ایوان بالا میں 26ویں آئینی ترمیمی بل 2تہائی اکثریت سے منظور ہوگئی
بل کے حق میں 65جبکہ مخالفت میں 4ووٹ پڑے،جے یوآئی کی جانب سے دی جانے والی ترامیم بھی بل کا حصہ بن گئیں اس بل کا مقصد عدلیہ کے نظام میں شفافیت لانا ہے ، منظوری کے بعد چیف جسٹس کا تقرر اب جوڈیشل کمیشن کرے گا ، ججز کی تعیناتی میں شفافیت کے لیے ایک جگہ پر سارے سٹیک ہولڈرز بیٹھ کر فیصلہ کریں گے ، اعظم نذیر تارڑ
اسلام آباد(آن لائن)ایوان بالا میں 26ویں آئینی ترمیمی بل 2تہائی اکثریت سے منظور ہوگئی، بل کے حق میں 65جبکہ مخالفت میں 4ووٹ پڑے،جے یوآئی کی جانب سے دی جانے والی ترامیم بھی بل کا حصہ بن گئیں۔اتوار کو سینیٹ کا اجلاس چیرمین سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں شروع ہوا اجلاس میں وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے 26ویں آئینی ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد عدلیہ کے نظام میں شفافیت لانا ہے انہوں نے کہاکہ اس بل کی منظوری کے بعد چیف جسٹس کا تقرر اب جوڈیشل کمیشن کرے گا انہوں نے کہا کہ ججز کی تعیناتی میں شفافیت کے لیے ایک جگہ پر سارے سٹیک ہولڈرز بیٹھ کر فیصلہ کریں گے انہوں نے کہا کہ ایک طریقہ کار اپنایا گیا ہے جس میں جودیشیل کمیشن کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ انہوں نے کہا کہ آئینی بنچز کا طریقہ کار بھی جوڈیشل کمیشن طر کرے گا انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کے حوالے سے مختلف سٹیک ہولڈر سے مشاورت کی گئی انہوں نے کہا کہ ہم نے قاضی فائز عیسی کے لیے کوئی ترامیم نہیں کی ہیں انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں آئینی بنچز کے حوالے سے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے سابقہ ادوار میں ہماری عدالت عظمیٰ نے کروڑوں ووٹوں سے منتخب وزیر اعظم کو گھر بھیجا اب ہم نے آئینی عدالت سے آئینی بنچ پر اتفاق کیا ہے اور یہ تجویز اپوزیشن کی جانب سے بھی آئی تھی انہوں نے کہاکہ اب چیف جسٹس کی تقرری اور معیاد عہدہ تین سال کے لئے ہوگا اور تین سینیٹر ججز میں سے ایک جج کو لیا جائے گا انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی تقرری 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی کرے گی جس میں سیاسی جماعتوں کی متناسب نمایندگی ہوگی اور دوتہا ئی اکثریت سے یہ نامزدگی ہوگی انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تغیرات کے حوالے سے ایک شق کا اضافہ کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ صوبوں میں آئینی عدالت کے قیام کے لئے جودیشیل کمیشن اسی صوبے کی مشاورت سے ہوگی انہوں نے ایوان سے استدعا کی کہ اس پر ہمارا ساتھ دیں انہوں نے کہا کہ نظام انصاف میں شفافیت کے لیے یہ اقدامات اٹھائے گئے ہیں اس ایوان نے آئین بنایا ہے اس موقع پر تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیر علی ظفر نے کہا کہ آئین قوم کو اکٹھا کرتا ہے اور عوام کی رضامندی سے بنتا ہے اگر رضامندی نہیں ہوگی تو اس سے قوم کو شدید نقصان پہنچتا ہے انہوں نے کہا کہ 1956 اور 1965 کا آئین سب کے سامنے ہے
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات آئینی ترامیم بھی بہت نقصان پہنچاتی ہے انہوں نے کہا کہ ایک ترمیم جو ڈکٹیٹر نے ڈالی تھی اس سے دو منتخب حکومتوں کو گھر بھیجا گیا انہوں نے کہا کہ یہ آئینی ترامیم جو پیش کی جارہی ہیں اس کا پورا عمل دھونس اور دھاندلی سے مشکوک بنایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ لوگوں سے زبردستی دھونس اوردھاندلی سے ووٹ لینا نہ صرف آیین اور جمہوریت کے خلاف ہے بلکہ اسلام کے اصولوں کے بھی خلاف ہے انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے ساتھیوں نے بل کو ووت دیا تو ہم کسی بھی قسم کے آئینی ترمیم کو سپورٹ نہیں کریں گے اور اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کا ووت شمار نہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمانی کمیٹیوں میں موجود رہے مگر کوئی بھی ترمیم پیش نہیں کی انہوں نے کہا کہ میں نے جود تمام اجلاسوں میں شرکت کی ہے اور جب یہ معاملہ شروع ہوا تو حکومت کی جانب سے 80 سے زائد ترامیم پر مشتمل آئینی پیکیج لایا گیا جو کہ بہت ہی خطرناک تھا انہوں نے کہا کہ ایسی بھی شقیں تھی جس کو مولانا فضل الرحمن نے کالا ناگ قرار دیا اسی طرح ایک آئینی عدالت بنائی جارہی تھی جس کا مقصد پی تی آئی کے خلاف اقدامات کرنا تھا انہوں نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے پہلے میٹنگ میں بھی یہی منصوبہ بنایا گیا تھا کہ اس ڈرافٹ کو منظور کرلیا جائے۔ سینٹر علی ظفر نے کہاکہ آئینی عدالت میں من پسند ججز لگانے کا منصوبہ بنایا گیا تھا انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے جے یوآئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس ڈرافٹ پر سب سے پہلے اعتراض کیا انہوں نے کہاکہ جب ہمیں بتایا گیا تو بڑی خوشی ہوئی کہ ہمارے ساتھ ایک اور پارٹی انصاف اور قانون کی بالادستی کیلئے کھڑی ہے اس کے بعد جو ہوا وہ سب کو پتہ ہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ روز ہمیں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ملاقات میں ایک ڈرافٹ دیا گیا ہم اس ڈرافٹ کو دیکھنے کیلئے تیار تھے مگر ان دنوں میں ایک اور عمل جاری تھا اور ہمیں بانی چیرمین کے ساتھ ملاقات کا موقع نہیں دیا جارہا تھا اور اس صورت میں ہم مشاورت کے بغیر کسی طرح فیصلہ کر سکتے تھے ہم نے درخواست کی کہ ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملنے دیا جائے تو ہمیں مولانا صاحب کی وساطت سے ملنے کا موقع دیا گیا اور یہ ملاقات 35منٹ پر محیط تھی جس میں ہمیں پتہ چلا کہ انہیں سخت قید تنہائی میں رکھا گیا اورانہیں کچھ بھی معلوم نہیں تھا ہم نے ان کو آئینی پیکیج کے بارے میں بتایا جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہاکہ اچھی بات ہے اس پر مشاورت ہونی چاہیے تاہم میں 5منٹ میں فیصلہ نہیں کرسکتا ہوں اس میں مذید مشاورت درکار ہے اور حکومت کو اس میں اتنی جلدی کیوں ہے جس پر ہم نے بتایا کہ 25تاریخ سے پہلے حکومت یہ ترامیم لانا چاہتی ہے
جس پر انہوں نے کہاکہ میں نے کسی پریشر میں نہیں آنا ہے اور اس پر مذید مشاورت درکار ہے جس پر ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں بانی چیرمین سے مشاورت کا موقع نہیں ملا اسی وجہ سے ہم ان اصلاحات کا حصہ نہیں بننا چاہتے ہیں انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ دستاویز جو کہ آئینی ترمیم ہے مجھے لگا کہ اس ایوان میں بہت سارے لوگوں نے اس کو پڑھا تک نہیں ہے اور 99فیصد اراکین بے خبر ہیں اور اگر اس آئینی ترامیم منظور کریں گے تو یہ جمہوریت پر بہت بڑا دھبہ ہوگا انہوں نے کہاکہ ریکارڈ کی درستگی کیلئے یہ کہنا چاہوں گا کہ اس دستاویز میں بھی بہت سنگین غلطیاں ہیں اور اس کو واپس کرنے میں بہت زیادہ مشکلات پیش آئیں گے انہوں نے کہاکہ آئینی بنچ میں بھی تعیناتی کا طریقہ کار حکومت کے حق میں ہے اور حکومت اپنے جج اس بنچ میں لگا سکتی ہے اور یہ سب جلد ہی دیکھ لیں گے انہوں نے کہاکہ چیف جسٹس کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی مقرر ہے تاہم اس قانون میں یہ طریقہ کار نہیں دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ آئینی بنچ ٹھیک ہے تاہم اس سے بھی بہت مسائل بنیں گے کہ کونسا کیس اس عدالت میں جائے گا یا نہیں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اس میں ووٹنگ نہیں کریں گے تاہم ہم جے یوآئی اور مولانا فضل الرحمن کہ شکر گزار ہیں کہ انہوں نے حکومت کے خطرناک بل سے اس قوم کو بچایا ہے۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ آج پورے ملک کی نظریں اس اہم قانون سازی پر ہے انہوں نے کہاکہ بار بار یہ کہا جارہا ہے کہ یہ بل سیاسی مقاصد کیلئے پیش کیا جارہا ہے انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے اس آئین کی بنیاد رکھی ہے اور اس کے بعد 18ویں ترمیم کے زریعے اس ڈھانچے کو بچانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور اس کے بعد بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف کے خواب کو پورا کیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ کوئی جمہوریت پر حملہ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے جوڈیشیل سسٹم تباہ ہوگاانہوں نے کہاکہ ہم فخر سے سیاست کرتے ہیں ہم نے جمہوریت کیلئے قربانیاں دی ہیں کیا پارلیمان کو اپنے حق کیلئے قانون سازی کی اجازت نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہم پیپلز پارٹی سے ہیں ہم نے کالے ناگ کو ختم کیا ہے ہمیں ملک کے حالات کو دیکھنا ہوگا انہوں نے کہاکہ دنیا میں یہ نہیں ہوتا کہ ججز اپنے آپ کو خود تعینات کرتے ہیں ہر ملک میں جوڈیشیل کمیٹی ہوتی ہے وہی تعیناتیاں کرتے ہیں ۔ اس موقع پر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہاکہ یہ ترامیم جمہوریت کی بقا کرے گی اور لوگ ہمیں یاد کریں گے انہوں نے کہاکہ ان ترامیم کے بعد ایسے فیصلے اور لوگ سامنے نہیں آئیں گے انہوں نے کہاکہ حکومت عوام کی نمائندہ ہے انہوں نے ججز کو بھی تعینات کرنا ہے اور تمام نظام کو سیدھا کرکے عوام کے سامنے رکھنا ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے روز اول سے ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ ہم اس بل کا حصہ نہیں بنیں گے میں نے ہر اجلاس میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی نان سیریس ہے پارلیمانی کمیٹی کے ہر اجلاس میں سینیٹڑ علی ظفر نے تقریر کی ہے انہوں نے کہاکہ یہ سیاست ہے سیاست میں آگے بڑھیں ہمارا بانی باچا خان تھا اس کا مطلب ہے کہ پی ٹی آئی سنگل پارٹی ہے اور صرف بانی کا ہی حکم چلتا ہے انہوں نے کہاکہ بل میں چار نکات کم ہیں ہم نے 26نکات پر اتفاق کیا تھا اس میں 22نکات ہیں 9مئی کو جس نے بھی دفاعی تنصیاب پر حملہ کیا ہے اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے
انہوں نے کہاکہ تاریخ شاہد ہے کہ میرے باپ،دادا اور پردادا ایک ہی وقت میں قید میں تھے مگر ہم نے فوج کے خلاف بغاوت نہیں کی ہم نے توا پنے ملک کے تحفظ کی قسم کھائی ہے ہمارے شکایات ہیں مگر اس کا یہ مطب نہیں ہے کہ ہم فوج تنصیبات پر حملہ کریں انہوں نے کہاکہ فوجی تنصیبات سمیت سرکاری اور زاتی تنصیبات پر کسی کو بھی حملے کا حق نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اس آئینی بل پر بہت مباحثہ ہوچکا ہے اب مذید بحث کی گنجائش نہیں ہے ۔ اس موقع پر ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فیصل سبزواری نے کہاکہ آئینی پیکیج میں عوام کی بہتری اسی چیز میں ہے کہ عام لوگوں کی اپیلوں کو جلد سنا جاسکے انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم نے بھی اتفاق رائے کے ساتھ اپنی آئینی ترامیم پیش کی ہیں کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنایا جائے مگر بدقسمتی سے کسی بھی صوبے نے بلدیاتی اداروں کو وہ اختیارات نہیں دئیے ہیں اس حوالے سے ہم نے تجاویز پیش کی ہیں انہوں نے کہاکہ آئین میں عوام کے مفاد کی خاطر ترامیم کی تجاویز دیتے رہیں گے اس موقع پر مولانا عطاء الرحمن نے کہاکہ جب بھی آئین میں ترمیم کی بات کی جاتی ہے تو جے یوآئی کو تشویش لاحق ہوجاتی ہے انہوں نے کہاکہ آئین میں رخنہ ڈالنے کی کوشش سابقہ ادوار میں کی گئی اسی طرح اسٹیبلشمنٹ نے بارہا کوشش کی کہ آئین میں ایسی چیز ڈال دی جائے کہ مستقبل میں یہ ملک محفوط نہ رہ سکے اور اس بار بھی یہ 26ویں ترمیم سامنے لائی گی
اور اس کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد جماعت اس نتیجے پر پہنچی کہ اگر جس طرح یہ تجویز کی گئی تھی اسی طرح منظور ہوجاتی تو یہ خطرناک سانپ ہوتا اور اس میں ملک کے مستقبل کو خطرہ لاحق تھا اور میں اس پر اپنی پارٹی کے اکابرین کو مثبت تجاویز پر مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو کہتا ہوں کہ جس ملک ک بقا کیلئے ہم کوشش کر تے ہیں اس میں جے یوآئی کا ساتھ دیں اور ان کا اپنی قیادت کے متعلق جو گلہ ہے اور جو رویہ رکھا گیا ہے ہم نے اس کی مذمت بھی کی ہے حکومت کو چاہیے کہ ان کو آئین اور قانون کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں انہوں نے کہاکہ جے یوآئی ان ترامیم کی حمایت کرتی ہے اور مستقبل میں اس میں موجود خامیوں کو نکالنے کیلئے بھی ترامیم لاتی رہے گی سینیٹر علامہ ناصر عباس نے کہاکہ آئین کے اندر ترمیم پارلیمنٹ کا حق ہے اور پوری قوم کی نظریں اس ایوان پر ہے اگر ہم عوام کے برخلاف کام کریں گے تو کوئی بھی اعتماد نہیں کرے گا انہوں نے کہاکہ جب راتوں رات ترامیم لائی گئیں تو عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے انہوں نے کہاکہ ایسی ترامیم کو آئین ک تقدس کا پامال کردے وہ درست نہیں ہے انہوں نے کہاکہ آئینی ترامیم اگر ظلم کرکے ہوں اور لوگوں کواٹھا کرکے کئے جائیں تو یہ کونسی ترمیم ہے اگر ہمارے ساتھیوں پراس طرح کا پریشر یا دباوٴ ہو تو بحثیت چیرمین آپ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اس طرح سے تو آئینی ترامیم نہیں ہوسکتی ہیں انہوں نے کہاکہ عوام کی مشکلات کیلئے تو کوئی ترامیم نہیں لائی جاتی ہیں اس وقت ملک کے عوام بیدار ہوچکے ہیں اگر ایسی ترامیم کی گئیں جس کا مقصد پی ٹی آئی کونشانہ بنانا ہے تو یہ درست نہیں ہے انہوں نے کہاکہ ہم ایک دوسرے پر اعتماد کرسکتے ہیں اگر ہم نے ایک دوسرے پر اعتماد نہ کیا تو اس سے نقصان ہوسکتا ہے انہوں نے کہاکہ عوام کا اعتماد سب سے ضروری ہے میری گزارش ہے کہ اس ایوان پر عوام کے اعتماد کو بحال کیا جائے انہوں نے کہاکہ سینیٹرز کے ساتھ ظلم کیا گیا یم این ایز کو اٹھایا گیا یہ بہت زیادتی ہے ۔اس موقع پر وفاقی وزیر سینیٹر اعطم نذیر تارڑ نے ایوان میں 26ویں آئینی ترمیمی بل پیش کیا ۔اس موقع پر اپوزیشن اراکین نے بل پر رائے شماری کا مطالبہ کیا جس پر قائد ایوان اور نائب وزیر اعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے کہاکہ اس حوالے سے جو طریقہ کار موجود ہے اس پر عمل درآمد کیا جائے گااس موقع پر چیرمین سینیٹ کے احکامات پر سینیٹ کی تمام لابیز اور گیلریز کو مہمانوں اور سرکاری افسران سے خالی کرا لیا گیابعدازاں ایوان میں بل کی شق وار منظوری کیلئے رائے شماری کرائی گئی جس پر65ممبران نے آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دیا جبکہ اپوزیشن کے 4ممبران نے بل کی مخالفت میں ووٹ دیا اس موقع پر جے یوآئی کی جانب سے سینیٹر کامران مرتضی کی جانب سے ترامیم پیش کی گئیں اس موقع پر وفاقی وزیر نے ان ترامیم کی مخالفت نہیں کی اور ترامیم کثرت رائے سے منظور کر لی گئیں اجلاس میں آئینی ترمیمی بل کی منظور ی کیلئے اراکین کو دو ڈویڑنز میں تقسیم کرکے رائے شماری کی گئی اس موقع پر ایوان بالا کے 65ممبران نے بل کی حمایت کی جبکہ ایوان میں موجود اپوزیشن کے 4ممبران نے بل کی مخالفت کی۔۔
Comments are closed.