چین کی جانب سے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے اپنی سکیورٹی ٹیم بھیجنے کی رپورٹیں بے بنیاد اور منفی پروپیگنڈہ کا حصہ ہیں ، دفتر خارجہ
اسلام آباد (آن لائن) دفتر خارجہ نے چین کی جانب سے اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے سکیورٹی ٹیم بھیجنے بارے رپورٹوں کی تردید کرتے ہوے کہا ہے کہ اس طرح کی خبریں دونوں ممالک کی دوستی خراب کرنے کے پروپیگنڈے کا حصہ ہیں ۔ چینی شہریو ں کی حفاظت کے لئے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کئے جا رہے ہیں ۔ شہریوں کے تحفظ پر ڈائیلاگ ہوتے رہتے ہیں،پاک امریکہ دیرینہ دوستانہ تعلقات کی بنیاد ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہا وزیر اعظم نے باکو میں کوپ 29 کانفرنس میں شرکت کی۔ گلیشئرز 2025 تقریب میں انہوں نے گلئشیرز کے پگھلنے اور اس حوالے سے تعاون کے فروغ کی بات کی ہے ۔
کانفرنس کی سائیڈ لائنز پر وزیر اعظم نے آزربائیجان, ترکیے, ڈنمارک, چیک جمہوریہ, ڈنمارک سمیت متعدد ممالک کی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اور اہم امور پر بات چیت کی ۔ ترجمان نے کہا وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم کے ہمراہ سعودی عرب کا دورہ کیا ۔ انہوں نے او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس میں بھی شرکت کی اس موقع پر انہوں نے اسرائیل پر فوری ہتھیاروں کی رسد پر پابندی کا مطالبہ کیا۔ نائب وزیراعظم نے انروا کے خلاف اسرائیلی اقدامات کی مذمت کی ۔
انہوں نے غزہ کا اسرائیلی محاصرہ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ترجمان نے عرب اسلامک سمٹ کے مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کیا ۔ چین کی جانب سے پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکورٹی کے معاملے پر بات کرتے ہوے ترجمان نے کہا چین اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے کوئی سیکیورٹی ٹیم نہیں بھیج رہا ۔ میڈیا پر چلنے والی خبریں قیاس آرائیوں پر مبنی ہیں اور یہ کسی ایجنڈہ کا حصہ ہیں ۔ تاہم پاکستان اور چین کی دوستی کو اس طرح کے کی قیاس آرائیوں سے خراب نہیں کیا جاسکتا ۔ پاکستان اور چین کے درمیان انسداد دہشتگردی اور چینی شہریوں کے تحفظ پر ڈائیلاگ ہوتے رہتے ہیں۔ہم پاکستان اور چین کی دوستی کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دینگے۔ پاکستان چینی شہریوں اور اداروں کا ہر قیمت پر تحفظ کرے گا ۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معا ملے پر ترجمان نے کہا پاکستان اور امریکہ کے درمیان ا چھے دوستانہ تعلقات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ان تعلقات کی بنیاد ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت پر ہے۔ ہم ایجنڈا پر پھیلائی گئی افواہوں کا جواب نہیں دیتے۔ ترجمان نے کہا پاکستان دہشت گردی کی اس کی تمام اشکال میں مذمت کرتا ہے۔
ہم پاکستان کو تمام اندرونی و بیرونی خطرات سے بچا نے کے لیے پر عزم ہیں۔افغان انتظامیہ سے ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کاروائی پر زور دیتے ہیں جن کی محفوظ پناہ گاہیں وہاں موجود ہیں۔ ہم افغان انتظامیہ پر زور دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کی بارہا کی جانے والی درخواستوں کو سنجیدہ لیں۔ تر جمان نے کہا متعدد شہریوں کی جان لینے والے بدقسمت دہشتگرد حملے کی تحقیقات جاری ہیں۔ کچھ برس قبل ایک بھارتی افسر کلبھوشن جادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا گیا ۔ بلوچستان میں بھارتی سرگرمیوں پر تحفظات ہیں۔ ترجمان نے کہا ہم امارات میں پاکستانی شہریوں پر ویزا پابندی کے تصور سے اتفاق نہیں کرتے پاکستان متحدہ عرب امارات کی حکومت سے ان معاملات پر بات چیت جاری رکھے گا۔ ترجمان نے کہا پاک بھارت چئمپئنز ٹرافی اور کرکٹ پر کوئی پاک بھارت ٹریک ٹو یا بیک ڈور ڈپلومیسی نہیں ہو رہی ہے ۔
Comments are closed.