سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدراور سیکرٹری 26ویں آئینی ترمیم کے معاملے پر آمنے سامنے

اسلام آباد(آن لائن )سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدراور سیکرٹری 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک دوسرے کے مقابل آگئے ،صدرنے حمایت توسیکرٹری نے شدیدمخالفت کردی۔صدربار ایسوسی ایشن میاں روف عطاء نے ایک روزقبل چبھیسویں آئینی ترمیم کے حق میں اعلامیہ جاری کیاتواس کے جواب میں دوسرے ہی دن سیکرٹری بار نے جواب دیتے ہوئے آئینی ترمیم کی مخالفت میں مذمتی بیان جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے نو منتخب سیکریٹری سلمان منصور نے 26ویں آئینی ترمیم کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جمہوریت اور شہری آزادیوں کے لئے براہ راست خطرہ قرار دے دیا اور اس کیخلاف دائر آئینی درخواستوں کی سماعت کے لئیے فل کورٹ یا سینئر ترین ججوں پر مشتمل لارجر بنچ بنانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

ایگزیکٹو حکومت عام شہریوں کی سخت ترین مخالف اور عدالتوں میں ان کی روزمرہ کی مخالفت ہے۔ ایسی ایگزیکٹو کو، جو کہ مقننہ میں اکثریت کا حصہ ہے اور اس پر مشتمل ہے، کو تمام قانونی چارہ جوئی میں اپنی پسند کے ججوں کو منتخب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جہاں ایگزیکٹو کے آئینی اختیار اور وفاقی پارلیمنٹ کے واضح طور پر متعین قانون سازی کے اختیارات کو چیلنج کیا گیا ہو۔ اس نے بنیادی حقوق کو محض ایک مذاق بنا دیا ہے اور تمام آئینی چیلنجز بنیادی حقوق غیر محفوظ ہیں۔واضح رہے کہ پریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدرجسٹس امین الدین خان کو آئینی بینچز کا سربراہ بنانے کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔صدر سپریم کورٹ بار میاں روف عطاء نے کہاتھاکہ آئینی بینچز کے لئے نامزد سات ججز پر مکمل اعتماد ہے۔امید ہے آئینی بینچ جلد تشکیل دیا جائے گا۔آئینی بینچ کی تشکیل سے زیر التواء آئینی مقدمات میں کمی ہوگی۔چیف جسٹس یحیی آفریدی کے کیسز مینجمنٹ کے حوالے سے اقدامات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ماہانہ کاز لسٹ، فوری سماعت کی درخواستوں کو مقرر کرنا احسن اقدام ہے۔

Comments are closed.