سینیٹ داخلہ کمیٹی :ریپ میں ملوث مجرموں کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دینے کے حوالے سے بل پرکمیٹی تشکیل

اسلام آباد(آن لائن) سینیٹ داخلہ کمیٹی نے خواتین اور معصوم بچوں کے ریپ میں ملوث مجرموں کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دینے کے حوالے سے بل پر ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ،کمیٹی نے وفاقی دارلحکومت میں تجاوزات کی بھرمار کے حوالے سے سیکرٹری داخلہ اور چیرمین سی ڈی اے سے رپورٹ طلب کر لی۔جمعرات کوسینٹ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس سینٹر فیصل سلیم کے زیرِ صدارت منعقد ہوا اجلاس میں کمیٹی اراکین کے میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام اور ڈی سی اسلام آباد سمیت دیگر افسران نے شرکت کی اجلاس میں ریپ کیسز میں سزا بڑھانے کے حوالے سے سینٹر محسن عزیز کی جانب سے ترمیمی بل پر بحث کی گئی اس موقع پر سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ ریپ کیسز میں سزا بہت کم ہے اس کی سخت سے سخت سزا دینا ہوگی انہوں نے کہاکہ ایسے کیسز میں مجرم جب تک ذندہ ہے اسے جیل میں رہنا چائیے کمیٹی کی رکن سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہاکہ پچاس سال پرانے قوانین پر ہم چل رہے ہیں اب ہمیں یہ ایسے قوانین میں تبدیلی کرنی چائیے بل کے محرک سینیٹر محسن عزیز نے کہاکہ ایسے کیسز میں کم از کم 25سال سزا ہونی چائیے انہوں نے کہاکہ اگر کمیٹی ممبران 25 سال قید کو سزائے موت بھی بنا دیں تو مجھے اعتراض نہیں ہے اس موقع پر سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ ریپ کیسز کے حوالے سے پہلے ہی قانون موجود ہے انہوں نے کہاکہ موت سے بڑی کوئی چیز نہیں ہے اس موقع پر اجلاس میں ریپ کیسز کے حوالے سے قانون میں ترمیم کے حوالے سے سب کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا

چیرمین کمیٹی نے کہاکہ ذیلی کمیٹی میں داخلہ۔ قانون اور انسانی حقوق کے نمائندے شامل ہوں گے جبکہ کمیٹی دس روز میں اپنی رپورٹ دے گی جلاس میں پرائس کنٹرول اینڈ پروینشن آف پرافٹنگ اینڈ ہورڈنگ ترمیمی بل سینیٹر محسن عزیز کی جانب سے کیا گیاکمیٹی کی جانب سے بل وزارت قانون کو بھیج دیا گیااجلاس میں سینیٹر پلوشہ کی طرف سے شاملات لینڈ پروٹیکشن ترمیمی بل پر پیش کیا گیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کمیٹی کو بتایا کہ باقی اضلاع میں شاملات کا مطلب ہے کہ یہ پبلک پراپرٹی ہے جبکہ سلام آباد میں شاملات کا مطلب پرائیویٹ پراپرٹی ہے انہوں نے کہاکہ 2 لاکھ 98 ہزار مربع فٹ کا ایریا ہے انہوں نے بتایا کہ ایف سکس میں 1 ہزار ایریا کے 100 مالکان ہیں انہوں نے کہاکہ نقشہ بنانا الگ ہوتا ہے لیکن کسی کی ملکیت کو ریگولرائز نہیں کیا جاسکتاہے انہوں نے کہاکہ جب سی ڈی اے جگہ اکوائر کرتا ہے تو شاملات بھی اس میں شامل ہیں اس موقع پر سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ جب جگہ آپ نے ایکوائرکر لی تو آپ اس کے مالک بن گئے

سینیٹر پلوشہ نے ڈپٹی کمشنر سے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ اسلام آباد میں شاملات نہیں ہیں جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ باقی اضلاع میں شاملات میں قبرستان وغیرہ بنا دئیے جاتے ہیں انہوں نے کہاکہ تجاوزات کے خلاف سی ڈی اے کے آپریشنز جاری ہیں سیکرٹری داخلہ نے کہاکہ اسلام آباد کا تصور الگ اور سی ڈی اے کا الگ ہے انہوں نے کہاکہ شہر میں تجاوزات موجود ہیں اور آپریشن ہوتے ہیں اس موقع پر چئیرمین کمیٹی نے وفاقی دارحکومت میں تجاوزارت کے حوالے سے اعدادوشمار مانگ لیے(اعجاز خان )

Comments are closed.