اسلام آباد (ان لائن) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی صدارت میں دو روزہ اسپیکرز کانفرنس جمعہ کو اختتام پزیر ہوگئی جس میں پارلیمنٹ کی بالادستی آئین اور قانون پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا جبکہ حکومت اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کیلئے سپیکرز نے سہولت کاری کا بھی اعلان کیا،اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ہم جملہ اسپیکر و چیرمین صاحبانِ قومی اسمبلی، سینیٹ، صوبائی اسمبلی بلوچستان، خیبر پختونخواہ ، پنجاب، سندھ،قانون ساز اسمبلی آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان اسمبلی ، جو اٹھارویں اسپیکرز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے اسلام آباد میں اکھٹے ہوئے، ی اجلاس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ پاکستان کی عوام نے جمہوریت کے حصول اور ایک وفاقی، اسلامی، جمہوری، پارلیمانی اور جدید ترقی پسند فلاحی ریاست کے قیام کے لیے انتھک محنت کی، جہاں شہریوں کے حقوق محفوظ ہیں اور صوبوں کا وفاق میں مساوی حصہ ہے، اقرار کرتے ہوئے کہ آئین اور قرارداد مقاصد کے تحت، ایک پارلیمانی نظام میں ریاستی اختیارات صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوں کے ذریعے ہی استعمال ہو سکتے ہیں ،اجلاس میں سفارش کی گئی ہے کہ صوبائی حکومتوں کے قواعد و ضوابط کو آئینی اصولوں سے ہم آہنگ کیا جائے کہ انتظامیہ کی اسمبلیوں کے سامنے جواب دہی
، متعلقہ وزارتوں پر پارلیمانی کی آئینی گرفت اور مینڈیٹ کے احترام کو یقینی بنایا جا سکے۔اجلاس میں اس بات کی توثیق کی گئی کہ پارلیمانی اداروں پر عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے لیے قانون سازی کے عمل میں احتساب اور شفافیت کو فروغ دینے کی اشد ضرورت ہے۔اجلاس میں اعتراف کیا گیا کہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان با اعتماد رابطہ کے لیئے پارلیمان اپنے قانون سازی، نگرانی اور نمائندگی کے اختیارات کو موثر استعمال کے ذرئیے عوامی مسائل کی وکالت کی ذمہ داری ادا کرنی ہے۔اجلاس میں گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سیاسی میدان میں جذباتیت کے رجحان کے باعث ملکی سیاست میں توہین آمیز زبان کا استعمال، جعلی خبریں اور سوشل میڈیا پر الزام تراشی سے تصادم اور انتقامی سیاست کا چلن بڑھ رہا ہے۔
یاد دہانی کراتے ہوئے کہ تہذیب ، شائستگی اور اختلاف رائے کے احترام کے کلچر کا خاتمہ پارلیمانی اقدار کو مجروح کرتاہے ، تفریق کو ہوا دیتا ہیاور تعمیری مکالمے کو روکتا ہے ،اْجاگر کرتے ہوئے کہ مشترکہ مسائل سے نمٹنے، قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے اور سماجی انصاف کے اصولوں کی اجتما عی بالادستی قائم رکھنے کے لیے وفاق اور صوبائی قانون ساز اداروں کے مابین تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اجلاس میں تسلیم کیا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے مسائل، تیزی سے تبدیل ہوتی ٹیکنالوجی، سماجی و اقتصادی عدم مساوات اور پاکستانی عوام کی بدلتی ہوئی ضروریات دورِ حاضر کے اہم چیلنج ہیں۔ اجلاس میں کہاگیا کہ علاقائی اور بین الاقوامی امن، علاقائی تعاون اور افہام و تفہیم میں پیش رفت کے لیئے پارلیمانی سفارتکاری کی خاص اہمیت ہے اور قومی اسمبلی پاکستان کی جانب سے اسلام آباد میں اٹھارویں اسپیکرز کانفرنس کی میزبانی کے اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کے آئین کو ملک کے اعلی ترین قانون کے طور پر برقرار رکھنے، اس کے موثر نفاذ کو یقینی بنانے، ابہام کو بات چیت کے ذریعے دور کرنے ، اور ریاستی وغیر ریاستی عناصر کی جانب سے اس کے وقار کو مجروح کرنے اور کسی بھی خلاف ورزی کرنے کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں،پارلیمان کی بالادستی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور جمہوری اقدار کی تمام حکومتی سطحوں پر دفاع کا عہد کرتے ہیں،تعمیری مکالمے، باہمی افہام و تفہیم اور احترامِ اختلاف رائے کی بنیادی پارلیمانی اقدار کی تجدید نو کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم کرتے ہیں
،مروجہ پارلیمانی اصول "حکومت کااپنا نظریہ ہو سکتا ہے لیکن حزب اختلاف کو اپنی بات کہنے کا حق ہونا چاہئے۔” کو پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد کے طور پر دہراتے ہوئے اس اصول کو یقینی بنانے کا عزم کرتے ہیں کہ قانون سازی اور فیصلہ سازی میں تمام آراء کو سنا اور ان کا احترام کیا جائے،متعلقہ قانون ساز اداروں کی توانائیاں ، عوامی مسائل کے حل اور پائیدار ترقی کے یقینی حصول کی خاطر اکے لیئے تمام توجہ مرکوز کرنے کا عہد کرتے ہیں،سپیکر کے طے شدہ غیر جانبدار اور ثالث کا فریضہ انجام دیتے ہوئے تمام جماعتوں کے مابین مکالمہ کی معاونت کرنے پر متفق ہیں تاکہ "پارلیمانی اخلاقیات اور آداب کے منشور "پر قومی اتفاقِ رائے کیا جاسکے تاکہ قانون سازاداروں پراعتماد اور انکا وقار بحال ہو سکے،اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ آئین کی شق 9-A کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے قانون سازی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی اور انحطاط سے نمٹنے کو اولین ترجیح دی جائے گی۔دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جامع قانون سازی اور پالیسی اقدامات کی کوششوں کو فروغ دیں گے تاکہ تمام شہریوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔عزم کرتے ہیں کہ موثر قانون سازی, نگرانی اور عوامی نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانون ساز اداروں کے قواعد و ضوابط میں ہم آہنگی پیدا کی جائے گی۔پارلیمان کو مستحکم بنانے کے لیے بہترین بین الاقوامی طریقوں کے مطابق وہپ (WHIP) کے ادارے کو تقویت دیں گے۔ تاکہ پارلیمانی جماعتوں میں ہم آہنگی اور نظم و ضبط کو بہتر بنایا جا سکے۔ ملک کے تمام پارلیمان کی پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ایسوسی ایشن قائم کریں گے تاکہ ملک میں مالیاتی امور کی نگرانی اور شفافیت کو مستحکم کیا جا سکے۔پارلیمانی سفارتکاری سے علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون، امن اور روابط کے فروغ کے لئے استفادہ حاصل کرنے کے لئے Commonwealth Parliamentary Association کا قومی گروپ تشکیل دیں گے. جسے قومی اسمبلی پاکستان میں قائم مستقل سیکرٹریٹ کی حمایت حاصل ہوگی۔مسلہء جموں و کشمیر کے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن حل کو عالمی و علاقائی امن و استحکام کے لیئے جزوِ لاینفق کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں جاری بربرئیت، قتلِ عام اور اجتماعی زیادتی سمیت تمان ظالمانہ جرائم کی پْر زور مذمت کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پابندِ سلاسل کْل جماعتی حرئیت کانفرنس کے تمام راہنماوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیتے ہیں کہ وہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرائے اور سلامتی کونسل کی قرارداد(2024) 2735 کے مطابق اسرائیلی قابض افواج کے فوری انخلاع ، اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی اور فلسطینی عوام کو بلا رکاوٹ فلاحی امداد کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ مربوط قانون سازی اور پالیسی اقدامات کے ذریعے نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے اور بچوں سے متعلقہ مسائل بشمول پولیو، بچوں کی مشقت اور غذائیت کی کمی جیسے مسائل سے نمٹنیکے لیے کوششیں تیز کریں گے۔خواتین، بچوں، SDGsاور نوجوانوں پر پارلیمانی فورمز کو ایک مربوط و متفقہ ضابطہ عمل میں لانے کی نشاندہی کرتے ہوئیمشترکہ اہداف کے حصول کے لئے خواتین کی پارلیمانی کاکس ،پارلیمانی ٹاسک فورس برائے SDGs ، نوجوان پارلیمنٹرینز فورم اور بچوں کے حقوق کی پارلیمانی کاکس کے مابین تعاون کے فروغ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔تمام قانون ساز اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے معلومات کے تبادلے اور اشتراکِ وسائل کے لیئے باہمی استعداد کار کو بڑھانے کا اعیادہ کرتے ہیں ۔ جبکہ شواہد پر مبنی قانون سازی ، قوانین کے سماجی آڈٹ اور دیگر ابھرتے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ تحقیق اور مہارت کو بروئے کار لانے کا عہد کرتے ہیں۔پارلیمان کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے ITاصلاحات کے ذریعے جدید ترین ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کو اپنایا جائے گا پارلیمانی کارکردگی ،رسائی اور شفافیت کو بڑھایا جا سکے۔تمام معاشرتی طبقات بشمول تعلیمی اداروں، میڈیا خصوصاً پارلیمانی رپورٹر ایسو سی ایشنPRA))، سول سوسائیٹی، دانشوروں، غیر سرکاری تنظیموں اور دیگر متعلقہ فریقین کے ساتھ مکمل ہم آہنگی پیدا کریں گے تاکہ عوام کی قانون سازی و نگرانی کے عمل میں موٴثر شمولیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ قانون سازی کے متعلق تحقیق، پالیسی پر رہنمائی اور استعداد کار بڑھانے کے لیے پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمنٹری سروسز (Pakistan Institute for Parliamentary Services) کو ایک امتیازی مرکز میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پیپس کے بورڈ ا?گ گورنرز سے سفارش کرتے ہیں کہ اس کا دائرہ کار کو آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلیوں کی معاونت کے لیئے وسیع کیا جائے۔پاکستان کے تمام قانون ساز اداروں کے سیکرٹریز کی ایک ایسو سی ایشن قائم کریں گے جس کا مرکزی دفتر قومی اسمبلی پاکستان اسلام آباد میں ہوگا تاکہ اسپیکرز کانفرنس کے فورم کے باقاعدہ جائزہ اور سہ ماہی اجلاس منعقد کرنے کے لئے انتظامی اور عملی معاونت فراہم کی جاسکے۔آزاد جموں و کشمیر اسمبلی کے معزز اسپیکر صاحب کی دعوت کو بشکریہ قبول کرتے ہوئے انیسویں اسپیکرز کانفرنس کے سنء ۵۲۰۲ میں مظفر اباد ، ازاد کشمیر میں انعقاد کی منظوری دیتے ہیں۔ہم، پاکستان کے قانون ساز اداروں کے اسپیکرزاور پریزائیڈنگ افسران، باضا بطہ طور پر اپنے جمہوری اقدار، آئینی اصولوں اور پاکستانی عوام کی خواہشات کو برقرار رکھنے کا مشترکہ عزم کرتے ہیں۔ اس اعلامیے کے ذریعے ہم پارلیمانی اداروں کو مضبوط بنانے اور اپنے ملک کی بہتر خدمت کے لئے تعاون، جدت اور شمولیت کو فروع دینے کا عہد کرتے ہیں۔اس اعلامیے کو باہمی اتفاق اور احترام کے ساتھ 20 دسمبر 2024 کو منظور کیا جاتا ہے۔
Comments are closed.