پی ٹی آئی کا قائدین کو حبس بے جا رکھنے کیخلاف وزیراعظم و وزیراعلٰی کیخلاف کارروائی کا اعلان
آئی جی پنجاب،ہوم سیکرٹری اور آئی جی جیل خانہ جات سمیت دیگر افسران کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں استحقاق کی تحریک لائیں گے،عمر ایوب کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(آن لائن) پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے اور 5رہنماؤں کو حبس بے جا میں رکھنے کے خلاف وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سمیت ہوم سیکرٹری پنجاب آئی جی اور ئی جی جیل خانہ جات کے خلاف کاروائی کا اعلان کیا ہے۔،اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہاکہ آئی جی پنجاب،ہوم سیکرٹری اور آئی جی جیل خانہ جات سمیت دیگر افسران کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں استحقاق کی تحریک لائیں گے۔منگل کے روزخیبر پختونخوا ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہاکہ عدالت کے حکم پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کیلئے آڈیالہ جیل گئے تھے وہاں پر جیل ملازمین نے ہمیں انتظار کرنے کا کہا تاہم کافی دیگر انتظار کرانے کے باوجود بھی کوئی جواب نہیں دیا گیا اور اس دوران وہاں پر موجود پولیس اہلکاران نے میرے سمیت اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی احمد خان سمیت سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر شبلی فراز،صاحبزادہ حامد رضا کو حبس بے جار میں رکھا اس موقع پر پولیس نے ہمارے ڈرائیور کو گاڑی سے نکالا اور گاڑی کو لیکر آڈیالہ پولیس چوکی میں لے گئے انہوں نے کہاکہ ہم نے پولیس کا بارہا کہا کہ یہ بہت غلط ہے جس پر انہوں نے کہاکہ ہم مجبور ہیں انہوں نے کہاکہ ہم جوڈیشیل کمیشن آف پاکستان کے ممبر ہیں ایک پنجاب اسمبلی کا اپوزیشن لیڈر ہے سب کو حبس بے جا میں رکھا گیا انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم پاکستان،وزیر اعلیٰ پنجاب،آئی جی پنجاب،آئی جی جیل خانہ جات،ڈی آئی جی اور ڈی پی او سب ذمہ دار ہیں اور سٹاف کالج میں فیل آئی ایس آئی اور ایم آئی کا کرنل ذمہ دار ہے انہوں نے کہاکہ تمام سیکورٹی ایجنسیاں اس واقعے کی ذمہ دار ہیں ہم سب کو حبس بے جا میں رکھا گیا اور یرغمال بنایا گیا انہوں نے کہاکہ پنجاب پولیس حرام کی کمائی سے چل رہی ہے ہم نے وہاں پر پانی بھی نہیں پیا ہے انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھتے ہیں اور ریاست کے ذمہ داروں سے پوچھتا ہوں کہ عدالت کے احکامات کو کیوں خلاف ورزی کی ہے انہوں نے کہاکہ حکومت کے ہوش و حواس اڑ چکے ہیں اور بانی پی ٹی آئی سے ان کے کارکنوں کی ملاقات نہیں کرائی جارہی ہے
انہوں نے کہاکہ ہم اس واقعے کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تحریک استحقاق لائیں گے اور ان کے خلاف ہمیں حبس بے جا میں رکھنے اور سرکاری گاڑیوں کو قبضے میں لینے کے خلاف ایف آئی آر کی درخواست دیں انہوں نے کہاکہ واقعے کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کی ریکوزیشن دیں گے اور جوڈیشیل کمیشن کے ممبران کی حیثیت سے چیف جسٹس کو بھی درخواست دیں گے سینیٹر شبلی فراز نے کہاکہ کچھ عرصہ قبل ہمارے ایم این ایز کو قومی اسمبلی سے اٹھایا گیا تھا اور آج یہ واقعہ ہوا ہے انہوں نے کہاکہ عدالتی احکامات کے تحت بانی پی ٹی آئی سے ملنے گئے تھے مگر ہمارے ساتھ جو سلوک ہوا ہے یہ پاکستان کے آئین اور پارلیمان کے ساتھ ہوا ہے اور ہمیں گھسیٹ کر پولیس چوکی میں لے جایا گیا اور گاڑیوں کو قبضے میں لیا گیا انہوں نے کہاکہ حکومت اوچھے ہتکھنڈوں پر اتر آئی ہے اور لگتا ہے کہ ان کے پاس کوئی کنٹرول نہیں ہے اس موقع پر پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان نے کہاکہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کرنے والوں کو ڈرانے کا فیصلہ کیا ہے انہوں نے کہاکہ ٹاک ٹاکر حکومت کی کارکردگی سب کے سامنے ہے عوام سموگ سے مرر ہی ہے جبکہ ٹاک ٹاکر وزیر اعلیٰ جنیوا میں بیٹھی ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے بھی نہیں ڈرتے ہیں ایجنسز اور چچا بھتیجی کی حکومت سے بھی کوئی خوفزدہ نہیں ہے انہوں نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی کے ہر اقدام صاحبزادہ حامد رضا نے کہاکہ ہائیکورٹ کے جج کے آرڈر کے ساتھ جو سلوک آڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ نے کیا ہے وہ سب کے سامنے ہے انہوں نے کہاکہ ایسا سلوک تو دہشت گردوں کے ساتھ کیا جاتاہے انہوں نے کہاکہ ہم نے مشرف کی جیلیں کاٹی ہیں ہم کسی سے بھی خوفزدہ نہیں ہیں انہوں نے کہاکہ اس معاملے کو انسانی حقوق کمیٹی میں اٹھائیں گے انہوں نے کہاکہ سابق سپیکر اسد قیصر سمیت جس طریقے سے پارٹی کے رہنماؤں کو پولیس نے دھکے دیے یہ قابل مذمت ہے انہوں نے کہاکہ پولیس کے پاس اپوزیشن لیڈر کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا آئی جی پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات کو انسانی حقوق کمیٹی میں بلائیں گے اور ان سے پوچھیں گے انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت کو اس سے پہلے دفعہ 144یاد نہیں آئی تھی انہوں نے کہاکہ ہم وہاں پر کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے پاس نہیں جارہے تھے ہم دوبارہ جائیں گے
اگر پکڑنا ہے تو پکڑ لیں انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو کہہ دیں ہم کسی سے بھی نہیں ڈریں گے اگر حکومت کو یہ خوف ہے کہ بانی پی ٹی آئی حکمت عملی کا اعلان کریں گے اور وہ حکمت عملی عوام کے پاس نہ پہنچے تو یہ خام خیالی ہے ہم آئین اور قانون پر عمل کرنے والے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم سیاست دان ہیں اور اس کا حساب لیں گے اس موقع پر سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہاکہ یہ ہماری توہین نہیں بلکہ پورے پارلیمنٹ کی توہین ہے انہوں نے کہاکہ گذشتہ ایک مہینے میں بتائیں کہ کتنے فوجی جوان اور پولیس اور عوام شہید ہوئی ہے یہ حکومت ملک میں آمن و آمان میں ناکام ہوچکی ہے عوام کے اوپر زبردستی کرنے اور زدوکوب کرنے سے کوئی عزت نہیں بنتی ہے حکمرانوں نے ملک کے عزت اور وقار کو داؤ پر لگا دیا ہے انہوں نے کہاکہ ہم حکومت کی بدمعاشی اور جبر کا مقابلہ کریں گے انہوں نے کہاکہ حکومت نے عدالت کے فیصلے کو ردی کے ٹوکرے میں پھینک دیا ہم اس کو اسمبلی میں دیکھیں گے انہوں نے کہاکہ حکومت ملک میں آمن و آمان کی بحالی کیلئے کوئی منصوبہ نہیں بنا رہی ہے ہم مذید جرات اور ہمت کے ساتھ آگے بڑھائیں گے انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے انہوں نے کہاکہ پنجاب میں سموگ سے عوام کو مشکلات ہیں مگر ٹک ٹاکر وزیر اعلیٰ بیرون ممالک دورے کر رہی ہے اس موقع پر عمر ایوب نے کہاکہ ہم کوئی عسکری تنظیم نہیں ہے ہم عدالتوں میں اپنے حقوق کیلئے جائیں گے انہوں نے کہاکہ حکومت ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے انہوں نے کہاکہ پنجاب پولیس نے ہمارے دور میں ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھایا تھا کہ اپوزیشن لیڈر کو گرفتار کیا ہوانہوں نے کہاکہ شیر افضل مروت اپنے بارے میں خود جواب دیں گے انہوں نے کہاکہ ہمیں حبس بے جا میں رکھا گیا اور سرکاری گاڑی کو اپنے قبضے میں لیا گیا ہے اس حوالے سے جو بھی ذمہ داران ہیں اس کو تحریری طور پر لکھ دیا گیا ہے۔
Comments are closed.