وزیر خزانہ سینیٹر اورنگزیب ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے ڈیووس روانہ

اسلام آباد (آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے سوئس شہر ڈیووس روانہ ہو گئے جہاں پر 20 سے 24 جنوری تک جاری رہنے والے ورلڈ اکنامک فورم میں شرکت کے دوران مختلف ممالک اور عالمی اداروں کے سیاسی، تجارتی و کاروباری راہنماوٴں سے ملاقاتیں کریں گے وزیر خزانہ دورہ کے دوران مختلف نشستوں اور مذاکروں سے خطاب کے دوران ملک کے معاشی منظر نامے کو واضح کریں گے وزیر خزانہ فورم کے دوران ترقی پذیر معیشتوں پر عالمی قرضوں کے بڑھتے بوجھ کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکرے میں بطور پینلسٹ شریک ہوں گے وزیر خزانہ اپنی گفتگو میں مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی اور قرضوں میں پائیداری کے ذریعے مضبوط اور لچکدار معیشتوں کے قیام پر نقطہ نظر بیان کریں گیوزیر خزانہ فورم کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں نئی ٹیکنالوجیز بالخصوص اے آئی اور خودکاری کے انقلاب آفرین اثرات پر ایک اعلیٰ سطحی مذاکرے میں بھی بطور پینلسٹ شریک ہوں گے۔وزیر خزانہ ٹیکنالوجیز کے استعمال سے درست اور منافع بخش تجارت اور سرمایہ کاری کے حصول کے مختلف پہلووٴں پر خیالات کا اظہار کریں گے

دورہ کے دوران وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب سعودی عرب، مصر اور قطر کے مندوبین وزرا سے ملاقاتیں کریں گے۔فورم میں شرکت کے دوران وزیر خزانہ کی عالمی مالیاتی و کاروباری اداروں،پائیدار ترقی میں شریک عالمی تنظیموں اور سرمایہ کار اور کمرشل بنکوں بالخصوص مشرق وسطی کے سرمایہ کار بنکوں کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔ وزیر خزانہ دورہ کے دوران پاتھ فائنڈر گروپ کے زیر اہتمام "ڈیجیٹل پاکستان” اور "پاکستان میں سرمایہ کاری” کے موضوعات پر دو علیحدہ مذاکروں میں خصوصی طور پر شریک ہوں گیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب دورہ کے دوران منتخب بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو انٹرویوز بھی دیں گے ورلڈ اکنامک فورم کا 55 واں سالانہ اجلاس "سمارٹ ٹیکنالوجیز کے دور سے ہم آہنگ رہنے کے لیے تعاون” کے نعرے کے تحت منعقد ہو رہا ہے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں متعدد سربراہان مملکت اور حکومتوں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے رہنما شریک ہو رہے ہیں فورم میں نجی شعبے کے ایک ہزار سے زائد اعلیٰ سطحی نمائندے، نوجوان رہنما، سول سوسائٹی اور تعلیمی اداروں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے فورم میں حکومتوں اور بڑی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کے درمیان مختلف اقتصادی اور ترقیاتی شعبوں میں شراکتوں اور بین الاقوامی تعاون پر مبنی حل پیش کیے جائیں گے۔۔

Comments are closed.