پاک بحریہ کی کثیرالقومی بحری امن مشقوں کا آغاز ، 60 سے زائد ممالک حصہ لے رہے ہیں ،

کراچی (آن لائن) پاک بحریہ کے زیر اہتمام نویں کثیرالقومی بحری امن مشقیں باضابطہ طور پر کراچی میں شروع ہو گئیں ۔ ترجمان پاک بحریہ کے مطابق گیارہ فروری تک جاری رہنے والی ان امن مشقوں میں 60 سے زائد ممالک اپنے بحری اور فضائی جہازوں، اسپیشل آپریشن فورسز، میرینز کی ٹیموں اورمندوبین کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں ۔ مشقوں کا باقاعدہ آغاز شریک ممالک کی پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا۔ کمانڈر پاکستان فلِیٹ رئیر ایڈمرل عبدالمنیب تقریب کے مہمان خصوصی تھے ۔ 9 ویں آگزیلری اسکواڈرن کے کمانڈر کموڈور عمر فاروق نے حاضرین کو چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا استقبالیہ پیغام پڑھ کر سنایا ۔ جس کے بعد پرچم کشائی کی تقریب ہوئی ۔ استقبالیہ پیغام کے بعد پاک بحریہ کے جوانوں پرمشتمل پرچم پارٹی شریک ممالک کے جھنڈوں کے ساتھ پنڈال میں داخل ہوئی ۔ پاکستان کے قومی ترانے کی دھن کے ساتھ امن مشقوں 2025 میں شریک تمام ممالک کے پرچم فضا میں بلند کئے گئے ۔ ان پرچموں کے عین درمیان میں میزبان ملک پاکستان کا سبز ہلالی پرچم بھی موجود تھا ۔ پاک بحریہ امن مشق 2025 کے ساتھ پہلی بارامن ڈائیلاگ کا آغاز بھی کر رہی ہے۔ امن ڈائیلاگ میں دنیا بھر سے بحری افواج اور کوسٹ گارڈز کے سربراہان شرکت کر رہے ہیں ۔

امن ڈائیلاگ عالمی بحری قیادت کو سمندری مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کا بہترین موقع فراہم کرے گا۔پہلی کثیرالقومی بحری امن مشق 2007 میں منعقد ہوئی۔ یہ مشق ہر دو سال بعد منعقد ہوتی ہے جس میں مختلف ممالک کی بحری افواج کے بحری جہاز، ائیر کرافٹس، اسپیشل آپریشن فورسز، دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے والی ٹیمیں اور مبصرین شرکت کرتے ہیں۔پاک بحریہ کی امن مشقوں کا مقصد خطے کا بحری استحکام، مشترکہ کاروائیوں کی صلاحیتوں میں اضافہ، آپریشنل تیاری اور پاکستان کے مثبت تصور کو اجاگر کرنا ہے۔ دنیا کے ہر خطے سے بہترین بحری افواج کو ایک جگہ اکٹھا کرنا یقینا پاکستان اور پاک بحریہ کے لئے بڑا اعزاز ہے۔بحری مشقوں کا مقصد ممالک کے مابین ہم آہنگی اور امن کا فروغ ہے۔ اس مشق کا موٹو امن کے لئے متحد ہے جو اس مشق کے حقیقی تصور کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔تقریب کے مہمان خصوصی کمانڈر پاکستان فلیٹ رئیر ایڈمرل عبدالمنیب نے تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہا امن مشق میں شرکت کرنے والے ممالک کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

بحری سلامتی میں بحری افواج کا اہم کردار ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ سمندروں میں مختلف چیلنجز کا سامنا رہا ہے جن میں دہشتگردی، قذاقی جیسے چیلنجز شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امن مشق دنیا بھر کے ممالک کو خطرات اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مل کرکام کی دعوت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا رواں سال امن مشق میں پہلی مرتبہ امن ڈائیلاگ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ایک دوسرے کے اشتراک سے درپیش متفرق معاملات کو بہتر انداز میں ہینڈل کرسکیں گے۔

Comments are closed.