آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

اسلام آبا د(آن لائن)سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کی آئندہ ہفتے اہم ترین مقدمات کی سماعت بارے کازلسٹ جاری کردی گئی ہے ،آئینی بینچ تمام سات ججز ہر مشتمل ہوگا اورجسٹس عائشہ ملک بھی بینچ میں شامل ہوں گی ،دو ہزار سے زائد مقدمات مقرر کئے گئے ،آئینی بنچ نے آڈیوز لیک کمیشن کیخلاف مقدمہ سماعت کیلئے مقرر کردیاہے جسٹس امین الدین خان سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ 21 نومبر کو آڈیو لیک کمیشن کیخلاف درخواستوں پر سماعت کریگا،بانی پی ٹی آئی و دیگر نے آڈیوز لیک کمیشن تشکیل کو چیلنج کیا تھا،اس کے ساتھ ساتھ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیخلاف درخواست آئینی بنچ میں سماعت کیلئے مقررکردی گئی ہے اور جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ 20 نومبر کو سماعت کرے گا،آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیخلاف درخواست محمود اختر نقوی نے دائر کر رکھی ہے۔واضح رہے کہ وفاقی کابینہ نے سروسز چیفس کی مدت ملازمت 5 سال کرنے کی منظوری دی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی بھی منظوری دی گئی تھی، جس کے ذریعے تمام سروسز چیفس کی مدت بڑھا کر 5سال کرنے کی منظوری دے دی۔واضح رہے کہ رواں ہفتے آئینی بنچ نے اہم ترین مقدمات کی سماعت کی ہے اور اس دوران جسٹس عائشہ ملک بنچ کاحصہ نہیں تھی تاہم اگلے ہفتے کی کازلسٹ کے اجراء کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کردیاگیاہے کہ آئینی بنچ کے ساتوں کے ساتوں جج اگلے ہفتے آئینی مقدمات کی سماعت کریں گے۔ زیر زمین پانی واجبات ادائیگیاں کیس ،7 رکنی آئینی بینچ 21 نومبر کو کیس کی سماعت کریگا،تحریک انصاف سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کیخلاف درخواست مقرر ،آئینی بینچ کیس کی سماعت 20 نومبر کو ہوگی، تحریک انصاف کی 2017 کی مردم شماری اور حلقہ بندی پر الیکشن کروانے کی درخواست 20 نومبر کو ہوگی،ایم کیو ایم کی چھٹی مردم شماری کروانے کی درخواست 20 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر، تھر پارکر کے شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق دینے کی درخواست سماعت کیلئے 20 نومبر کو مقرر، آئی جی اسلام آباد کے سیاسی تبادلوں کیخلاف درخواست 20 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر، تعلیمی اداروں میں طلبا کو منشیات فراہمی کیخلاف درخواست 20 نومبر کو سماعت کیلئے مقرر، سندھ اتھارٹی میں مبینہ کرپشن کیخلاف درخواست 20 نومبر کو سماعت کیلئے مقررکردی گئی ہے۔

Comments are closed.