اتھارٹی کو سوشل میڈیا سے موادبلاک کرنے یا ہٹانے کااختیار ہو گا
جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلانے پرپانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں
اتھارٹی کا ایک چیئرمین اور چھے ارکان ہوں گے، جن میں سے ایک ایکس آفیشو ممبر ہوں گے
اسلام آباد(آن لائن)حکومت نے سائبر کرائم ترمیم بل کا ابتدائی مسودہ تیارکر لیاجس میں اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ بل کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی جائے گی جسے سوشل میڈیا سے موادبلاک کرنے یا ہٹانے کااختیار ہو گا۔جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلانے،خوف وہراس اور بدامنی پیداکرنیوالوں کو جرمانہ ہو گا۔ ایسی خبریں پھیلانیوالوں کوپانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ دونوں ہو سکتاہے۔ اتھارٹی کا ایک چیئرمین اور چھے ارکان ہوں گے، جن میں سے ایک ایکس آفیشو ممبر ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق قانون نافذکرنے سمیت دیگر اداروں یا کسی شخص کیخلاف خبردینے،دہشت پھیلانے والا مواد ہٹا دیاجائے گا۔ مسودے کے تحت ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق اتھارٹی کو سوشل میڈیا سے موادبلاک کرنے یا ہٹانے کااختیار ہو گا۔ اتھارٹی قانون نافذ کرنیوالے اداروں یافرد کیخلاف مواد ہٹانے کاحکم جاری کر سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق ریاست اور ریاستی اداروں کیخلاف نفرت پھیلانے سے متعلق مواد کوہٹانے کا اختیار حاصل ہو گا۔جان بوجھ کر جھوٹی معلومات پھیلانے،خوف وہراس اور بیامنی پیداکرنیوالوں کو جرمانہ ہو گا۔ ایسی خبریں پھیلانیوالوں کوپانچ سال قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ دونوں ہو سکتاہے۔ ذرائع کے مطابق اتھارٹی کے خلاف فوج اورعدلیہ کے خلاف آئن لائن مواد ہٹانے کااختیار ہو گا۔ مذہبی فرقہ وارانہ یانسلی بنیادوں پر نفرت پھیلانیوالا موادہٹایا جائیگا۔کسی کوڈرانے،جھوٹا الزام لگانے اور فحش مواد بھی ہٹایاجائے گا۔
دہشت گردی اورتشددکی اقسام کوفروغ دینے والا مواد ہٹایاجائیگا۔اتھارٹی کا ایک چیئرمین اور چھے ارکان ہوں گے، جن میں سے ایک ایکس آفیشو ممبر ہوں گے۔ اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف ٹربیونل سے رجوع کیا جاسکے گا۔
Comments are closed.