کراچی (آن لائن) وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مشورہ دیتے ہوے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اصل رسیدیں دکھا دیں رہا ہو جائیں گے۔دوسروں سے رسیدیں مانگتے تھے جب خود ان سے مانگی گئیں تو بوگس نکلیں ۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہ بانی پی ٹی آئی لوگوں سے رسیدیں مانگتے تھے، جب ان سے رسیدیں مانگی گئیں تو بوگَس رسیدیں نکلیں، ملک کا 50ارب کھانے کے بعد آپ کہہ رہے ہیں ڈکار بھی نہیں مارنا۔انہوں نے سوال اٹھاتے ہوے کہا کہ کیا کبھی ایسا ہوسکتا ہے آپ کو سستے تحفے ملیں اور گن مین کو مہنگے تحفے ملیں، اپنی رسیدیں مانگنے کی باری کہتے ہیں ہم سے رسیدیں مت مانگیں۔ یہ انصاف نہیں تحریک انصاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ 31دسمبر کو وزیراعظم نے اڑان پاکستان کے نام سے منصوبہ لانچ کیا ہے، ماضی میں 3 اڑانیں کریش ہوتے دیکھ چکے ہیں ، اڑان پاکستان سیاست سے بالاتر ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے وفاقی منصوبوں کی جانب توجہ دلائی ،سندھ میں وفاقی حکومت کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی امداد سے چلنے والے منصوبوں پر کام رکنے نہیں دیں گے، سیلاب متاثرین کی بحالی میں وفاق اپنا حصہ ڈال رہاہے۔ زراعت،صنعت،ٹیکنالوجی،تخلیقی صنعت کا فروغ ہماری ترجیح ہے، جدت کی وجہ سے عالمی سطح پر انقلاب آگیا ہے، پاکستان نے خطے کے ممالک کے ساتھ معاشی مقابلہ کرنا ہے، ہمیں اس ملک کو باوقار ملک بنانا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان اختلافات کے تاثر پر بات کرتے ہوے کہا کہ مخلوط حکومت کے اندر ہلکی پھلکی نوک جھوک چلتی رہتی ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی ملک کی دو بڑی جماعتیں ہیں، دونوں پارٹیوں کے اپنے اپنے نظریات ہیں، دو بڑی جماعتیں جدا حیثیت رکھتی ہیں وہ میچور ہیں، دونوں جماعتیں جہاں ملک کا نقصان دیکھتی ہیں وہاں ایک پیج پر آجاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی مفاد سے متعلق ن لیگ اور پیپلزپارٹی کا نظریہ ایک ہے، 2022 کے سیلاب کے بعد تباہی سے نکلنے میں سندھ حکومت کی مدد کریں گے، سب کے ساتھ ملکر ہمیں اس ملک کو معاشی بحران سے نکالنا ہے،وزیرخزانہ این ایف سی کا اجلاس بلا رہے ہیں، یقینا ًمسائل ہیں اور وہ مسائل ہم ہی حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سائبر سپیس سے آپ کسی بھی ملک کی انشورنس کمپنی اور گورننس کے نظام کو ہیک کرسکتے ہیں، پاکستان نے سائبر سپیس میں دیر سے قدم اٹھایا ہے
، سائبر بزنس کی حفاظت بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے، ہماری سافٹ ویئر انڈسٹری ترقی کررہی ہے، پاکستان کو اس وقت غیر اعلانیہ جنگ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا ترقی یافتہ ملک ہے، وہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگا رہا ہے، امریکا جیسے ملک کو بھی سائبر اٹیک کا سامنا ہے، ہمیں ملک میں لوگوں کو اپنی کامیابیاں بھی بتانی چاہئیں، سٹاک مارکیٹ 30 ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ سے اوپر چلی گئی ہے، مہنگائی 38 فیصد سے گر کر4 فیصد پر آگئی ہے۔ انہوں نے کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے مفاہمت کی سیاست ناگزیر ہے، معیشت کا دارومدار 30 ارب ڈالر ایکسپورٹ کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانا ہے، 100ارب تک ایکسپورٹ لے جانے میں 8 یا 15 سال لگیں گے، کسی نے باہر سے آکر نہیں ہمیں خود پاکستان کو ترقی پر لے جانا ہے، اڑان پاکستان کے تحت ہدف کو حاصل کرنے کیلئے صوبوں کو ساتھ لیکر چلیں گے۔
Comments are closed.