سیاستدانوں کو جیلوں میں نہیں ہونا چاہیے،خواہش ہے کہ مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوں، مو لانا فضل الرحمٰن
لاہور (آن لائن) جے یو آئی (ف) کے سربراہ مو لانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ سیاستدانوں کو جیلوں میں نہیں ہونا چاہیے۔
خواہش ہے کہ مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوں۔ افغانستان کے معاملے میں ہمیں ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنا ہو گا ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کے غلط رویوں کی وجہ سے پارلیمنٹ بے معنی ہوگئی، خواہش ہے کہ مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ یہ تقاضا رہا ہے کہ آئین کے دائرے میں رہ کر ملک کی خدمت کریں، ملک کے نظام سے وابستہ رہیں، یہ ہمارا میثاق ملی ہے، جب اس کی خلاف ورزی ہوگی تو آئین غیر موٴثر ہوجائے گا
، آئین بے معنی ہوجائے گا جس طرح آج ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ بے معنی ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے کو اگر انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے، کسی پارٹی نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے تو اسے اپنے رو ئیے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں سیاسی آدمی ہوں اور مذاکرات کا قائل ہوں کیونکہ مذاکرات سے ہی معاملات ٹھیک ہوتے ہیں، مذاکرات کی کامیابی کے لیے وہ ماحول بھی ہونا چاہیے جس میں اس کی امید کی جا سکے۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کے حولے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں اس معاملے پر ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرنا ہو گا جذباتی طور پر چلیں گے تو یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا ۔ انہوں نے کہاکہ سیاست میں انتقام کا تاثرنہیں ہونا چاہیے میں سیاسدانوں سے پوچھتا ہو ں کہ ٹرمپ کو اپنے دماغ پر سوار کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ آپس میں مل بیٹھ کر مسائل کو حل کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ یہ تقاضا رہا ہے کہ بھئی آپ آئین کے دائرے میں رہ کر ملک کی خدمت کریں، ملک کے نظام سے وابستہ رہیں، یہ ہمارا میثاق ملی ہے
، جب اس کی خلاف ورزی ہوگی تو آئین غیر مؤثر ہوجائے گا، آئین بے معنی ہوجائے گا جس طرح آج ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمنٹ بے معنی ہوگئی ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ سب چیزیں ہیں جس پر تمام ہر ادارے کو اگر انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے، کسی پارٹی نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے تو اسے اپنے رویے پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ایک سوال پر سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ میں سیاسی آدمی ہوں اور مذاکرات کا قائل ہوں اور مذاکرات سے ہی معاملات ٹھیک ہوتے ہیں، مذاکرات کی کامیابی کے لیے وہ ماحول بھی ہونا چاہیے جس میں اس کی امید کی جا سکے۔ان کا کہنا تھا کہ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر دھاندلی کی گنجائش ہے تو دھاندلی سے پاک غیر جانبدارانہ انتخابات کی گنجائش کیوں نہیں ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ دیکھیں آپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اتنا کیوں دماغوں پر سوار کیا ہوا ہے۔
Comments are closed.