اسلام آباد(آن لائن)سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود ججز میڈیا اور عوام کو ٹرائل تک رسائی نہیں دے رہے، قانونی مشیروں کے لیے بھی اہم رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں، وکلاکو بھی کمرہ عدالت تک رسائی حاصل کرنے میں غیر ضروری دشواری کا سامنا ہے،عدالتیں نتائج کو تیز کرنے کے لیے دباوٴ کے تحت کام کرتی نظر آتی ہیں۔ انسداد دہشتگری عدالتوں کے انتظامی جج جسٹس ملک شہزاد کے نام انسداد دہشتگری عدالتوں کی سی سی ٹی وی ریکارڈنگ اور دستاویزات کے حصول کیلئے لکھے گئے خط میں کہاگیاہے کہ میں اس وقت فیصل آباد اور راولپنڈی میں انسداد دہشتگری عدالت کے مقدمات کا سامنا کرہا ہوں، ہائی کورٹ کی واضح ہدایات کے باوجود ججز میڈیا اور عوام کو ٹرائل تک رسائی نہیں دے رہے،
یہاں تک کہ قانونی مشیروں کے لیے بھی اہم رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں، وکلاکو بھی کمرہ عدالت تک رسائی حاصل کرنے میں غیر ضروری دشواری کا سامنا ہے، مقدمے کی اس طرح کی کارروائی خدشات کو جنم دیتی ہے، چارج فریمنگ اور درخواستوں کے فیصلے کے لیے مناسب طریقہ کار پر عمل نہیں کیا جارہا،عدالتیں نتائج کو تیز کرنے کے لیے دباوٴ کے تحت کام کرتی نظر آتی ہیں، یہ اقدامات عدالتی عمل کی شفافیت کو مزید نقصان پہنچاتے ہیں، متعدد بار درخواستیں دینے کے باوجود ٹرائل کورٹس اہم دستاویزات اور ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہی ہیں، دستاویزات تک رسائی سے انکار ملزم کے منصفانہ ٹرائل اور موثر قانونی دفاع کی خلاف ورزی کرتا ہے،راولپنڈی اور فیصل آباد کے اے ٹی سی سے سی سی ٹی وی ریکارڈنگ کی تحویل کی ہدایت دی جائے، ان مقدمات کی سماعت کرنے والے ججوں کے طرز عمل کا فوری جائزہ لیا جائے،دستاویزات، عدالتی احکامات اور شہادتی مواد ملزم کے وکیل کو دینے کی ہدایات دی جائیں، اس معاملے پر آپ کی توجہ عدالتی عمل کی سالمیت کو برقرار رکھنے کیلئے نہایت ضروری ہے۔
Comments are closed.