اسلام آباد(آن لائن)صحافتی تنظیموں نے پیکا کے کالے قانون کو مستردکرتے ہوئے منگل کو ملک بھرمیں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے آرآئی یو جے اور نیشنل پریس کلب کے عہدیداران کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ میڈیا کا شکر گزار ہوں کی شارٹ نوٹس پر آپ یہاں آئے۔ہم پیکا کے کالے قانون کو یکسر مسترد کرتے ہیں ۔اس کے خلاف 28 جنوری بروز منگل ملک بھر میں احتجاج کریں گے۔تمام چھوڑے بڑے شہروں نیں جلسے، جلوس اور ریلیاں نکالی کر صحافی اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ دھونس دھاندلی کے ذریعے میڈیا کو بلڈوز کر لے گی۔ہم نے طویل مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ کل سے آزادی صحافت تحریک کا آغاز ہو گا۔کل مظاہروں کے بعد پاکستان کی وکلاء برادری، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کمیشن اور دیگر شعبہ زندگی کو آزادی صحافت ٹریک میں شمولیت کی دعوت دیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ہمارے مظاہرے میں سب لوگ ہمارے ساتھ شریک ہوں گے۔اگلے مرحلے میں ٹریڈ یوننیز کو بھی اس تحریک میں شامل کریں گے۔اگر پھر بھی ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو آل پارٹیز کانفرنس بلا کر بلوچستان سے خہبر اور کراچی تک تمام جماعتوں کو بلائیں گے۔سیاسی جماعتوں کو بھی اس تحریک میں شامل کریں گے۔آخری کال پارلیمنٹ ہاوس کے باہر دھرنے کی ہو گی۔
پارلیمنٹ کے باہر دھرنے کے شروع ہونے کی تاریخ تو ہو گی لیکن اختتام کالے قانون کے خاتمے تک جاری رہے گا ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے باہر جس دن دھرنا دیں گے اس دن تمام دنیا میں پاکستانیوں سے اپنے ممالک میں دھرنے دینے کی دعوت دیں گے۔پوری دنیا کو ہم اپنی آواز میں شامل کریں گے۔
Comments are closed.