سوشل میڈیا پر رینجرز کی نوجوانوں کی شہادت کے حوالے سے جھوٹا بیانیہ بنانے والے مجرم کی شناخت کر لی گئی، تعلق ایبٹ آ باد سے ہے، عطااللہ تارڑ

بانی پی ٹی آئی کوئی سیاسی قیدی نہیں ان کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات ہیں، احسن اقبال
شر پسندمظاہرین اسلام آباد کا امن خراب کرنا چاہتے تھے انکا کوئی عوامی مطالبہ نہیں تھا ، وفاقی وزرا کی مشترکہ پریس کانفرنس
اسلام آباد (آن لائن) وفاقی وزرا نے کہا کہ سوشل میڈیا پر رینجرز کی نوجوانوں کی شہادت کے حوالے سے جھوٹا بیانیہ بنانے والے مجرم کی شناخت کر لی گئی ہے اس کا تعلق ایبٹ آ باد سے ہے ، بانی پی ٹی آئی کوئی سیاسی قیدی نہیں ان کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات ہیں ۔ ان کے کیسز کی سماعت میں ان کے وکلا تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطائاللہ تارڑ وزیر ترقی و منصبہ بندی احسن اقبال کے ہمراہ پریس کانفرنس کر تے ہوے کہا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد گزشتہ کئی دنوں سے محصور تھا۔ شرپسند گروہ اسلام آباد میں امن خراب کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا غیر ملکی مہمان پچھلے دو روز سے ریڈ زون میں موجود تھے۔ دوسری جانب شرپسندوں کے پاس جدید ترین ہتھیار تھے، آنسو گیس کے شیلز، پتھر اور غلیلیں موجود تھیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی کسی قسم کا احتجاج نہ کرنے کا حکم دے رکھا تھا ، اس کے باوجود شرپسندوں نے ریڈ زون کی خلاف ورزی کی اور تباہی مچانے کی کوشش کی۔

ہم نے انہیں سنگ جانی میں احتجاج کرنے کی پیشکش کی جہاں پرامن طریقے سے احتجاج ہو سکتا تھا لیکن پرامن احتجاج تو ان کا ارادہ ہی نہیں تھا۔ دو روز پہلے ایک فوٹیج جاری کی گئی جس میں پیشہ ور افراد کو فائرنگ، ہتھیار، آنسو گیس کے شیل، پیلٹ گنز کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا شرپسندوں کے حملوں سے رینجرز اور پولیس کے اہلکار شہید ہوئے۔ ان شہداء کا خون کس کے ہاتھ پر تلاش کریں۔ انہوں نے کہا سیکورٹی فورسز نے وفاقی دارالحکومت میں امن قائم کیا۔ سوشل میڈیا پر جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ رینجرز کے جوانوں کو ان کے اپنے لوگوں نے شہید کیا۔ مجرم کی شناخت کرلی گئی ہے، اس کا تعلق ایبٹ آباد خیبر پختونخوا سے ہے۔ یہ اسلام آباد کا امن خراب کرنا چاہتے تھے۔ ان کا کوئی عوامی مطالبہ نہیں تھا، یہ اپنے لیڈر کو رہا کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نے 37 افغان شرپسندوں کو گرفتار کیا۔ افغانستان ہمارا دوست ملک ہے۔ افغانستان کے ساتھ ہمارے دوستانہ تعلقات ہیں۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغان شہری اسلام آباد میں سیاسی جماعت کے احتجاج میں کیا کر رہے تھے؟ کیا اس کی بھی اجازت ہے؟۔ انہوں نے کہا دو ہزار تیرہ سے دو ہزار سترہ تک بڑے پیمانے پر آپریشن کئے تھے، خیبر پختونخوا میں امن واپس لایا، کراچی میں امن واپس لایا، دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی۔ تاہم بانی چیئرمین پی ٹی آئی اپنے دور میں طالبان کو واپس لائے۔ خیبر پختونخوا میں اس وقت دہشت گردی کی لہر جاری ہے اور وزیراعلیٰ کو وہاں امن و امان سے کوئی دلچسپی نہیں۔

کرم ایجنسی میں 50 لاشیں گریں اور یہ اسلام آباد کا محاصرہ کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ملک میں دہشت گردی کا ذمہ دار صرف ایک شخص ہے جو تشدد کو فروغ دے رہا ہے،۔ یہ وہی جماعت ہے جس نے مذہب کو آلہ کے طور پر استعمال کیا۔ ہم پوچھتے ہیں ۔ سعودی عرب کے خلاف بیان دینے کا ان کا کیا مقصد تھا۔ یہ ملک کے عوام کے مذہبی جذبات سے کھیلنا چاہتے ہیں۔ یہ مذہب کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان شرپسندوں نے میڈیا ہاوسز میں توڑ پھوڑ کی جس کی مذمت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی اندرونی خلفشار کا شکار ہے، ان کے احتجاج میں ان کی قیادت موجود نہیں تھی۔عاطف خان، شہرام ترکئی، اسد قیصر، حماد اظہر، شیخ وقاص ان کے ا حتجاج میں موجود نہیں تھے۔ علیمہ خان، بشریٰ بی بی کے درمیان پہلے ہی جھگڑا ہے۔ انہوں نے کہا سوشل میڈیا پر مظاہرین کے حوالے سے ایک جعلی فہرست گردش کر ر ہی ہے۔ اگر کوئی ہلاکت ہوئی ہے تو ثبوت پیش کریں۔ پولی کلینک اور پمز ہسپتال سے بیانات جاری ہوئے ہیں کہ کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ اس موقع پر احسن اقبال نے کہا ایک سیاسی جماعت نے وفاقی دارالحکومت میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی۔ جدید ترین اسلحہ سے لیس شرپسندوں کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کے لئے لایا گیا۔

یہ 2014 کی طرح پارلیمنٹ ہاوس پر قبضہ کرنے کے ارادے سے آئے۔ تا ہم نا کام لوٹے ۔ انہوں نے کہا کہ پرتشدد سیاست پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے۔ 2014ء کے بعد ان کے لانگ مارچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو ہمیشہ ناکام ہوئے۔9 مئی کو انہوں نے پاک فوج، اہم عسکری تنصیبات پر حملے کئے، انہوں نے جی ایچ کیو اور کور کمانڈر لاہور کی رہائش گاہ پر حملہ کیا۔ شہداء کی یادگاروں کو مسمار اور نذر آتش کیا۔ دنیا میں کسی بھی ملک میں اس طرح کے پرتشدد حملوں کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ انہوں نے کہا ایس سی او کانفرنس کے موقع پر انہوں نے خلل ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ اپنے عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکے۔ یہ اپنے لیڈر کو رہا کرانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا بانی چیئرمین پی ٹی آئی سیاسی قیدی نہیں ہیں، ان کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات ہیں۔ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے وکلاء ان کے خلاف سماعت میں تاخیر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ۔ ممنوعہ فنڈنگ کیس میں بھی انہوں نے تاخیری حربے استعمال کئے تھے۔ انہوں نے کہا بانی چیئرمین پی ٹی آئی نے لندن میں ضبط شدہ رقم کو اپنے فنانسر کے لئے وائٹ منی میں تبدیل کیا۔

Comments are closed.