اپنا نصف مسودہ پیش کیا ہے ہمیں ڈرافٹ مل گئے ہیں اس پر ہم پارٹی میں مشاورت کریں گے ۔
Comments are closed.