ڈی آئی خان (آن لائن) جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خو د کو قبائل کا حصہ سمجھتا ہوں ہم ہمیشہ قبائلیوں کے حق میں بات کرتے ہیں ۔ کسی صورت ظلم و جبر کے ساتھ نہیں ہیں ، نہ خود پر جبر ہونے دیں گے ۔ پی ٹی آئی اپروچ کرتی ہے تو حکومت سمیت کسی سے بھی مذاکرات کے لئے تیار ہوں ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوے انہوں نے کہا دو ہزار بارہ سے ہم نے مستقل جرگہ بنایا ہوا ہے ۔ہم ہمیشہ قبائلیوں کے حق میں بات کرتے ہیں، میں خو د کو قبائل کا حصہ سمجھتا ہوں ۔
کسی صورت ظلم و جبر کے ساتھ نہیں ہیں نہ خود پر ظلم ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہا حکومت قبائلی مشران اور عوام سے پوچھ لے وہ کیا چاہتے ہیں حق یہ بنتا ہے میں تمام قبائل اور مشران سے فردا فردا ملاقات کروں ۔ جب بھی قبائل کا مسئلہ آتا ہے ہمارے اندر ایک تحریک جنم لیتی ہے ۔ تمام سیاسی پارٹیون سے بالاتر ہو کر قبائلیو ں کا الگ جرگہ بلاوں گا ۔ انہوں نے کہا تمام مکاتب فکر کا اتفاق ہے کہ اسلحے کا راستہ اختیار نہیں کرنا ۔ مجھے بھی طاقت کا استعمال آتا ہے ۔
تاہم ہم ملک اور فوج کے بھی خیر خواہ ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ٹرمپ ہو یا بائیڈن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیو نکہ امریکی پالیسی حکمران جماعت کے بدلنے سے نہیں بدلا کرتی ۔ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کے معاملے پر بات کرتے ہوے انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے حوالے سے اگر پی ٹی آئی کی جانب سے مجھے کچھ کہا جاتا ہے تو حکومت سمیت جس سے بھی کہا جائے گا بات کر لوں گا
Comments are closed.