اسلام آباد(آن لائن )بانی پی ٹی آئی عمران خان کو عدالت نے بڑا ریلیف دیتے ہوئے بری کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جبکہ دیگر بری ہونے والے رہنماوٴں میں اسد قیصر، سیف اللہ نیازی، شیخ رشید، صداقت عباسی، فیصل جاوید اور علی نواز اعوان شامل ہیں۔ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور دیگر کی لانگ مارچ تھوڑ پھوڑ کیس میں بریت کی درخواستوں پر فیصلہ سنادیا۔سیشن عدالت کے جج یاسر محمود نے عمران خان سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کو لانگ مارچ اور توڑپھوڑ کے ایک اور کیس میں بری کردیا۔دفعہ 144 اور ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج مقدمہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان سمیت دیگر ملزمان کو بری کیا گیا۔بانی پی ٹی آئی و دیگر کے خلاف 20 اگست 2022 کو تھانہ آبپارہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) محمد انور کی طرف سے دائر کی گئی شکایت میں کنٹرول آف لاوٴڈ اسپیکر اور ساوٴنڈ ایمپلیفائر ایکٹ 1965 کی دفعہ 2 بھی شامل کی گئی تھی۔شکایت گزار کے مطابق پی ٹی آئی کے تقریباً ایک ہزار سے 12 سو حامی ’عمران کے حکم پر‘ اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ انٹرچینج کے قریب جمع ہوئے تھے اور پارٹی کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔اے ایس آئی نے کہا تھا کہ وہ شہباز گل کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے اور انہوں نے سڑک بلاک کر کے رہائشیوں کو ’ڈرایا اور دھمکیاں‘ دیں۔ مسافروں کو علاقے سے گزرنے سے روکا جس سے ان کی روزمرہ کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور ریلی کے شرکا نے لاوٴڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہوئے، حکومت مخالف نعرے لگائے۔ایف آئی آر میں مزید کہا گیا تھا کہ ریلی کے دوران اسلام آباد پولیس نے لاوٴڈ اسپیکر کے ذریعے اعلانات کیے تھے کہ شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے اور ریلیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ تاہم پی ٹی آئی کے رہنماوٴں نے پولیس کے اعلان پر کان نہیں دھرے اور لاوٴڈ اسپیکر پر نعرے لگاتے ہوئے حامیوں کو ایف-9 پارک لے گئے۔
Comments are closed.