پی ٹی آئی رہنماؤں کے کالز کا جواب نہ دینے کے الزامات بھی مسترد
بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے تحریک انصاف کو اسحاق ڈار یا رانا ثناء اللہ سے ہی رابطہ کرنا ہوگا‘مشورہ
اسلام آباد (آن لائن)قومی اسمبلی کے سپیکر آفس نے واضح کیا ہے کہ سپیکر کا کام مذاکرات میں سہولت کاری کرنا ہے ملاقات کروانا ان کی ذمہ داری نہیں‘ سپیکر آفس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے کالز کا جواب نہ دینے کے الزامات بھی مسترد کردئیے اور کہا کہ بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے تحریک انصاف کو اسحاق ڈار یا رانا ثناء اللہ سے ہی رابطہ کرنا ہوگا۔بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروانے کے معاملے پر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا موقف سامنے آگیا ہے۔ سپیکر افس کا کہنا ہے کہ سپیکر کا کام مذاکرات میں سہولت کاری کرنا ہے ملاقات کروانا ان کی ذمہ داری نہیں سپیکر افس نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے سپیکر کے ان کی کالز کا جواب نہ دینے کے الزامات بھی مسترد کردئیے۔ سپیکر آفس نے سردار ایاز صادق پر پی ٹی آئی کے الزامات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں کے سپیکر سے رابطے نہ ہونے کا کچا چٹھا بھی کھول دیا
، سپیکر آفس کے مطابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور شیخ وقاص اکرم نے سپیکر کو کوئی کال نہیں کی، شیر افضل مروت نے وائس میسج میں بانی سے ملاقات کی درخواست کی جس پر سپیکر نے جواب دیتے ہوئے شیر افضل مروت کو رانا ثناء اللہ سے رابطے کا کہا۔ذرائع سپیکر آفس کے مطابق سپیکر کا کردار صرف مذاکرات میں سہولت کاری کرنا ہے بانی سے ملاقات کروانا نہیں، سپیکر کا کام فیصلے کرنا یا ملاقات کروانے کی ذمہ داری لینا بھی نہیں، شیر افضل مروت کی بانی سے ملاقات کی درخواست حکومت تک پہنچا دی گئی تھی۔سپیکر افس کا کہنا ہے کہ عمر ایوب اور شیخ وقاص اکرم غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں کہ سپیکر کوئی جواب نہیں دے رہے،
اگر تحریک انصاف کا سپیکر سے موبائل پر رابطہ نہیں تو سپیکر آفس سے رابطہ کریں ان کی بات کروائی جاسکتی ہے، سپیکر ایاز صادق نیک نیتی سے مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں، بانی چیئرمین سے ملاقات کے لیے تحریک انصاف کو اسحاق ڈار یا رانا ثناء اللہ سے ہی رابطہ کرنا ہوگا۔
Comments are closed.