راولپنڈی (آن لائن)تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کیلئے جانے والے شبلی فراز،عمر ایوب،اسد قیصر،احمد رضا،احمد خان سمیت تمام رہنماؤں کو اڈیالہ جیل چوکی سے رہا کر دیا گیاہے جس کے بعد تمام رہنماگاڑیوں میں بیٹھ کر اسلام آباد کے لئے روانہ ہوگئے ،اس موقع پر اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر سمیت معزز رہنماوٴں کی گرفتاری فسطائیت ہے ،یہ کوئی جمہوری روایات نہیں کہ ممبران اسمبلی یوں گرفتار و رہا کیا جائے،حامد رضا کا کہنا تھا کہ ہیومین رائٹس کمشن میں جائیں گے،ہمیں حبس بجا میں رکھا گیا ۔قبل ازیں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جانے والے کئی سینئر پی ٹی آئی رہنماوٴں کو گرفتار کیا گیا ۔اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمر ایوب، قائد حزب اختلاف سینیٹ شبلی فراز، اور دیگر رہنماوٴں بشمول قائد حزب اختلاف پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بچھر، اور سنی اتحاد کونسل کے سربراہ صاحبزادہ حامد رضا اڈیالہ جیل پہنچے تھے۔ اس دوران سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور پی ٹی آئی کی خاتون رہنما عالیہ حمزہ بھی جیل پہنچ گئیں۔ تمام رہنما جیل کے گیٹ نمبر 5 پر پہنچے، جہاں سے سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد انہیں جیل کے اندر جانے کی اجازت دی گئی۔
تاہم ذرائع کے مطابق، اسد قیصر، شبلی فراز، عمر ایوب، ملک احمد خان بچھر اور صاحبزادہ حامد رضا کو جیل کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا اور انہیں اڈیالہ چوکی منتقل کر دیا گیا۔ عالیہ حمزہ گرفتاری سے بچ کر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئیں۔پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس معاملے پر اپنے ردعمل میں کہا کہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات شیڈول کے مطابق تھی، لیکن رہنماوٴں کو ملاقات کرنے نہیں دیا گیا۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پی ٹی آئی کے تمام رہنماوٴں کو تقریباً تین گھنٹے تک انتظار کرایا گیا اور پھر جب وہ واپس جانے لگے، تو انہیں ان کی گاڑیوں سے نکال کر گرفتار کر لیا گیا۔انہوں نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سینٹ، قومی اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز کو ان کی گاڑیوں سے گھسیٹ کر گرفتار کیا گیا، جو کہ ایک غیر جمہوری اور آمرانہ عمل ہے۔ شیخ وقاص اکرم نے اس گرفتاری کو "فسطائیت” قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ تمام رہنماوٴں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔بعد ازاں پولیس نے شبلی فراز، عمر ایوب، احمد بچھر، صاحبزادہ حامد خان اور اسد قیصر کو رہا کر دیا۔ اسد قیصر نے رہائی کے بعد کہا کہ انہیں غیر قانونی طور پر چوکی کی حوالات میں بند رکھا گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے ائے تھے اور اب اسلام آباد جا کر پریس کانفرنس کریں گے۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ قومی اسمبلی، سینٹ اور پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈرز کو حبس بے جا میں رکھا گیا تھا اور وہ اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں۔شبلی فراز نے کہا کہ ہم ملاقات کے لیے آئے تھے اور کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی تھی۔ جب ہم واپس جانے لگے، تو ہمیں بے رحمی سے گاڑیوں سے نکال کر گرفتار کیا گیا۔پولیس ترجمان کے مطابق، اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے کارکنوں کے اکٹھے ہونے کی وجہ سے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر ان کارکنوں کو وارننگ دے کر روانہ کر دیا گیا۔ پولیس نے کہا کہ قانون کی عملداری کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
Comments are closed.