بانی تو کب سے ڈیل چا ہ رہا تھا کہ ضمانت کرا دو میں کے پی کے چلا جاؤں گا،23کو جیل کھلوا کر غیر ملکی کی موجودگی میں ملاقات کی گئی
دونوں کمیٹیوں کے پاس کوئی اختیارات نہیں اس لئے اس کے نتائج بھی کوئی اچھے نکلنے کی امید نہیں ہے،نجی وی پروگرام میں گفتگو
اسلام آباد(آن لائن )معروف صحافی و تجزیہ کار محسن جمیل بیگ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی مذاکرات کا حصہ بنی ہے اب دیکھنا یہ ہوگا اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں دونوں کمیٹیوں کے پاس کوئی اختیارات نہیں اس لئے اس کے نتائج بھی کوئی اچھے نکلنے کی امید نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنا بہت عرصے بعد پی ٹی آئی مذاکرات کا حصہ بنی ہے۔میرا نہیں خیال کہ ان مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔مذاکراتی کمیٹی کے ممبران کے کیا اختیارات ہیں انہوں نے کہاکہ خان کی رضا مندی سے یہ کمیٹی بنی ہے،آخر میں اگرکمیٹی کے ممبران نے اڈیالہ جیل سے پوچھنا ہے اورحکومتی ممبران نے پنڈی سے پوچھنا ہے تو پھر تو یہ کمیٹی کیا فیصلے کر پائے گی ۔یہ ایک اچھی بات ہے کہ ٹیبل ٹاک ہو رہی ہے اور بات چیت شروع کرنا بھی ایک خوشگوار عمل ہے۔جو مطالبات ادھر سے یا ادھر سے ہوں گے ان پر کچھ لے دے سے ہو سکتا ہے لیکن کسی نتیجہ پر پہنچنا ذرا مشکل ہے۔انہوں نے کہاکہ مذاکرات کے عمل کو جاری رہنا چاہئے اور کہیں جا کے آگے کوئی کامن پوائنٹ پر اتفا ق ہو جائے گا ۔
انہوں نے کہاکہ خان کو عدالت سے ریلیف تو مل رہا ہے اور سیاسی طور پر بھی عمل کو آگے بڑھنا چاہئے ۔پارلیمنٹ موجود ہے اور حکومت سے اگر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرنا ہے چاہئے وہ اسٹیبلشمنٹ سے کیوں نہ قائم کیا جائے ۔ یہ بات تو بہت اچھی ہے دیکھنا یہ ہوگا ان کے مطالبات کیا ہیں اور حکومت کے مطالبات کتنے مضبوط ہیں اس پر ابھی تک کوئی چیز واضح نہیں ہے،شاید آگے جاکے ہو جائے ۔ انہوں نے کہاکہ خدیجہ شاہ کیلئے امریکی وزیر خارجہ بیکن نے فون کیا اوراسے رہا کردیا گیا کیونکہ وہ امریکن شہری تھیں اور آج کل وہ جیل اصلاحات کیلئے کام کر رہی ہے یہ نو مئی کے واقعات میں ملوث تھیں اور کہا تھاکہ میں سیاست میں حصہ نہیں لوں نگی ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے زیادہ تر فیصلے پاکستان سے باہر ہوتے ہیں ان کے منہ میں الفاظ ڈالے جاتے ہیں اور وہ راستے ریاست پاکستان کے خلاف ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک سے ملک اور گورنمنٹ گورنمٹ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک شخص کریمنل کیس میں ملوث ہو اور اس کو چھوڑ دیا جائے اور اس کیلئے ایک خاص کوئی ٹویٹ آرہے ہیں تو پھر ریاست پاکستان کو اس کیلئے کوئی مناسب لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے اتنا ہی پریشر ہو کہ بھائی صاحب کو جیل سے چھوڑ دیا جائے تو پھر ریاست کے قوانین بھی پھر عام آدمی کیلئے ایسے ہونا چاہئے جیسے اس لاڈلے کیلئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم ایک آزاد ایٹمی ریاست ہیں ٹھیک ہے ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں ایسے لوگوں کی وجہ سے ہماری اکانومی تباہ ہوئی ہے اور اس نہج پر پہنچایا ہے کہ آج ہماری ریاسست اتنی کمزور ہے کوئی بھی ٹویٹ یا بیان بازی کر سکتا ہے۔
ہمارے اوپر جو پابندی لگی ہے یہ بھی ان کے لابیسٹ ہیں ۔اسرائیل 1948ء ہمارے پیچھے ہیں ۔ ان کا وزیراعظم کہتا ہے عرب سے نہیں بلکہ اس نئے ملک سے خطرہ ہے ۔ عمران خان اور اس کی بیوی نے پلان کرکے چوریاں کیں جبکہ خدیجہ شاہ کا کیس مختلف ہے وہ ان کی شہری تھی ۔پاکستان کے جو قوانین ہیں اس میں ایسا نہیں ہے کہ آپ فون کرکے کہیں یہ چھوڑ دو یہ کوئی بنانا ریپبلک تو نہیں ہے بانی جیسے لوگوں نے اس کو بنانا ریپبلک بنا دیا۔ اتنا بھی گیا گزرا حال نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس شخص کو کیسے ضمانتیں مل رہی ہیں اور اس کے پیچھے کون ہے وقت بتا دے گا یہاں تو حالت یہ ہے کہ پاؤں کے نیچے کسی کے بیٹر آ جائے تو شکاری بن جاتا ہے۔بانی کے ساتھ 23تاریخ کو جیل کھلوا کر مذاکرات تو ہوئے ہیں اور ایک غیر ملکی بھی اس میں موجود تھا اس ملاقات میں اس غیر ملکی کے ساتھ بیرسٹر گوہر بھی تھے ۔ ۔اور یہ بانی صاحب رضا مند تھے صرف ایک ویڈیو بیان پر مکر گیا پہلے اس نے کہا کہ میں ویڈیو بیان دیتا ہوں یہ تو کہہ رہا تھا کہ میری ضمانت کرا دو میں کے پی کے چلا جاؤں گا ۔یہ ڈیل تو بڑے دنوں سے کرنا چاہ رہا ہے اور یہ شخص اپنی ذات تک مرکوز ہے جو جیئے یا مرے اسے کوئی پرواہ نہیں ہے
Comments are closed.