اسلام آباد(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ مذاکرات کمزوری کی علامت نہیں، ملک کو بحران سے نکال کر جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور استحکام کی راہ پر ڈالنے کی سنجیدہ کوشش ہے، شہبازشریف سمجھ لیں، آوارہ زبانوں کو لگامیں نہ ڈالی گئیں تو جواب میں کوئی نرمی اور رعایت روا نہیں رکھی جائے گی۔ایک بیان میں وزیردفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل میں شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ حکومت کی صفوں میں موجود منہ کی کسی مہلک بیماری میں مبتلا ذہنی مریض مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں
، سیاسی حیثیت اور ساکھ سے یکسر محروم یہ عناصر فساد اور انتشار کو ہی اپنی سیاسی بقا کا ضامن سمجھتے ہیں، وزیراعظم مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو اپنی کابینہ کے مسخروں کو لگام دیں۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ نوازشریف اور اس کی بھکاری لیگ کے بارے میں قوم پہلے بھی کسی غلط فہمی کی شکار نہیں تھی مگر گزشتہ اڑھائی برس نے ان کے سیاسی جینیات میں موجود غلاظتوں تک کو دنیا پر بے نقاب کیا ہے، ملکی تاریخ جب بھی جمہوریت کے قاتلوں کا ذکر کرے گی، جاتی امراء کے بھگوڑے اور اس کے درباریوں کا تذکرہ سرِفہرست ہوگا، جس مردِ آزاد نے ان سارے مجرموں کی سیاست کو تابوت میں بند کیا وہ ان نالائقوں کو 6 فیصد کی شرح سے ترقی کرتی معیشت چھوڑ کر گیا،شہباز شریف نے جس تیزی سے معیشت کو پاتال میں پھینکا وہ معیشت کی تباہی کے نصاب میں تاقیامت ایک بدترین نظیر کے طور پر دنیا بھر کی جامعات میں پڑھایا جاتا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے میثاق پر دستخط کرنے کے دعویداروں نے گزشتہ اڑھائی برس سے جمہوریت کا جنازہ کندھوں پر اٹھا رکھا ہے
، پختونخوا اور پورے ملک کے عوام جانتے ہیں کہ عمران خان دہشتگردی کو صفر کرنے اور عوام کے جان و مال کی سلامتی کا اہتمام کرنے میں کامیاب رہا،جن 40 ہزار کا ذکر خواجہ آصف کر رہے ہیں انہیں اس قمر جاوید باجوہ نامی اس مکّار شخص نے واپسی کی راہ دکھلائی جس کے بوٹ چاٹ کر سیالکوٹ کا یہ گنوار پارلیمان پہنچا،خط لکھ کر پیسے دینے سے منع کرنے کا الزام اتنا ہی جھوٹا اور بیہودہ ہے جیسے کوئی یہ دعویٰ کرے کہ نوازشریف بھی کوئی سیاسی رہنما ہے، شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ شہبازشریف سمجھ لیں، آوارہ زبانوں کو لگامیں نہ ڈالی گئیں تو جواب میں کوئی نرمی اور رعایت روا نہیں رکھی جائے گی، تحریک انصاف پوری یکسوئی اور سنجیدگی سے سیاست کو اصلاح کی راہ پر ڈالنے کیلئے کوشاں ہے، اصلاح کی خواہش کو کمزوری سمجھنے اور حکومتی کمین گاہوں سے مسخروں کے تالیاں پیٹنے کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، سیاسی میدان میں مقابلہ ان بیروح، بیضمیر اور بیجان کٹھ پتلیوں کے بس میں کل تھا، آج ہے اور نہ ہی آئندہ ہوگا۔
Comments are closed.