اسلام آباد(آن لائن) پی ٹی آئی کے چیرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کیلئے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ دیا گیا ہے انہوں نے کہاکہ بہتر ہوگا کہ سپریم کورٹ پہلے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیسز کا فیصلہ کر لے۔منگل کو الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کی سماعت کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی انٹرا پاروٴٹی انتخابات کا کیس مقرر وٴتھا اور اب اس میں 11فروری کی تاریخ دی گئی ہے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے آئین اور قانون کے مطابق انٹرا پارٹی انتخابات 3مارچ کو عوام کے سامنے کرائے تھے اور 7مارچ کو الیکشن کمیشن میں جمع کرائے مگر ابھی تک الیکشن کمیشن کی جانب سے سرٹیفیکیٹ نہیں ملا ہے مگر ہمارے بعد مختصر مدت میں انٹرا پارٹی انتخابات کرانے والی سیاسی جماعتوں کو سرٹیفیکیٹس مل گئے انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کچھ آئینی اور قانونی سوال اٹھائے تھے جن کا جواب دیدیا گیا مگر بعد میں پتہ چلا کہ کچھ افراد کی جانب سے بھی اعتراضات عائد کئے گئے ہیں اس کا بھی جواب دے دیا جائے انہوں نے کہاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ اگلی سماعت کے بعد ہمیں سرٹیفیکیٹ مل جائے گی انہوں نے کہاکہ پاکستان میں پی ٹی آئی کی اکثریت سب سے زیادہ ہے انہوں نے کہاکہ ہم نے جو دستاویزات الیکشن کمیشن میں جمع کرائے تھے اس کا ریکارڈ ہمارے دفتر پر چھاپے کے وقت ایف آئی اے کی جانب سے اٹھا لیا گیا تھا انہوں نے کہاکہ ایف آئی اے ہمارا سامان لے گئی اور ہم نیوٴ الیکشن کمیشن کو درخواست دی جس پر الیکشن کمیشن نے کہاکہ اس معاملے پر عدالت جائیں اور ہم نے عدالت سے رجوع کر لیا ہے
وٴانہوں نے کہاکہ چیف الیکشن کمشنر اور ممبران الیکشن کمیشن کے لئے جو طریقہ کار ہے کہ پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے گی اس پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی جانب سے سپیکر قومی اسمبلی کو خطوط لکھے گئے ہیں کہ پارلیمانی کمیٹی جلد از جلد تشکیل دی جائے انہوں نے کہاکہ آئین کے مطابق مدت ملازمت ختم ہونے کے بعد بھی چیف الیکشن کمشنر اور ممبران اپنی مدت نئے ممبران کی تعیناتی تک جاری رکھ سکتے ہیں انہوں نے کہاکہ ہم نے یہ خط پہلے لکھنا تھا جو کہ نہیں لکھا گیا کیونکہ اس معاملے پر پہلے وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر نے مشاورت کرنا تھی جوکہ نہیں ہوئی ہے انہوں نے کہاکہ 26ویں آئینی ترمیم چیلنج ہوچکی ہے اور اس معاملے پر سپریم کورٹ نے بنچ بنانے کا عندیہ دیا تھا انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اس کا فیصلہ کرنا ہے بہتر یہ ہو گا کہ پہلے اس کا فیصلہ کر لیا جائے۔
Comments are closed.