نصیر آباد(آن لائن)حر جماعت کے روحانی پیشوا اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا نے کہا ہے کہ آپ کے اور میرے ووٹ سے نہ حکومت بنتی ہے اور نہ ٹوٹتی ہے، ہم ووٹ الف کو دیتے ہیں اور حکومت میں ب آجاتا ہے، ہمیں تو پتہ تھا کہ 70 سال سے الیکشن کیسے ہو رہے ہیں اس بار عالمی سطح پر بھی پتہ چل گیا کہ الیکشن کیسے ہوتے ہیں، نصیر آباد کے کوٹ نورپور جمالی اوستہ محمد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ سب قانون کے مطابق چلیں گے تو بہتر ہو گا ورنہ پھر گاڑی اسی طرح چلے گی۔حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اب یہ حکومت بنائی ہے جو چل ہی نہیں رہی بلکہ جھوٹ پر قائم ہے۔یہ حکومت تو بنائی گئی مگر چل پارہی ہے؟
ہمارے نصیب کہہ لیں یاعادت کہ ہمیں جھوٹ میں رہنا پسند ہے۔انہوں نے کہا کہ عزت دار لوگ سیاست سے باہر ہو جائیں گے تو پھر ٹھیکیدار ملک چلائیں گے۔ ہمیں ملک کیلئے سوچنا ہوگا۔ سیلاب ہو یا دیگر آفات مدد کیلئے فوج ہی آتی ہے۔سیلاب میں سب پریشان ہوتے ہیں کہ بند نہ ٹوٹ جائے جبکہ سیلاب کے سیزن میں لوگ پانی کیلئے لڑ رہے تھے بعد میں کیا حال ہو گا؟ سندھ کو پانی ملے گا تو بلوچستان کی طرف آئے گا۔پریس کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ مسلم لیگ فنکشنل پیر پگاڑا کا مزید کہنا تھا کہ عزت اور انصاف کے بغیر معاشرہ نہیں چل سکتا ہے، عزت نہیں دے سکتے مت دو، انصاف دے دو۔ پانی کا مسئلہ ہے جہاں بھی گیا تو لوگوں کا حال دیکھ کر افسوس ہوا۔ایسے بھی علاقے ہیں جہاں پینے اور نہانے کیلئے پانی نہیں ہے۔ سندھ کو پانی ملے گا تو بلوچستان کی طرف آئے گا۔
کالاباغ ڈیم منصوبہ ضیاء الحق کے دور میں ختم ہوچکا تھا جبکہ بے نظیر کے دور حکومت میں کالاباغ ڈیم کیلئے فنڈز مختص کئے گئے۔ 1985ء میں بھی سندھ پنجاب کے مابین نہری پانی کے مسائل ہوئے تھے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بلوچستان میں اقتدار والے غربت سے نکل کر امیر بن گئے جبکہ بلوچستان کا پیسہ عوام پر خرچ ہونا چاہیے تھا۔ کیانی صاحب سے حالات خراب تھے۔ باجوہ صاحب نے ڈامہ ڈول کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم فیڈریشن کے حامی ہیں فیصلہ سازوں کو درست اور بروقت فیصلے کرنے چاہیے۔
Comments are closed.