جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کے 29ویں چیف جسٹس کے طور پر اپنا عہدہ سنبھال لیا

اسلام آباد:جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے پاکستان کے 29ویں چیف جسٹس کے طور پر اپنا عہدہ سنبھال لیا۔بطورِ چیف جسٹس ، پاکستان میں کئی نامور افراد گزرے ، جنہوں نے اپنی اپنی سمجھ اور شعور کے مطابق فیصلے کیئے مگر تاریخ سوائے چند فیصلوں کے کسی عہدیدار کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں رکھتی ۔

اُس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے عدالتی نظام پر عام آدمی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ، دنیا بھر کےنظام انصاف میں پاکستانی عدلیہ آخری نمبروں پر شمار کی جاتی ہے ۔سپریم کورٹ کے کئی جسٹس صاحبان نے مقبول فیصلے ضرور کیئے ، مگر ان کے ثمرات کسی خاص گروہ یا جماعت کے لیئے تھے ۔ جن کے ذریعے انصاف کی مسند پر بیٹھی شخصیات کو وقتی شہرت تو ضرور ملی مگر عوام اور نظامِ انصاف کے حالات نہیں بدل سکے ۔

ایسے نام کہیں گم ہو چکے ہیں اور پاکستان کی عدالتی تاریخ کسی کو بھی سنہرے الفاظ میں یاد نہیں کرتی ۔موجودہ حالات میں جہاں پاکستان کو کئی محاذوں پر مسائل اور مشکلات کا سامناہے، وہیں عدالتی نظام بھی بدترین حالات کا شکار ہے ۔ نو منتخب شدہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو چاہیے کہ اب نظام انصاف کے ترازو کولگا زنگ اتار دیں ، ظالم کی بجائے مظلوم کے لیئے فیصلے کریں ، نظام انصاف کی سست روی ختم کریں ، عدالتی نظام اور اس سے جڑے مسائل اور انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کریں ۔

عام عوام کو ریلیف دینے کے لیئے اقدامات کریں ۔ عدالتوں کو اب اشرافیہ کی بجائے غریبوں کی داد رسی کرنا ہوگی۔ یہی چیف جسٹس صاحب کی پہلی کوشش ہونی چاہیے اور یہاں ہی ان کا امتحان بھی ہے ۔ بیاد رکھیں ، مقبول فیصلے شاید وقتی فائدہ پہنچاتے ہوں مگر تاریخ ایسے کرداروں کو کبھی اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرتی ۔

Comments are closed.