چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز کا سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کیلئے سپیکر ایاز صادق کی پیش کش کا خیر مقدم

ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں ،کوئی بھی جماعت شرائط نہ لگائے،سپیکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھیں ،صوبائی سپیکرز
پہلے کچھ غلط ہوگیا تو اب اسے درست کیا جائے گا،ایاز صادق کا سپیکرز کانفرنس سے خطاب:قومی اسمبلی، سینیٹ، تمام صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریز پر ایک ایسوسی ایشن بنانے کی تجویز
#/h#
اسلام آبا د(آن لائن)چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز نے ملک سے تلخیوں اور سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی مذاکرات کی پیشکش کا خیر مقدم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس وقت ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا واحد راستہ مذاکرات ہیں ،کوئی بھی جماعت شرائط نہ لگائے،سپیکر ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھیں ،پارلیمنٹ اور جمہوریت کی مضبوطی کے لئے سب کومل کر کام کرنا ہوگا جبکہ صوبوں کے اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ نے صوبائی خود مختاری کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ صوبوں کے قواعد وضوابط کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کے برابر لانے پر بھی اتفاق کیا ہے ،یہ اتفاق رائے 18 ویں سپیکرز کانفرنس کے موقع پر دیکھنے میں آیا جو کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں جمعرات کو شروع ہوئی ،کانفرنس کی صدارت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز کے ساتھ ساتھ اراکین پارلیمنٹ کی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ اٹھارویں سپیکرز کانفرنس کے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتا ہوں، ایک طویل تعطل کے بعد اٹھارویں سپیکرز کانفرنس کا انعقاد میرے لیے باعث اعزاز ہے،سب سے مشکل کام سپیکرز کا ہوتا ہے، اگر حکومت کو وقت زیادہ ملے تو اپوزیشن ناراض،اگر اپوزیشن کو وقت زیادہ دیدیا جائے تو حکومت ناراض ہو جاتی ہے،اگلی نشستوں کو زیادہ وقت ملے تو بیک بینچرز ناراض ہو جاتے ہیں، پروڈکشن آرڈرز کا مسئلہ بھی بہت اہم ہوتا ہے،البتہ ایک بات طے ہے کہ اگر پہلے کچھ غلط ہوگیا تو اب اسے درست کیا جائے گا،ایوان میں بیٹھے سب ہمارے کولیگز اور دوست ہیں، سردار ایاز صادق کامزید کہنا تھا کہ سیکرٹری قومی اسمبلی سے کہوں گا کہ رولز میں شامل کرلیں کہ ہر سال سپیکرز کانفرنس ہو،یونیورسٹیز، کالجز اور سٹوڈنٹس کیلئے بھی ٹریننگ ورکشاپس کا انعقاد ہونا چاہیے، میری آنکھیں، کان اور سننے کی سکت اور کردار چیف وہیپس ہیں،وزرا سے اہم کردار چیف وہیپس کا ہوتا ہے کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے کہ کس کو وقت ملا کون نہیں بول سکتا، چیف وہیپ سے روزانہ کی ملاقات ہوتی ہے،سپیکر قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی، سینیٹ، تمام صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریز پر ایک ایسوسی ایشن بنانے کی تجویز دیدی،سپیکر قومی اسمبلی نے چیف وہیپس ایسوسی ایشن بنانے کی بھی تجویز دیدی،ایازصادق کا مزید کہنا تھا کہ چیف وہیپس میں سب سے نمایاں کردار سید خورشید شاہ کا رہا جو رول ماڈل ہیں، سید خورشید شاہ نے چیف وہیپ کے طور پر پورے ایوان کو جوڑے رکھا، پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی انتہائی اہمیت کی حامل ہے، اس کو لازمی فعال ہونا چاہیے، پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کی جو سفارشات آتی ہیں ان پر عملدرآمد کروا کر اربوں روپے ریکور کئے گئے ہیں،معلوم ہوا ہے کہ صوبائی پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کو سنجیدہ تک نہیں لیا جاتا، صوبے پی اے سی کو فعال اور مزید مضبوط بنائیں اس سے شفافیت آئے گی،پبلک اکاوٴنٹس کمیٹیز کی بھی ایسوسی ایشن بنائیں تاکہ آپس کا کوآرڈینیشن بہتر ہو، اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کچھ وزارتیں صوبوں میں ہیں تو ان کی مرکز میں کیا ضرورت ہے، مرکز میں اس لئے ہیں کہ وہ پالیسیز بنائیں اور بہتری لائیں، بے روزگاری، معیشت اور موسمیاتی تبدیلی ہمارا مسئلہ ہے،ہمیں ہر تین سے چار ماہ بعد آپس میں بیٹھنے کی ضرورت ہے، کشمیر ہمارے دل کے بہت قریب ہے۔اٹھارویں سپیکرز کانفرنس سے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کامیاب اسپیکرز کانفرنس کے انعقاد پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،اسپیکرز کانفرنس تاریخی اہمیت کی حامل ہے،ہم آج یہاں قانون کی عمل داری کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں،سپیکرز کانفرنس کا مقصد آئینی اور قانونی پیچیدگیوں کو حل کرنا ہے،سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ایک تجربہ کار اسپیکر ہیں،ملک کے پہلے متفقہ آئین کا بنانا ایک تاریخ ساز لمحہ تھا، 18ویں ترمیم پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، ہم علاقائی سیاست کی جانب تیزی سے جا رہے ہیں، ملک کو اکٹھا رکھنے کے لیے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے،ٹھارویں سپیکرز کانفرنس سے اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ نے کہا کہ سپیکر کانفرنس کا 10 سال بعد انعقاد کرنے پر سردار ایاز صادق مبارک باد کے مستحق ہیں،یہ ایسا فورم ہے کہ جس سے ہم پارلیمان کو مستحکم کرسکتے ہیں، پارلیمان کوئی بلڈنگ معنی نہیں رکھتی بلکہ اس سے میں بیٹھے قانون سازوں کو با اختیار اور ٹیکنالوجیز سے روشناس کرائیں، ہر چیز کا حل ہے اور اس کا حل پارلیمنٹ میں ہی ہے،اگر ایک جگہ بیٹھ کر بات کرلیں، پالیسی بنائیں اور اسے ایکٹ بنائیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں، جو کام پپس نے ایک اچھا کام شروع کیا کہ اس نے ٹریننگ ورکشاپس شروع ہوئیں،مگر ابھی ہمیں اپنے نئے ممبران کو بتانا ہے کہ بجٹ کیسے بنتا ہے، قانون سازی کیسے ہوتی ہے، سپیکر آفس جیسے سردار ایاز صادق چلا رہے ہیں اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے، سپیکر کانفرنس 10 سال بعد انعقاد کرنے پر سردار ایاز صادق مبارک باد کے مستحق ہیں،یہ ایسا فورم ہے کہ جس سے ہم پارلیمان کو مستحکم کرسکتے ہیں،پارلیمان کوئی بلڈنگ معنی نہیں رکھتی بلکہ اس سے میں بیٹھے قانون سازوں کو با اختیار اور ٹیکنالوجیز سے روشناس کرائیں،ہر چیز کا حل ہے اور اس کا حل پارلیمنٹ میں ہی ہو سکتا ہے، اگر ایک جگہ بیٹھ کر بات کرلیں، پالیسی بنائیں اور اسے ایکٹ بنائیں تو کچھ بھی ناممکن نہیں،پپس نے ایک اچھا کام شروع کیا کہ اس نے ٹریننگ ورکشاپس شروع ہوئیں ،مگر ابھی ہمیں اپنے نئے ممبران کو بتانا ہے کہ بجٹ کیسے بنتا ہے، قانون سازی کیسے ہوتی ہے،سپیکر آفس جیسے سردار ایاز صادق چلا رہے ہیں اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے،زرداری صاحب کہتے ہیں اختلاف رائے کی بجائے اتفاق رائے پارلیمان کیلئے لازم ہے، اسی اصول کے تحت آگے بڑھا جاسکتا ہے اور اس میں سپیکر آفس کا کام سب سے اہم ہوتا ہے،ہماری آج سب سے بڑی ذمہ داری کی یوتھ امپاورمنٹ کی طرف جائی، اگر کوئی جوان پارلیمنٹ کی لڑائی دیکھے گا تو اسے کیسے سمجھائیں گے کہ پارلیمان میں اختلاف رائے کے ساتھ قانون سازی بھی ہوتی ہے، ہمیں اس پارلیمان کی اہمیت بارے کالجز اور یونیورسٹیز تک پھیلانا چاہیے، مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن سب سے بڑا مسئلہ ہے اس پر بھی متوجہ ہونے کی ضرورت ہے، ہمیں ضرور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کا سامنا ہے مگر سب سے اہم مس و ڈس انفارمیشن ہے،ہم جمہوریت کے لیے کام کر رہے ہیں جمہوریت چلتی رہے ان شاء اللہ،موسمیاتی تبدیلیوں سے سندھ کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے،سندھ حکومت نے بارشوں کے متاثرین کیلئے مکانات بنا کر دیا ہے،امید ہے کہ سپیکرز کانفرنس ہر سال تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی،ہم سب کے مسائل ایک جیسے ہیں،ہماری ذمہ داری کے کہ ہم اپنے عوام اور صوبوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں،کشمور سے کراچی تک سب سے بڑا مسئلہ پانی کا مسئلہ ہے ،پانی زندگی کی علامت ہے، جہاں پانی ہوتا ہے وہاں زندگی ہوتی ہے، دریائے سندھ کو مادر انڈس کہا جاتا ہے،کچھ دن پہلے بتایا گیا کہ کچھ نئی نہریں بنائی جارہی ہیں، اس معاملے پر پورے سندھ میں بے چینی کی کیفیت ہے اس پر غور ہونا چاہیے،جمہوریت ہی اس ملک میں آگے بڑھے گی،پانی کے مسئلہ پر سندھ کیساتھ بلوچستان اور کے پی بھی متاثر ہونگے،سپیکر قومی اسمبلی کا افس یہ معاملہ حل کروا سکتا ہے، سکھر سے حیدر آباد موٹروے کا دو بار افتتاح ہوا مگر اس کے باوجود یہ معاملہ آگے بڑھ نہیں رہا، اس معاملے پر بھی سپیکر قومی اسمبلی کا افس مداخلت کرے تو معاملہ حل ہوسکتا ہے۔اس موقع پر خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں کامیاب اسپیکرز کانفرنس کے انعقاد پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو مبارک باد پیش کرتا ہوں ،جرگہ ہمارے نظام کا حصہ ہے ، ہم آئین کو ایک مقدس کتاب سمجھتے ہیں ،سیاسی لوگوں نے قانون کی حکمرانی کیلئے راستے بنانے ہیں ،ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی قیادت میں ہم سب نے قوانین پر عمل درآمد کا سفر طے کرنا ہے ،قانون ساز اداروں کے مابین رابطے جمہوریت کا حسن ہے،ہمیں ملک کی بقاء کیلئے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہو گا،میں طویل تعطل کے بعد کامیاب اسپیکرز کانفرنس کے انعقاد قابل ستائش ہے۔ 18 ویں اسپیکرز کانفرنس سے اسپیکر بلوچستان اسمبلی عبدالخالق خان اچکزئی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں تمام اسپیکرز اور مندوبین کو خوش آمدید کہتا ہوں، بلوچستان کی تمام سیاسی قیادت اور عوام اس بات پر متفق ہیں کہ بلوچستان میں پائیدار امن قائم کرنا ہے، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان نے پوری دنیا میں امن میں اہم کردار ادا کرنا ہے،ہم سب نے مل کر اپنے مسائل خود حل کرنے ہیں، سب سے پہلے ہم نے خود کو ٹھیک کرنا ہے، میں اسپیکرز قومی اسمبلی اور ان کی ٹیم کا کامیاب اسپیکرز کانفرنس کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ 18 ویں اسپیکرز کانفرنس سے اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اسپیکرز قومی اسمبلی اور ان کی ٹیم کا کامیاب اسپیکرز کانفرنس کے انعقاد پر شکریہ ادا کرتا ہوں،امید ہے اسپیکرز کانرنس کے انعقاد سے ملک میں سول سپرمیسی کی راہ ہموار ہوگی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہیں،جمہوریت میں عوام طاقت کا منبع ہے ،ملک کو آگے لے کر جانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،ملک میں جمہوری اقدار میں ہم سب کی بقا ہے،اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اس تاریکی دور میں ایک شمع کی حیثیت رکھتے ہیں۔18 ویں اسپیکرز کانفرنس سے اسپیکر ازاد جموں و کشمیر کے اسپیکر چوہدری لطیف اکبر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں 18ویں اسپیکرز کانفرنس سے خطاب اپنے لئے باعث اعزاز سمجھتا ہوں،18 ویں اسپیکرز کانفرنس کے انعقاد کا سہرا اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو جاتا ہے،کسی بھی قانون ساز اسمبلی یا مقننہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے بہتر کوآرڈینیشن بہت ضروری ہے،میں کشمیری عوام کی جرات اور بہادری کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا، بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 A کے خاتمے سے کشمیر کی سٹیٹس کو تبدیل کیا گیا،جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں، قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کا لائن آف کنٹرول کے دورے پر شکریہ ادا کرتا ہوں،جموں کشمیر کے حالیہ انتخابات میں عوام نے بی جے پی کو مسترد کیا، اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے حکومت اور حزب اختلاف کو مذاکرات کی دعوت کو خوش آئند سمجھتا ہوں،اقوام متحدہ کی 1949 کی قرارداد ہی کشمیر کی اصل قانونی حیثیت ہے،میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں، جنہوں نے ہمارے کشمیری مہاجرین کے مسائل کو سنا اور ان کے حل کے لئے عملی اقدامات کئے۔#/s#

Comments are closed.