190ملین پاونڈ اوپن اینڈ شیٹ کیس ہے ،اپیل سے گریز ہی کریں، مریم اورنگزیب کا پی ٹی آئی کو مشورہ

لاہور (آن لائن)سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ایک سو نوے ملین پاونڈ اوپن اینڈ شیٹ کیس ہے ، فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے اس لئے اپیل سے گریز ہی کریں ، بانی پی ٹی آئی ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ڈکیت ثابت ہو چکا ، دوسروں کی کردار کشی کرنے والے نے ملکی تار یخ کی سب سے بڑی کرپشن کی اور انجام کو پہنچا ۔ میدیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا ملک کے اندر اربوں کھربوں کے ترقیاتی منصوبوں پر نواز شریف کی مہر ہے اتنے بڑے منصوبوں میں ایک روپے کی کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی

، نواز شریف پر کرپشن اور چوری کے الزام لگانے والے ایک دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں کر سکے ۔ انہوں نے کہا ایک سو نوے ملین پاونڈ پاکستانی عوام کا پیسہ تھا حکومت کے اکاونٹ میں آنا تھا ۔ اگر یہ پرائیویٹ پیسہ تھا تو کابینہ سے بند لفافے کے ذریعے اس کی منظوری کیوں لی گئی ۔ یہ ڈکیتی اس وقت کے وزیرا عظم عمران خان نے کی یہ ہوتا ہے اختیارات کا ناجائز استعمال ۔ دوسروں کو کال کوتھڑی میں رکھ کر چور چور کے نعرے لگانے والا ملکی تاریخ کا سب سے بڑا ڈکیت ثابت ہوا ۔ جس یونیورسٹی کو اس نے کرپشن کا ذریعہ بنا یا تھا وہ آج مریم نواز کی ھکومت کی تحویل میں دی جا چکی اسے اب تعلیم و تربیت کے لئے استعمال کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا یہ ملک کا پہلا وزیراعظم ہے جو ڈکیت ثابت ہوا ۔ صادق اور امین کہلانے والے سے بڑا خا ئن کوئی نہیں۔ پارٹی فنڈ میں خیانت ، توشہ خانہ میں خیانت ، عوام کے پیسے میں خیانت ، کووڈ فنڈز می میں خیانت یہ ہے اس کی حقیقت ۔ انہوں نے کہا کہ آج کہتے ہیں فیصلے پر کوئی حیرانگی نہیں ہوئی ۔

کیسے ہو ، چور کو تو پتہ ہوتا ہے کہ وہ چور ہے اور اس کا انجام کیا ہونا ہے۔ حیرانگی تو ہمیں ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح لوہے پر سونا چڑھانے سے کچھ نہیں ہوتا اسی طرح وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ کر چور چوری سے باز نہیں آتا ۔ انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے مسجد نبوی کے تقدس کا خیال نہ کرتے ہوے ہم پر چور چور کے جملے کسوائے ۔ آج مکافات عمل سے دوچار ہیں ۔ انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیتے ہوے کہا کہ ایک سو نوے ملین پاونڈ اوپن اینڈ شیٹ کیس ہے ، اس کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے اس لئے انھیں فیصلے کے خلاف اپیل بھی نہیں کرنی چاہیے ۔ انہوں نے عوام کے پیسے سے ہیرے کی انگوٹھیاں خریدی یں اور جائیدادیں بنا ئیں ۔ ریاست مدینہ اور اسلام کا نام لے لے کر یہ ایسے کرتوت کر رہے تھے ۔ اب سب کو پتہ ہے عمران خان اس ملک کا سب سے بڑا ڈاکو ہے ۔ القادر ٹرست کرپشن کیس کو انہوں نے اسلامی ٹچ دینے کی کوشش کی ۔ دوسروں کے لئے گڑھا کھود رہے تھے خود اس میں جا گرے۔ کہتا تھا کہ وزیراعظم ہاوس اور گورنر ہاوسز کو یونیورسٹیاں بنا دوں گا ۔ ہمیں تو آج وہاں کوئی یونیورسٹی نظر نہیں آئی ۔ اختیارات کے ناجائز استعمال کی تار یخ کی سب سے بڑی مثال ہے ۔

جس پر یہ الزام لگاتے تھے و ہ نہ صرف عدالتوں سے سرخرو ہوا وہ دوبار وزیر اعلی اور تین بار وزیراعظم بننے کے بعد آج پھر اپنی حکمران جماعت کی سرپرسستی کر رہا ہے اور اس کی قیادت میں ملک ترقی کر رہا ہے ۔ جس خاتون کو تم نے والد کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا ، جیلو ں کی چکیاں پسوائیں ، جلسوں میں اس پر جملے کسوائے آج وہ صوبے کی وزیراعلی ہے اور دن رات عوام کی فلا ح و بہبود کے کامو ں سے عوام کی محبتیں سمیٹ رہی ہے ۔ شکر کرو آج جن کی حکومت ہے ان میں بدلے کی ہوس نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا حکومتی اقدامات سے آج معیشت دوبارہ بحالی کی جانب گا مزن ہے ، مہنگائی سنگل ڈیجٹ پر ہے ، سٹاک مارکیٹ نئے نئے ریکارڈ بنا رہی ہے ، غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان آرہے ہیں ۔ ہمیشہ ن لیگ کے دور حکومت میں ہی ملک ترقی کرتا ہے ۔

Comments are closed.