صحافت کمپرومائز ہو جائے تو معاشرے کی بہتری ممکن نہیں ،خواجہ آصف

اسلام آباد (آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر صحافت کمپرومائز ہو جائے تو معاشرے کی بہتری ممکن نہیں ، سیاست میں تحمل اور بردباری کامیابی کی علامت ہے ۔ ہمیں تنگ نظری سے اجتناب کرنا چاہیے ، کھلے ذہن سے حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا ۔ صحافی علی فرقان کتاب کی تقر یب رونمائی سے خطاب کرتے ہو ے انہوں نے کہا مو جودہ حالات میں لوگ بولتے ہیں تو کوشش کرتے ہیں پہچانے نہ جائیں میں کہتا ہوں کہ تمام ادارے برباد ہو جائیں مگر صحافت آذاد رہے تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔ صحافت کی آزادی کو برطانوی جمہوریت کی بنیاد مانا جاتا ہے۔ 9 مئی سے 6 فروری تک جو واقعات ہوئے ان پربات کرنے سے گریز کروں گا۔ اس پر ہر ایک کا اپنا اپنا موقف ہے ۔ انہوں نے کہا علی فرقان نے صحافی اور مورخ کا کردار ادا کیا ہے ۔ یہ سیاسی تغیرات سے بھر پور کتاب ہے ۔ میں بطور سیاستدان تغیرات کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا وقت آئے گا کہ چھوٹی چھوٹی تصویروں کی بجائے بڑی تصویر دیکھ سکیں گے ۔

ایسی کتابیں ہمیں راستے درست کرنے کا موقع دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا صحافتی برادری کی معاشرے کیلئے خدمات کو سراہتا ہوں ۔ صحافی تاریخ دان نہیں ہوتا بلکہ اسے حالات حاضرہ کو بیان کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کتابیں ہمیں موقع فراہم کرتی ہیں کہ ہم ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے اپنے اصلاح کریں۔ انہوں نے کہا کتابوں میں حقائق پر مبنی واقعات نہیں ہوتے ، تا ہم بعض واقعات تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر صحافت کمپرومائز ہو جائے تو معاشرے کی بہتری ممکن نہیں ہوتی ۔ نو مئی سے آٹھ فروری تک کے واقعات پر ہر کسی کا مختلف موقف ہے ۔ تاہم مورخ کبھی بھی حقائق سے پردہ پوشی نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے سیاست میں تحمل او ر بردباری کو کامیابی کی علامت قرار دیتے ہوے کہا ہمیں تنگ نظری سے اجتناب کرنا چاہیے ، کھلے ذہن سے حقائق کو تسلیم کرنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا پی ٹی وی ماضی میں آج کے مقابلے میں بہت بہتر تھا تاہم اب صرف قصیدہ گو بن گیا ہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی نے ہمیشہ ذ مہ دارانہ صحافت کی ، جو دوسرے چینلز کے لئے قابل تقلید ہے ۔ انہوں نے کہا میڈیا مالکان سے اپیل ہے کہ وہ دیانتداری سے صحافتی شعبے کے لئے خدمات سر انجام دیں ۔ ساری دنیا کرپٹ ہو جائے صحافت صاف و شفاف اور ذمہ دار رہے تو معاشرہ ترقی کرتا ہے لیکن اگر صحافت پرشیخوں کا قبضہ ہو جائے تو پھر معاشرتی بہتری کی توقع رکھنا بس خواب ہی ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوے شاہد خاقان عباسی نے کہا پاکستان کو بہت سی کتابوں کی ضرورت ہے ۔ بلکہ ملک میں ایک ٹرتھ کمیشن بننا چاہئیے۔

انہوں نے کہا پاکستان دلچسپ ترین ممالک میں سے ایک ہے ۔ جس طرح آئین ہم توڑتے ہیں اور کہیں نہیں توڑا جاتا۔ جس طرح تاریخ کو ہم نے مسخ کیا کسی اور نے نہیں کیا ہو گا۔ 26 ویں ترمیم کے بعد عدالتیں بھی نہیں رہیں۔ 9 مئی ہو یا 8 فروری، ملک کو بہت نقصان ہوا ۔ انہوں نے کہا فوجی تنصیبات پر حملہ کے پیچھے سیاسی ہاتھ ہو یا نہ ہو یہ افسوسناک ہے۔ آٹھ فروری کو ایک متنازعہ الیکشن ہوا،2018 کا بھی الیکشن متنازعہ تھا۔ انہوں نے کہا پاکستان آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی سے چلے گا ۔ سابق گورنر مہتاب عباسی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ تاریخ کی بنیاد آج کے رپورٹرز رکھ رہے ہیں ۔ نو مئی سے آٹھ فروری کے دوران کے پاکستان کی سیاسی تاریخ بدلی ہے ۔ اس دوران ہم نے سب کچھ گنوادیا ۔

سب کچھ گنوانے کے باجود بھی کہہ رہے ہیں کچھ نہیں گنوایا ۔ آج ہم نے چھبیسویں ترمیم بھی کردی ہے ۔ حالات دیکھ کر خوف کھاتا ہوں ۔ خدشہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کا مستقبل تاریک ہے انہوں نے کہا کہ میری زندگی میں جمہوریت کا آنا مشکل ہے ۔ صحافی بھی کبھی سچ بولنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے کہا بولو کہ پہچانے جاو لکھو کہ مستند ہوجاو۔ جب لکھتے ہیں تو لکھنے والا مستند ہوجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کتاب بچے کی طرح ہے ۔ کتاب لکھنا بھی صحافت ہے

Comments are closed.